Baseerat Online News Portal

کیا کبھی کامیاب ہوگابھارت کو ہندوراشٹر بنانے کا بھگوا منصوبہ ؟

غوث سیوانی،نئی دہلی
بھارت ہندو راشٹر بننے کی راہ پر ہے؟کیا اب یہاں غیر ہندو وں کا رہنا ناممکن ہوجائے گا؟ کیا اب پچیس کروڑ سے زیادہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا؟ کیا اکیسویں صدی میں یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو ملک بدر کیا جاسکے؟ کیا بھارت میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی تیاری ہے؟ کیا آر ایس ایس اور دو پاکستان بنانا چاہتا ہے؟ آج ان سوالات کی ضرورت اس لئے پڑی کہ سنگھ پریوار کے لوگ جہاں ایک طرف ہتھیاروں کی ٹریننگ لے رہے ہیں وہیں تبدیلیٔ مذہب کے ایشو کو طول دے رہے ہیں اور کھلے عام اعلان کر رہے ہیں کہ دسمبر ۲۰۲۱ء تک وہ بھارت کو مسلمانوں اور عیسائیوں سے خالی کرالیںگے اور اسے ہندو راشٹر بنا کر دم لیںگے۔ اس قسم کی باتیں کوئی نئی نہیں ہیں بلکہ سنگھ کے لیڈران اور نظری ساز پہلے بھی کہتے اور لکھتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میںخبریں
آرہی ہیں کہ وشو ہندو پریشد ،وزیر اعظم مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس میں ہندوخواتین کو اسلحے کی ٹریننگ دے رہا ہے۔ اس سے پہلے ایودھیا میں بجرنگ دل کے ٹریننگ کیمپ کا ویڈیو سامنے آیا تھا۔ وارانسی کے وی ایچ پی دفتر کے قریب بھارتی ودیا مندر نامی اسکول میں چلے ٹریننگ کیمپ میں 11 اضلاع کی 100 لڑکیاں اور خواتین شامل ہوئیں۔ ٹریننگ کیمپ کی منتظم کملا مشرا کا کہنا ہے کہ ’’اس ٹریننگ کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کو خود کفیل بنانا اور دہشت گردوں سے لوہا لینا ہے۔خواتین کو یہ ٹریننگ اس لئے بھی دی جا رہی ہے، کیونکہ دہشت گرد ،خواتین کے ہاتھوں نہیں مرنا چاہتے ہیں۔ ٹریننگ کے لئے پیشہ ورانہ ٹرینر لگائے گئے تھے۔گن چلانے کی ٹریننگ لے رہی مونی نے بتایا کہ وہ یہ ٹریننگ گھر والوں کی اجازت سے لے رہی ہے تاکہ اس کے بعد وہ اپنے گاؤں پہنچ کر اور بھی لوگوں کو سکھا سکے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی سنگھ پریوار کی کسی تنظیم کی طرف سے ہندووں کی مسلح تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی وشوہندو پریشد کی طرف سے ہندو لڑکوں، لڑکیوں کو اسلحے کی تربیت دی جاتی رہی ہے اور اس پر حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہورہاہے وہ کس لئے ہورہاہے؟ کیا ہمارے ملک کی پولس، فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں پر سنگھ پریوار کو بھروسہ نہیں ہے یا یہ سب ہندوراشٹر کی تیاری ہے؟ جس کا وعدہ سنگھ پریوار کی طرف سے کیا جاتا رہاہے۔وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی سرکار کی طرف سے کہا جارہاہے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ مگر کسی کو اس نعرے پر بھروسہ نہیں اور اگر کچھ لوگ نعرے کے جھانسے میں آگئے ہوں تو مودی سرکار کے دوسال بیتنے کے بعد ان کی غلط فہمی یقینی طور پر دور ہوگئی ہوگی۔
مسلمانوں سے خالی، ہندوستان
