Baseerat Online News Portal

محمد علی کلے: عظیم باکسر ہی نہیں،ایک عظیم انسان ،مبلغ اسلام بھی تھے

جنہوں نے،سب سے بڑے دہشت گرد امریکہ کی بربریت پر سر نہ جھکایا
عظیم باکسر ہی نہیں،ایک عظیم انسان ،مبلغ اسلام بھی تھے
سمیع احمد قریشی
محمد علی کی شخصیت مین نمایاں خصوصیات رہی ہیں-بیسویں صدی کے اک عظیم باکسر کھلاڑی شہری حقوق کے لئے لڑنے والے،رنگ نسل بھید بھائو کے خلاف باعمل مجاہد تھے-نمایاں مبلغ اسلام ،تاریخ ساز شخصیت تھے-ان کی انتقال کی خبر انسان کے برداشت سے باہر تھی-ایک دنیا انہیں خراج عقیدت پیش کر رہی ہے-بلاء شبہ وہ ایک شہرہ آفاق شخصیت کے مالک رہے-اپنی باکسنگ اپنی سوچ وفکرو عمل سے وہ اک دنیا کے دلوں میں جگہ بنائی -آج ان کی رحلت پر باکسر ،کھلاڑی ہی نہیں انسانی حقوق انسانی اقدار پر کام کرنے والی عالمی شخصیات، ادارے ،انجمنوں کے ساتھ ساتھ متعدد ملکوں کے سربراہان، حکمران وغیرہ بھی شامل ہیں- مرحوم محمد علی کو مرحوم لکھتے ہوئے بھی کلیجہ منہ کو آتاہے-ان کی رحلت انسانیت کا عظیم ترین نقصان ہے-
محمد علی 1942 کو امریکہ میں عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے-کم عمری میں 1960 کے عالمی اولمپک میں انہوں نے،باکسنگ کے ایک مقابلہ میں کامیابی حاصل کر کے پہلی بار سونے کا گولڈ میڈل حاصل کیا- جب امریکہ آئے-ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا-محمد علی،پہلے ان کا نام کیسس کلے اوروہ نیگرو تھے-اپنے ملک امریکہ سے محبت تھی-ایک نامی باکسر اور کھلاڑی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے ملک امریکہ کا نام اونچا کیا-اس کے باوجود،رنگ ونسل ،جاتی بھید کی بنائو پر محمد علی تک سے،اپنے آپ کو اعلی اقدار کا حامل امریکی سماج میں،رنگ نسل کے نام پر تضحیک ،بھید، بھاو ، ذلالت کی گئی-وہ ملازمت کرنا چاہتے تھے-رنگ بھید کی بناء پر ان کو ملازمت نہیں مل سکی-انہوں نے بطور اجتجاج اپنا اولمپک میں ملنے والا اعزازی تمغہ دریا میں ڈال دیا-بلاء شبہ دنیاوی اعزازات سے بڑھ کر ،خود داری عزت نفس اور مساوات ایک انسان کے لئے ضروری ہیں –
محمد علی نے امریکہ جیسے انتہائی نام نہاد انسانی اقدار کے چمپئین ملک میں، جہاں،اونچ نیچ بھید بھاو رنگ ونسل ،تعصب عام تھا،1975 میں مذہب اسلام کو قبول کیا-وہ کیسس کلے سے محمد علی کلے بن گئے- وہ مذہب اسلام کے دل سے شیدا رہے وہ ایمان کامل والے بن گئے-وہ اللہ کی وحدانیت کے زبردست قا ئل تھے-وہ سمجھتے تھے کہ انسانی زندگی چار روزہ ہے- اللہ کی خوشنودی ہی بڑا اعزاز ہے -یہی ابدی طور پر باقی رہے گا-محمد علی کا قول تھاکہ ہم ایک زندگی رکھتے ہیں وہ جلد ختم ہو جائے گی-ہم اللہ کے لئے کیا کرتے ہیں وہ ہی ہمیشہ رہے گا–اللہ کی خوشنودی کے لئے وہ ہمیشہ سرگرداں رہے-وہ گفتار کے نہیں کردار کے غازی رہے-انسانی حقوق اور علمی امن کے وہ گویا ایک عالمی سفیر رہے-
