Baseerat Online News Portal

رمضان المبارک :رحمتوں برکتوں کا موسم بہار

حافظ محمد امتیاز رحمانی
جامعہ رحمانی ،خانقاہ ،مونگیر
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رمضان شریف کے روزوں کو فرض کیا اور جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی فرضیت کے متعلق بار بار تاکید فرمائی، حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ رمضان آگیا، یہ مبارک مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس مہینہ میں روزے فرض کیے ، اس مہینے میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں،اور سرکش شیاطین کے گلے میں طوق پہنایا جاتا ہے، اس مہینہ میںایک رات ہے جو ہزار مہینوںسے بہتر ہے۔جو شخص اس رات کے خیر سے محروم کردیاگیا، وہ ہر خیر سے محروم کردیا گیا، یعنی اسے سعادت سے کوئی حصہ نہیںنہیںملا(احمد ونسائی) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیااور فرمایا: اے ایمان والو ! بڑا مبارک مہینہ تم سے قریب آگیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس ماہ میں دن کو روزہ فرض کیا ہے، اور زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے رات کو نمازوں (تراویح وتہجد)کو پسند فرمایا، اس مہینہ میں اگر کوئی نیک کام کیا جائے، تو اس کا ثواب فرض کی ادائیگی کے برابر ملے گا، اور اگر کوئی فریضہ ادا کیا جائے گا تو اس کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ملے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ یہ صبراور غمخواری کامہینہ ہے، اس میںمؤمن کی روزی بڑھادی جاتی ہے(مشکوٰۃشریف) اس لیے ہر مسلمان کو چاہئے کہ پورے ذوق وشوق کے ساتھ دن میں روزہ رکھے اور رات کو تراویح وتہجد پڑھ کر حق تعالیٰ سے نزدیکی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور روزہ، افطار، سحری، تراویح، اعتکاف، تہجد کے مسائل معلوم کرے اور پوری احتیاط کے ساتھ رمضان کے مہینہ کو عبادتوں اور ریاضتوں میں گذار کر نیکیوںکے اس موسم بہار میں اپنے دامن میںخوب نیکیوں کوسمیٹے۔
روزہ کی نیت روزہ کی نیت رات ہی کو کرلینی چاہئے، اگر بھول جائے تو نصف النہار شرعی سے پہلے تک بھی کرسکتا ہے، روزہ کی نیت ان الفاظ سے کرے۔ بِصَوْمِ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ الْمُبَارکِ (ترجمہ) میںکل کے روزہ کی نیت کرتا ہوں، اپنی مادری زبان میںبھی نیت کرلے تو درست ہوگا، زبان سے کہے نہ کہے دل میںکہے، جب بھی نیت ہوجائے گی۔
سحری کھا نامستحب ہے، کچھ تھوڑا سابھی کھا لیناچاہئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوںمیںیہی فرق ہے، ہم سحری کھاتے ہیں، اور وہ نہیںکھاتے(مسلم شریف)٭ روزہ داروںکو چاہئے کہ اخیر وقت میں سحری کھائیں اور سورج ڈوبتے ہی افطار کریں۔
افطار کی دعاء افطار کرتے وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب ذیل دعاء پڑھا کرتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ(ابو دائود) (ترجمہ) اے اللہ میںنے تیرے لیے روزہ رکھا، اور تیری ہی دی ہوئی روزی سے میںنے افطار کیا٭ اور افطار کے بعد یہ دعاء پڑھ لے تو بہتر ہے۔ ذَھَبَ الظَّمَائُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْشَائَ اللّٰہُ (ترجمہ) پیاس دور ہوگئی، رگیںتر ہوگئیں، اور انشاء اللہ اجر ثابت ہوگا۔
تراویحجس رات کو رمضان المبارک کاچاند دیکھا جائے، اسی رات سے تراویح شروع کردی جائے اور پورے مہینے پڑھی جائے٭ تراویح عورت اور مرد دونوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے، نہ پڑھنے سے مرد او رعورت دونوں گنہگار ہوںگے٭ تراویح بیس رکعت دس سلام سے پڑھنا چاہئے اور ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر بیٹھنا مستحب ہے، جتنی دیر میںچار کعتیں پڑھی ہیں۔بیٹھ کر تسبیح پڑھے، قرآن پڑھے یا حسب ذیل دعاء پڑھے۔ سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزََّّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْھَیْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْجَبَرُوْتِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِْیْ لَایَنَامُ وَلَایَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ ٭ تراویح میںقرآن کاایک ختم کرنا سنت ہے اور دو ختم کرنا فضیلت ہے٭ رمضان شریف میں وتر کی نماز جماعت سے پڑھنا افضل ہے،دوسرے دنوںمیںوتر کی جماعت مکروہ ہے۔
تہجد تہجد کی نماز کا اجر وثواب بھی بہت زیادہ ہے، تہجد کی نماز آٹھ رکعت چار سلام سے پڑھنی چاہئے۔
شب قدر شب قدر کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے اور اسے ہزار مہینوںسے بہتر کہا گیا ہے٭ شب قدر اخیر عشرہ کی پھوٹ راتوںمیںسے کسی ایک میں ہوتی ہے، مسلمانوںکو چاہئے کہ ۲۱، ۲۳، ۲۵،۲۷، ۲۹ رمضان کی راتوں میںشب قدر کو تلاش کریں اورزیادہ سے زیادہ عبادت کریں، مشہو رہے کہ ۲۷؍ کی شب ،شب قدر ہوتی ہے ۔
اعتکاف رمضان کے آخر عشرہ میں اعتکاف کرنا مسنون ہے٭ مسجد میں اعتکاف کی نیت سے رہنا اعتکاف کہلاتا ہے، جس میںکسی اہم دینی او ردنیوی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہرنکلنا درست نہیں، یعنی پیشاب پاخانہ کے لیے باہر جائے گا، اگر کوئی انسان کھانالانے والا نہ ہوتو کھانالانے کے لیے باہر جائے گا، اگر اس مسجد میںنماز جمعہ نہ ہوتی ہوتو دوسری مسجد میںجمعہ پڑھنے کے لیے جائے گا٭ اگر محلہ یا گائوں کی مسجد میں کسی نے اعتکاف نہ کیا تو سبھوں پر سنت کے چھوڑ دینے کا گناہ ہوگا۔
صدقۂ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے، جس کے پاس ضروریات زندگی کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت بھر روپئے ہوں، یا زیور یا جائداد یا تجارت کا مال یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اسی قدر وزن کی اشرفیاں یا زیور ہوں، یہ ضروری نہیںکہ اس پر سال بھر گذرگیا ہو٭ اگر کوئی اتنا مقروض ہو کہ ادائیگی کے بعد مذکورہ بالا نصاب باقی نہ رہتا ہو تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہ ہوگا٭ صدقۂ فطر اپنی طرف سے اوراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے٭ صدقۂ فطر انہیںکو دیا جائے گا جنہیںزکوٰۃ دی جاسکتی ہے، غیر مستحق یا غیرمسلموںکو دیا گیا تو صدقۂ فطر ادا نہ ہوگا٭ صدقۂ فطر کی احتیاطی مقدار فی کس ایک کیلو چھ سو اکیانوے گرام گیہوںیا اس کی قیمت ہے، جو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا چاہئے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like