چند مہینے قبل کی بات ہے کہ آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم دھرم جاگرن سمیتی کی یوپی شاخ کے صدر رجیشور سنگھ نے اعلان کیا کہ بھارت کو ۲۰۲۱ء کے اخیر تک مسلمانوں اور عیسائیوں سے خالی کرالیا جائے گا اور یہاں ایک بھی مسلمان یا عیسائی باقی نہیں بچے گا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں جتنے بھی مسلمان یا عیسائی ہیں وہ پہلے ہند وتھے اور انھیں جبراً مسلمان یا عیسائی بنایا گیا ہے لہٰذا انھیں گھر واپسی کرنی پڑے گی یعنی دوبارہ ہندو بننا پڑے گا۔اس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایٹہ ، علی گڑھ،اور مغربی اترپردیش کے بڑے حصے میں ہندووں کو زبردستی مسلمان اور عیسائی بنایا گیا تھا۔ یہی بات بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اورنگ زیب کے عہد میں مغربی یوپی میں بہت سے ہندووں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا تھا۔ ادھر وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کا کہنا ہے کہ یہاں کے مسلمان اصل میں ہندو ہیں اور انھیں جبریہ طور پر مسلمان بنایا گیا تھا۔ وہ بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بتاتی ہے کہ اس کا خاندان چند دہائی قبل تک ہندو تھا۔ چمپت رائے کے مطابق ’’گھر واپسی‘‘پروگرام ملتوی نہیں کیا گیا ہے ہوگا اور مشرقی اترپردیش کے کئی ضلعوں میں بھی ہوگا جس میں سینکڑوں مسلمانوں اور عیسائیون کو ہندو بنایا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وشو ہندو پریشد اس پروگرام کو ایک مدت سے کر رہی ہے اور اس سلسلے میں الٰہ آباد کے مہاکمبھ میں ۱۹۶۶ء میں ایک قرار داد پاس کی گئی تھی تب سے یہ سب چل رہا ہے۔ اس کے مطابق ۱۹۶۶ء سے اب تک چھ لاکھ لوگوں کو ہندو بنایا جاچکاہے۔اس معاملے میں آر ایس ایس کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم نے سبھی اضلاع میں تبدیلیٔ مذہب کے لئے کمیٹیان بنائی ہیں ۔ ہمارے لوگ ایسے لوگوں کی پہچان کر
رہے ہیں جنھیں ہندو بننے کے لئے راضی کیا جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے لئے انپڑھ ، جاہل اور غریب لوگوں کی تلاش کی جارہی ہے اور ان کے بیچ کام کیا جارہا ہے ۔سنگھ کے لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم نے آریہ سماج کے پجاریوں سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہوا ہے جو تبدیلی ٔمذہب کا سرٹیفکٹ ایشو کرتے ہیں۔ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اس ایشو میں ان کے ساتھ ہیں؟ اس سوال پر سنگھ لیڈر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ایشوز کے لئے ہم ان سے اجازت نہیں لیتے ہیں اور ان کی خاموشی کا مطلب ہے کہ وہ رضامند ہیں۔
محبت کا جواب نفرت سے
تبدیلیٔ مذہب آر ایس ایس کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے اور وہ کسی بھی حال میں اسے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اسے مسلمانوں سے زیادہ عیسائیوں سے خوف ہے کیونکہ اسلام میں داخل ہونے والے ، اسلام کا مطالعہ کر کے داخل ہوتے ہیں مگر عیسائی مشنریاں باقاعدہ اس کے لئے کام کرتی ہیں اور ہر سال ہزاروں آدیباسی ،دلت اور غریب عیسائی بن جاتے ہیں۔ وہ اسپتال چلاتی ہیں، اسکول چلاتی ہیں، فلاحی مراکز چلاتی ہیں اور اس کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ کرتی ہیں۔