وہ سب سے بڑا اعزاز اللہ کی خوشنودی کو سمجھتے رہے-جس پر وہ تا حیات قائم رہے-
جان دے دی اسی کی تھی
حق تو یہ ہی کہ حق ادا نہ ہوا
سالہا سال سے پوری دنیا میں دہشت غنڈہ گردی پر چلنے والی سپر طاقت امریکہ کو اسی ملک کا باشندہ شہری رہتے ہوئے للکارنا معمولی بات نہیں-اسلام جنگ وجدل کی تعلیم بالکل نہیں دیتا معصوموں پر ہاتھ اٹھانا اس کا شیوہ نہیں- اس سے زیادہ، آشتی ،امن ،عالمی بھائوچارہ اور کہیں نہیں-
محمد علی کلے اسلامی تعلیم پر عملی سطح پر گامزن تھے -وہ مبلغ اسلام تھے-امریکی حکومت ویتنام جیسے چھوٹے کمزور ملک پر دہشت اور جنگ جاری رکھے
تھی–امریکی فوج کے ہاتھوں سالہا سال سے بے انتہا معصوموں پر طلم و ستم کا بازار گرم کئے تھی-مذہب اسلام اس کی اجازت نہیںدیتا-اسی لئے،محمد علی اس کے خلاف تھے- اسلام کی تعلیمات انہیں اس بات کی اجازت دیتی تھی کہ ظالم کی مدد کریں –محمد علی ویتنام میں امریکی کی جنگ کے خلاف تھے-امریکی حکومت انہیں فوج میں شامل کر کے ویتنام کے جنگی محاذ پر بھیجنا چاہتی تھی-انہوں نے اس کا کھلم کھلا انکار کیا- ایک عالمی سپر پاور امریکی حکومت کا انکار، کسی بڑی سزا و ہزیمت میں مبتلا ہونے کی دعوت کے مترادف تھا-مگر
آئین جواں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روبائی
جو اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوا کرتے ہیں-وہ پھر وقت کی بڑی سے بڑی شیطانی طاغوتی طاقتوں سے نہیں ڈرا کرتے-محمد علی کے سارے اعزازات چھن جانے اور اس کے ساتھ داخل اندوں ہونے کا خطرہ،امریکی حکومت کے انکار کی بناء پر،سر پر کھڑا تھا-مگر ایک خدا کے آگے جھکنے والا شیطانی و طاغوتی قوتوں کے آگے جھک نہیں سکتا-آخر کو محمد علی کلے نے امریکی فوج میں بھرتی ہونیکے سرکاری فرمان کی مخالفت کردی-ان کے سارے اعزازات چھین لئے گئے-پانچ سال کی سزا ہو گئی-مگر امریکی سپریم کورٹ یعنی سب سے بڑی عدالت نے محمد علی کلے کو دی گئی سزاوں کو ختم کر دیا-جابر امریکی حکومت کے خلاف محمد علی کلے کی لڑائی ،حق و باطل کی لڑائی تھی-محمد علی حق پرتھے-ان کو کامیابی اور باطل امریکہ کو ہارہوئی -وہ فوج میں بھرتی سے مستنشی قرار دے دئیے گئے-ان کے تمام اعزازات ان کو واپس کر دئیے گئے-
محمد علی نفس کے اسیر غلام نہ تھے-جھوٹی شہرت کے دلدادا نہ رہے- امریکہ کی ایک نامی عالمی سماجی تنظیم متعدد شعبہ زندگی میں نمایاں کاکردگی بتلانے والوں کو اعزازات دیا کرتی ہے-جنکو اعزازات دیتی ہے ان کے نام وہاں ایک مخصوص زمین کے حصہ پر لکھ دئیے جاتے ہیں-محمد علی کلے نے وہ اعزاز لینے سے انکار کر دیا-محمد علی کلے،زمین پر لکھنا،نام کی بے حرمتی نہیں تو کیا ہے؟