مضامین ومقالات

ساری غلطی جوش، جہالت اور نافرمانی کی نکلی

حفیظ نعمانی
حج کے بعد منیٰ کے پوری دنیا کو خوفزدہ کردینے والے حادثہ کے بارے میں ہم نے جو مضمون’کیسے کہیں کہ غلطی کس کی ہے؟‘ 26 کو لکھا تھا اور جو لکھنؤ کے اودھ نامہ میں 27 ستمبر کو چھپا تھا پھر وہی مضمون ملک کے دوسرے صوبوں میں کہیں 28 اور کہیں 29 کو چھپا اس میں یہی لکھا تھا کہ جو کچھ ہوا اور صرف اس وجہ سے ہوا کہ عرفات اور مذدلفہ کے ارکان کے بعد جب حجاج کرام واپس آئے تو انہوں نے اپنے معلم کی ہدایات کی پابندی نہیں کی۔ 27 ستمبر کو پہلا جہاز حاجیوں کو لے کر لکھنؤ آگیا جس میں جناب رضوان احمد صاحب سابق ڈی جی پولیس اُترپردیش اپنی اہلیہ محترمہ اور فرزند فرحان احمد کے ساتھ حاجی ہوکر بخیر تشریف لے آئے اور انہوں نے فرمایا کہ پرُجوش حاجیوں کی وجہ سے بھگدڑ مچی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر ملک کے حاجیوں کو الگ الگ وقت میں کنکری مارنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ کچھ حاجی واپس اپنے کیمپ میں جانے کے بجائے شیطان کو کنکری مارنے کے لئے من مانے طریقہ سے چلے گئے رضوان صاحب نے بتایا کہ اس دن انتہائی شدید گرمی تھی۔ پروگرام کے مطابق حاجیوں اور من مانی کرنے والے حاجیوں کی اتنی بھیڑ ہوگئی کہ لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اور پھر کوئی جان بچانے کے لئے دوڑ پڑا اور یہی بھگدڑ ایسی بن گئی کہ ایک ہزار سے زیادہ حاجی شہید ہوگئے۔
رضوان صاحب کا بیان ہے کہ حکومت کے انتظامات میں کوئی کمی نہیں تھی ان کا ہر سطح پر اچھے سے اچھا انتظام تھا۔ اسی جہاز سے لکھنؤ کے جو دوسرے حاجی آئے ہیں ان میں حاجی امیر نے بتایا ہے کہ جس مقام پر بھگدڑ ہوئی اس روڈ پر ایران، افریقہ اور مراقش کے خیمے تھے۔ یہ بات سعودی ذرائع سے بھی معلوم ہوئی ہے کہ نائیجیریا (افریقہ) کے حاجی سرکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور یہی بات ہم نے لکھی تھی کہ وہاں جن کو کالے حاجی کہا جاتا ہے وہ کسی کی بات نہیں سنتے اور من مانی کرتے ہیں۔ سعودی حکومت کی طرف سے اپنی پولیس کو اور ہر سرکاری ملازم کو یہ ہدایت دیتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اپنا رویہ نرم رکھیں۔ کسی سپاہی کے ہاتھ میں ڈنڈے یا لاٹھی نہیں ہوتی۔ ہر ایک پیار سے بات کرتا ہے۔ بہت پرانی بات ہے ہم خود حج کے لئے گئے ہوئے تھے۔ حرم شریف کے صحن میں بیٹھے تھے ہمارے سامنے اگلی صف میں ایک کنبہ اور بیٹھا تھا جو وہیں کیلے کھاکر اپنی پشت کی طرف چھلکے پھینک رہا تھا۔ بعد میں وہ کاغذ بھی پھینک دیا جس میں دوسری کھانے کی چیزیں تھیں۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نماز میں ہم لوگوں کو سجدہ کرنا تھا ہم سوچ ہی رہے تھے کہ انہیں ٹوکیں اتنے میں ہی صفائی کا عملہ آیا پورا کوڑا ڈرم میں ڈالا زمین پر پوچھا لگایا اور کسی کو ایک لفظ کہے بغیر آگے بڑھ گیا۔