آر ایس ایس خود یہ سب نہیں کرسکتا اور محبت کے پیغام سے دنیا کو متاثر نہیں کرسکتا تو اسے روکنے کے لئے کوشاں ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جس طرح سے ملک میں عیسائیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہندو عیسائی بن رہے ہیں ، اس سے یہ اندیشہ پیدا ہوچلا ہے کہ مستقبل میں ہندووں کی تعداد گھٹ جائیگی۔ اسے اس بات کا بھی خوف ہے کہ ہندووں میں شکم مادر میں لڑکیوں کے قتل کا رواج بڑھ رہا ہے اور جو لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور پڑھ لکھ لیتی ہیں ان میں سے کچھ مسلمان لڑکوں سے شادی کرنے میں دلچسپی دکھاتی ہیں۔ آج بھی نامور مسلمانوں کی بیویاں ایسی ہی ملیں گی۔ یہی وہ اسباب ہیں جن سے گھبراکر آر ایس ایس پڑے پیمانے پر تبدیلیٔ مذہب کا پروگرام چلانا چاہتا ہے۔ اس میں سبھی سنگھی تنظیمیں اس کا تعاون کر رہی ہیںلیکن دھرم جاگرن سمیتی سامنے رکھا گیاہے کیونکہ اس کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے۔ تبدیلی ٔ مذہب کے نام پر ہوّا کھڑا کرکے سنگھ پریوار ہندووں کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی اب تک کی پالیسیاں اسی قسم کی رہی ہیں اور ہمیشہ دیکھا جاتا رہا ہے کہ ہندووں کے ووٹ لینے کے لئے ان کے اندر مسلمانوں کا خوف پیدا کیا جاتا رہا ہے۔ اس بار یہ خوف تبدیلیٔ مذہب کے نام پرپیدا کیا جارہا ہے۔ تبدیلیٔ مذہب کے علاوہ ہتھیاروں کی ٹریننگ کا مقصد بھی ملک میں دہشت پھیلانا ہے۔ یوں تو کہا جاتا ہے کہ ٹریننگ کا مقصد دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا ہے مگر حقیقتاً اس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ہندووں کے اندر نفرت پھیلائی جاتی ہے اور یہ جتانے کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں لہٰذا ان کے خلاف تربیت ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ہندوراشٹر کے اقدام ہیں۔
بھارت میں اسلام اور عیسائیت
سنگھ پریوار کا مشہور نعرہ ہے ’’ہندی، ہندو، ہندواستھان‘‘ آج اس کی سرکار ہے تو اسے لگتا ہے کہ اپنے اس نعرے کو عملی شکل دیا جائے۔ یہ نعرہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ اس کے وجود کا مقصد ہے۔ وہ نوے سال سے اسی مقصد کے لئے تو جدوجہد کرتا رہا ہے۔ اس نے جرمنی کے ہٹلر سے سبق سیکھا ہے اور اسرائیل کے صہیونیوں سے رابطے میں ہے۔ اس کے لوگوں نے اسپین کی تاریخ کو بھی اسی لئے پڑھا ہے تاکہ اس بات کو سمجھا جاسکے کہ اسپین سے مسلمانوں کا وجود کیسے ختم کیا گیا۔ اس نے حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور
اب وہ چاہتی ہے کہ اس ملک کو خالص ہندو راشٹر بنائیں، مگر کیا یہ ممکن ہے؟ اس ملک میں کرورڑوں کی تعداد میں مسلمان اور عیسائی رہتے ہیں اور ان کے رہتے ہوئے کیا یہ ممکن ہے کہ بھارت ہندو راشٹر بن جائے؟ جس ملک کی مٹی میں ہی سیکولر ازم، قومی یکجہتی اور بھائی چارہ کی خوشبو شامل ہے، کیا اسے ہندو راشٹر بنانا ممکن ہے؟ ہندوستانی تاریخ گواہ ہے کہ آریہ بیرون ملک سے آئے تھے اور یہاں کے اصل باشندوں کو غلام بنا لیا تھا ۔ آریہ نے خود کو اونچی ذات میں رکھا تھا اور یہاں کے اصل باشندوں کو شودرقرار دیا تھامگر بھارت کے مسلمان کہیں باہر سے نہیں آئے ہیں۔ وہ اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ ان کے اجداد تب سے یہاں رہ رہے ہیں جب آریوں نے بھی قدم نہیں رکھا تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت پست ذاتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی ذات کے استحصال سے پریشان تھے۔ انھیں مندروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی مگر اسلام آیا تو اپنی مساوات کی تعلیم کے سبب عوام میں مقبول ہوگیا۔ ایک شودر جسے اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ مندر میں داخل ہو اور کنواں سے پانی بھرلے، اسے اسلام اس بات کی اجازت دیتا تھا کہ وہ ایک بادشاہ کے ساتھ کھڑا ہوکر نماز ادا کرسکے۔ صوفیہ اپنے کردار سے اسلام کو مجسم صورت میں پیش کر رہے تھے جن کی خانقاہوں میں ایک دلت بھی کسی رئیس کے ساتھ بیٹھ کر ایک پلیٹ میں کھانا کھاسکتا تھا۔ اسلام کی خوبیوں نے اسے اس ملک میں مقبول بنایا اور برصغیر میں کروڑوں افراد اسلام کے شیدائی بن گئے۔ اسی طرح بھارت میں انگریزوں کی آمد کے ساتھ یہاں عیسائیت کو فروغ شروع ہوا اور آج جو لوگ عیسائیت قبول کرتے ہیں وہ ان کی خدمت خلق سے متاثر ہوکر کرتے ہیں۔ مذہب کسی پر زبردستی نہیں لادا جاسکتا اور اگر لادا گیا ہوتو وہ زیادہ دن نہیں چل سکتا ہے۔
کیا مسلمانوں کا بھارت سے خاتمہ ممکن ہے؟
آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ ہزاروں فسادات ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کی جانیں گئیں۔ دودھ پیتے بچوں کو ذبح کیا گیا۔ مائوں کے پیٹ چیر کر جنین کو مارا گیا۔ معصوم بچوں کو چلتی ٹرینوں سے پھینکا گیا۔ ان کی مسجدوں پر قبضہ کیا گیا اور بت کدے میں تبدیل کیا گیا۔ انھیں مساوی سیاسی اور سماجی حقوق نہیں دیئے گئے مگر ان مصیبتوں سے گھبرا کر کوئی مسلمان آج تک ہندو بنا؟ پورے ملک میں ایک ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔ ایسے میں یہ سوچنا کہ بھارت کے مسلمانوں سے ان کا ایمان چھین لیا جائے گا، ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو مصائب ہم نے ۶۹ برسوں میں جھیلے ہیں اگر کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی موم ہوجاتا مگر مسلمان اپنے کردار وعمل میں لاکھ اچھے نہ ہوں مگر ایسے بھی نہیں کہ سنگھ پریوار کی گیدڑ بھبکیوں کے سبب وہ اسلام سے دست بردار ہوجائیں۔ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ، آج تک کتنے مسلمان ہندو بن گئے؟ مرادآباد،میرٹھ اور ملیانہ میں مسلمانون کا قتل عام کیا گیا ، کیا کوئی مسلمان ہندو بنا؟ ممبئی میں بار ہا مسلم کش فسادات ہوئے اور کشتوں کے پشتے لگے مگر کتنے مسلمان ہندو بن گئے؟بہار شریف، جمشید پور اور بھاگلپورمیں مسلمانوں کے خون کی ندیابہیں مگر کتنے مسلمانون کے اسلام سے انحراف کا راستہ اختیار کیا؟اس لئے سنگھ پریوار کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کی دھمکیاں فضول ہیں۲۰۲۱ تک توکیا اس ملک سے ۲۰۰۲۱ء تک بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ البتہ ہمیں یہ یقین ہے کہ بی جے پی نے اگر لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل کرلیا تو وہ ملک کو قانونی طور پر ہندوراشٹربنانے کی کوشش
ضرور کرے گی۔ (یو این این)

You might also like