وہ دنیاوی شہرت سے پرے تھے- محمد علی کلے نے اعزاز کو ٹھکرا دیا –وہ محمد علی نام کی عظمت کو سمجھتے تھے–وہ لفظ محمد علی کے نام کی عظمت کے لئے جان دینے والوں میں تھے اورجان نثاران محمد صلی اللہ علیہ و صلعم میں تھے – نام محمد ﷺپر اپنا سب کچھ لٹانے والوںمیں تھے- آخر کوعالمی سماجی تنظیم نے اونچی دیوار پر محمد علی کلے کا نام لکھنا منظور کیا-جو محمد علی کلے کو منظور رہا-اس طرح محمد علی کلے نے اعزاز لیا-محمد علی کلے کی شخصیت کسی بھی دنیاوی اعزاز ایوارڈ سے بہت اونچی رہی-یہ کسی بھی ایوارڈ کے لئے اہمیت و افادیت کی بات تھی کہ وہ محمد علی کو دیا جائے-نہ کہ محمد علی کے لئے-
باکسنگ میں ایک کے بعد اک متعدد مقابلوں میں کامیابی نے محمد علی کو، پوری دنیا میں بے انتہا سرکاری مستند اعزازات کے ساتھ بے انتہا شہرت کی بلندی پر پہونچا دیا-وہ بیسویں صدی کے عظیم کھلاڑی کہلائے مگر یہ سب کچھ دنیا کا حاصل نہیں
دنیا میں انسانی اقدار کا فروغ ہو ،اس کے لئے محمد علی کلے ،دم میں دم تھا عملی سطح پر شہری حقوق کے لئے سرگرداں رہے-وہ چاہتے تو مزید باکسنگ سے منسلک رہ کر دولت کماتے-جب وہ باکسنگ کر رہے تھے،ابھی اس سے سبکدوشی بھی نہیں لی تھی -انسانی اقدار،شہری حقوق کی خاطر کام کرنے لگے- 1982 کو انہوں نے باکسنگ سے الوداع لے لیا- مبلغ اسلام بن گئے-آج تک کھلاڑی رہتے ہوئے کسی بھی کھلاڑی نے ایسا اس قدر سماجی اقدار کے لئے کام کیا ہو-جتنا محمد علی کلے نے کیا-آج محمد علی کلے دنیا میں نہیں رہے، یقینا اللہ کے پاس باطل و ظالم حکمرانوں کے سامنے،حق گوئی اور انسانی حقوق اقدار پر بے لوث خدمات کا صلہ پا رہے ہوں گے- اللہ اپنا وعدہ سچ کر دکھاتا ہے-
محمد علی کلے کے تعلق سے بے انتہا باتیں ہیں، دنیا مین ان کو بے شمار پیار ومحبت دیا،یہ آج تک کسی بھی کھلاڑی کو نصیب نہیں-لوگ محبت سے کہتے
ہین محمد علی کلے جیسا کوئی دوسرا نہیں ہو گا-
وہ لمحہ کتنا یادگار تھا جو محمد علی کلے کی عظمت اوران کے ارفع ہونے کا بے بانگ ودہل اعلان کر رہا تھا-1985میں انہوں نے باکسنگ کو خیر باد کر دیا تھا- مگر ان کی باکسنگ اور سماجی اوصاف کی ہی دین، اقرار و اعتراف تھا کہ 1996میں امریکہ کے اولمپک مقابلہ کی افتتاحی تقریب،محمد علی کلے کے ہاتھوں سے شمع جلا کر کی گئی-وہ پوری دنیا میں محمد علی کلے کا اونچا اعلی ہونے کاثبوت ہے-پوری دنیا میں ٹی وی اور اسٹیڈیم میں محمد علی کو اولمپک کی شمع روشن کرتے ،عوام نے دیکھا تو فرط مسرت سے جھوم گئے-علی علی ، علی دی گریٹ کی آوازین بلند ہوئیں -کیا اولمپک کمیٹی کو محمد علی کلے کے سواء اور کوئی شخصیت نہ تھی کہ اولمپک کی شمع اس کے ہاتھوں سے روشن کراتے؟محمد علی کی شہرت اور بلندی کا جادو تھا کہ ان کے باکسنگ،کھیل سے سبکدوشی کے باوجود بھی،شمع روشن کرنے کے لئے بلایاگیا- اسی کے ساتھ ،انہیں وہ تمغہ جو انہوں نے 1960 میں اولمپک کھیلوں میں حاصل کیاتھا جسے انہوں نے ،نسل رنگ بھید کی بناء پر ایک دریا میں پھینک دیا تھا–اولمپک کمیٹی نے پھر انہیں پھر سے دیا- ،محمد علی کلے نے یقینا ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ،باکسنگ کی دنیا میں لامتناہی تاریخ ساز ریکارڈ بنائے- اسے ہم دنیاوی ریکارڈ ہی کہہ سکتے ہیں مگر انسانی اقدار پر ان کا سماجی کارڈ،ہمیشہ ہی مشعل راہ بنا رہے گا-گا- اللہ کی خوشنودی کا باعث بنا رہے گا-محمد علی کلے نے بے انتہا انسانی اقدار پر کام سالہا سال کئے-یہ کارگذاریاں خالی نہیں جائیں گی-
اللہ تعالی قرآن میں فرماتاہے-
بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کئے،تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے-سورہ کہف -30
محمد علی کے انتقال پر دنیا کے سرکردہ افراد کے تبصرے محمد علی کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہیں -جو درج ذیل ہیں-
ہم خدا کاشکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں محمدعلی کو جاننے کا موقع ملا-چاہے ان کے ساتھ یہ موقع ایک لمحہ کے لئے رہا-ہم اسے خدا کی طرف سے اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں کہ اس نے اس عظیم کھلاڑی کو ہماری زندگیوں،ہمارے وقت میں بھیج کر ہمارے درد کو جلا بخشی-
اب کوئی دوسرا محمد علی نہ ہو گا
وہ نسلی امتیاز کو ختم کرنے میں نمایاں تھے ، نیلسن منڈیلا کنگ لوتھر جیسے سیاہ فام اعلی لیڈروں کی صف میں کھڑے ہیں-
محمد علی گذشتہ صدی کے عظیم ترین کھلاڑی اور ایک عظیم انسان تھے،جنہوں نے باکسنگ کے کھیل کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب اور جنگوں کے خلاف اور سیاہ آبادی کے لئے برابری کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے کارکن کی شکل میں بھی بے مثال خدمات انجام دیں تھیں. محمد علی نے کھیل، نسل، رنگ بھید سبھی کو مات دی –
یہ کہنا مشکل ہے کہ محمد علی کلے عظیم باکسر تھے یا ایک عظیم انسان،انہوں نے باکسنگ ہی کو پہچان نہیں دی بلکہ انسانی اقدار کو تقویت دی، وہ بھی جان جوکھم میں ڈال کرانسانیت کی شمع روشن کرنے والوں میں تھے-ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم نے محمد علی کے دور کو دیکھا-
یہ کس قدر اہم بات ہیکہ محمد علی نے کھیل کی دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی- مگر زندگی کو کھیل کھلونا نہ سمجھا-ان کا قول یہ قول بلاشبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے- ہم اک زندگی رکھتے ہیں-یہ جلد ختم ہوجائے گی -ہم اللہ کے لئے کیا کرتے ہیں وہی ہمیشہ رہے گا-(یو این این)

You might also like