اسی طرح ایک بار عمرہ کے لئے پروردگار کی توفیق سے گئے ہوئے تھے۔ 27 ویں شب رمضان المبارک کا مہینہ۔ ہم مسجد نبویؐ میں تھے۔ ہمارے بیٹے نے کہہ دیا تھا کہ میں تین بجے آپ کو آکر لے جائوں گا وہ ایک موبائل دے گئے تھے کہ میں باہر آکر آپ کو اطلاع کردوں گا۔ قیام اللیل ختم ہونے کے بعد ہم باہر نکل آئے۔ دیکھا تو بے گنتی گاڑیاں تھیں اور ہر ڈرائیور ہارن بجا رہا تھا۔ وہیں پولیس والے بھی کھڑے تھے وہ ہر ایک کی خوشامد کر رہے تھے کہ گاڑی سے راستہ نہ روکو لیکن کوئی ایک ایسا نہیں تھا جس نے ان کی بات سنی ہو۔ پھر موبائل پر سگنل ہوا اور بیٹے نے کہا کہ ہم بہت پیچھے ہیں آپ وہیں کھڑے رہیں۔ ہم اپنے ملک کو یاد کرنے لگے کہ اگر یہاں کی پولیس ہوتی تو ڈنڈے مار مارکر گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیتی اور چالان بھی کردیتی۔
ہم اپنے مالک کے کرم سے گئے بھی کئی بار اور رہے بھی وہاں ایک بار سات مہینے لیکن کبھی نہیں اور کہیں نہیں دیکھا کہ پولیس نے کسی سے اونچی آواز میں بات کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے وہ تمام ملک جہاں انگریزوں کی وہ حکومت تھی جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور جو آج کامن ویلتھ کہلاتے ہیں وہاں کے ہر آدمی کی یہ فطرت ہوگئی کہ وہ ڈنڈے کی زبان سمجھتا ہے اب اگر سعودی حکومت یہ حکم دے دے کہ جو کوئی معلم کی ہدایت کے بغیر یا معلم کے مرشد کے جھنڈے سے الگ اپنے طور پر کہیں اکیلا یا دس بیس کا گروپ جاتا ہوا مل جائے تو انہیں مارو بھی اور بند بھی کردو تو ساری دنیا چیخ پڑے گی سعودی حکومت اللہ کے مہمانوں پر ڈنڈے برسا رہی ہے اور انہیں ذرا ذراسی حکم عدولی اور نافرمانی پر جیل میں ڈال رہی ہے جبکہ ان کا علاج صرف یہی ہے سعودی عرب میں بچے پولیس مین کو ماموں کہتے ہیں اور وہ بھی ان بچوں سے ایسا ہی پیار کرتے ہیں۔
ہمارے بیٹے شمعون نعمانی کے ایک پاکستانی دوست سرور جاوید کسانہ مدینہ میں ہی تھے ان کے بچے بیوی پاکستان میں تھے ماشاء اللہ بہت صحتمند سرکاری ملازم تھے اور 24 گھنٹے میں تین ڈیوٹیاں بدل بدل کر ہوتی تھیں۔ وہ ایک بار مشاعرہ سننے جدہ گئے اور وہاں سے وہ فجر کے بعد شروع ہونے والی ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لئے ہوا کی رفتار سے گاڑی بھگاکر جارہے تھے راستہ میں پولیس کو شبہ ہوا انہوں نے اگلی چوکی کو فون کردیا کہ اس نمبر اور اس رنگ کی گاڑی روک لو۔ اور وہ آگے روک لئے گئے۔ شبہ یہ تھا کہ وہ کوئی واردات کرکے بھاگ رہے تھے انہوں نے سچ بتا دیا کہ ڈیوٹی کی وجہ سے جلدی تھی۔ انسپکٹر نے گاڑی کی چابی لے لی اور حکم دیا کہ ان کو سلادو اور چھ گھنٹے کے بعد جگاکر انہیں چابی دے دینا۔ کسانہ نے جب خوشامد کی تو جواب ملا کہ تم وارداتوں کے جاگنے کے بعد آفس میں یا تو کام بگاڑوگے یا سوجائوگے۔ کام کرہی نہیں سکتے۔
یہ ہے سعودی عرب کی پولیس۔ دنیا کا وہ کون مسلمان ہے جس کو اس حادثہ سے ایسی تکلیف نہ ہوئی ہو جیسے مرنے والے سب ان کے عزیز تھے اور بیشک وہ ہمارے اور آپ کے ایمانی بھائی تھے۔ لیکن آئندہ جانے والے ہر حاجی کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ وہ اپنے معلم کی اطاعت کرے گا۔ ہندوستان ہو یا پاکستان ہو یا بنگلہ دیش ہر جگہ ایک ہی آواز ہے کہ مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ یہ ایسی بات نہیں ہے کہ اس سے انکار کیا جائے۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کوئی کسی کا حکم ماننے پر تیار نہیں ہے۔ اور یہ بات صرف مسلمانوں کی نہیں ہے ہم سے بہت کم تعداد میں سکھ ہیں کیا کوئی ان کا ایک لیڈر ہے؟ ہمارے ملک میں سب سے آسان کام پارٹی بنانا اور لیڈر بننا ہے وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، سکھ ہو اور ہندوئوں میں بھی چاہے جس ذات کا ہو۔ بہار میں پہلے ہی سے درجنوں پارٹیاں تھیں۔ اب الیکشن آیا تو نئی پارٹیاں اور بن گئیں پھر جس ایم ایل اے کو اس کی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا اس نے الگ اپنی پارٹی بنالی۔ یہی حال محاذ کا ہے کہ بہار میں چار محاذ لڑرہے ہیں۔
یہ تو خدا کی خدائی ہے کہ پوری دنیا میں دوسرا کعبہ نہیں بن سکا نہ دوسرا قرآن تصنیف ہوسکا اور نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کرنے والا یہ ہمت کرسکا کہ دوسرا کعبہ بناکر کھڑا کردے لیکن مسلمانوں میں ہی ایسے لوگ ہیں جو اپنی نماز الگ پڑھتے ہیں اور چھپ کر کچھ دوسرے کام بھی کرتے ہیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ روضہ اطہر پر اگر اتنی سختی نہ ہوتی تو خدا جانے وہاں کیسا شرک دیکھنے کو ملتا لیکن وہابی کہے جانے والے وہ مسلمان جو ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا کرتے ہیں روضہ اطہر پر مجال نہیں کہ وہ ہاتھ اٹھا لیں جبکہ ان کی نیت ہوتی ہے کہ وہ اللہ سے دعا کررہے ہیں اور صرف شفاعت مانگ رہے ہیں۔ اس جگہ نہ پولیس ہے نہ فوج۔ اگر ہر جگہ ایسی ہی سختی کردی جائے اور معلم کو اختیار دے دیا جائے کہ جتنے حاجی ان کے سپرد کئے گئے ہیں انہیں اپنے تیور سے یہ بتادیں کہ ہم صرف ان کے وکیل نہیں ہیں بلکہ نگراں ہیں اور ہم اگر کسی کی رپورٹ کردیں گے تو اسی وقت واپس کردئے جائو گے تو شاید اس ضرورت سے زیادہ جوش پر قابو پایا جاسکے۔ شیطان کے بارے میں جوش کا یہ عالم ہے کہ جاہل لوگ ٹوٹے چپل اور جوتے پھینک کر مارتے ہیں جبکہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ صرف ایک علامت اور سنت ہے۔ خدا ہمارے بھائیوں کو عقل دے اور توفیق کہ آئندہ خوشی کے جشن کے بجائے آنسو نہ بہانا پڑیں۔
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker