Baseerat Online News Portal

سلمیٰ صنم کاتازہ افسانوی مجموعہ ’پانچویں سمت‘

عبد اللہ سلمان ریاضsalman
9341378921
E-mail: [email protected]
26, Haines Road, 1st Floor, Egyptian Block, Bangalore -560051
اکیسویں صدی میں جن خواتین نے افسانوی ادب میں اپنا مقام بنایا ان میں ایک معتبر نام ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی شخصیت سلمیٰ صنم صاحبہ کا ہے۔سلمی صنم نے اپنے افسانوں کے ذریعہ نہ صرف ریاست کرناٹک میں اپنا نام روشن کیا بلکہ پوری افسانوی دنیامیں ایک خاص مقام حاصل کرلیا ہے۔
آج ان کے افسانے پرنٹ میڈیا سے لے کرسوشیل میڈیا، نیوز پوٹل اور الکٹرانک دنیا میں ہر طرف تارعنکبوت کی طرح پاؤں پسارے پھیل رہے ہیں۔ان کے افسانوں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے افسانوں کے مختلف دیگر زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
’پانچویں سمت‘ ان کا تیسرا افسانوی مجمو عہ ہے۔ اس سے قبل’’ طور پر گیا ہوا شخص‘‘ اور’’ پت جھڑکے لوگ‘‘ شا ئع ہو کر مقبولیت کے بام عروج تک پہنچ چکے ہیں۔ ان دونوں مجموعوں کی اشاعت کے ذریعہ سلمیٰ صنم نے بہت کم مدت میں اپنی جد و جہد اور سعیِ پیہم سے افسانوی ادب میں اپنی شناخت بنالیاہے۔ان کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے مشاہدات کے ذریعہ سماج میں رونما ہونے والی برائیوں کا بہت جلد ادراک کرلیتی ہیں اور اس کے تدارک کے لئے ان کا قلم حرکت میں آجاتا ہے اور ایک افسانہ کی شکل میں ان برائیوں کو طشت از بام کرکے معاشرے کے حوالہ کردینا ان کا اہم کام ہے۔
سلمیٰ صنم کے افسانوں میں تازہ کاری و افسانوی فن کاری ہمیں جا بہ جا دکھائی دیتی ہے۔زبان و بیان پر ان کو قدرت حاصل ہے۔استعاراتی ابلاغ سے بھی یہ اچھی طرح واقف ہیں۔ان کے افسانوں میں نفسیات کا بھی بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔یہ قاری کے دل و دماغ میں اپنی تخلیقی قوت کے ذریعہ اندرونِ خانہ میں بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے احتجاجی لہجے سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
سلمیٰ صنم عام افسانہ نگاروں سے ہٹ کر اپنی الگ راہ بنانے میں بھی کامیاب ہیں۔ان کے موضوعات ، ان کی فکر،ان کے مشاہدات و تجربات، ان کے تصورات و خیالات ، ان کا اسلوب ِ نگارش،ان کی اوریجنالٹی ان کی اپنی ہوتی ہے۔یہ دوسروں کی فکر کشید کرنے کی قائل نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں نئے نئے موضوعات پر افسانے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ان کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے جذباتی اسلوب میں بھی ان کے افسانوں کے تانے بانے ان کی گرفت میں رہتے ہیںان کا قاری موضوعات کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ان کے مکالموں میں ماحول و علاقائی زبان کا خاص خیال رکھاجاتا ہے۔جس کی وجہ سے ان کا قاری ڈائیلاگ سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے۔
سلمی صنم کے افسانوں سے متعلق مشاہیر کی آراء دیکھنے سے ان کی افسانوی معنویت واضح ہوجاتی ہے۔یہاں میں چند مشاہیر ادب کے تأثرات پیش کرتاہوں۔
پروفیسر م ن سعیدصاحب ان کے ایک افسانے کے بارے میں لکھتے ہیں: آپ کا افسانہ’’سائے‘‘پڑھا،اندازِبیان ، فنی چابک دستی اوراختصارکے علاوہ زبان پر گرفت نے افسانے کودل کش بنادیاہے ، آپ کے قلم کی چنگاری میںشعلہ بننے کے تمام آثار موجودہیں،شرط یہ ہے کہ آپ افسانہ نگاری کومشغلہ نہ سمجھیں، مشن تصورکریں۔
نوجوان قلم کار ومعروف نقاد ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی ان کے افسانے سے متعلق لکھتے ہیں : سلمیٰ صنم کے افسانوںکے مطالعے سے احساس ہوتاہے کہ وہ افسانے اتنے انہماک سے لکھتی ہیںکہ مشاہدہ ماجرابن جاتاہے توواقعہ واردات میںتبدیل ہوجانا ہے ، یہ ایسی خوبی ہے جوقاری کواپنا ہم خیال بنا لیتی ہے اورقاری افسانے کے بہائوکے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے اورجب کنارے لگتاہے توایک طرح کی خوداحتسابی کے عمل سے گزرتاہے جواس کے وجودمیںاضافہ کرتاہے اورزندگی سے اس کے رشتے کوزیادہ مضبوط اورمعنیٰ خیز بنا تاہے۔
پروفیسر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے سلمیٰ صنم کے افسانوں کا بہت اچھا تجزیہ کیا ہے وہ کتاب کے پیش لفظ میںیوں تحریر کرتے ہیں: سلمیٰ صنم کے افسا نوں کے مو ضو عات تازہ ہوتے ہیں۔ سائنسی ایجادات، ٹکنا لوجی کا استعمال، فیمینزم اور تازہ ترین حادثات و واقعات کوسلمیٰ صنم نے خو بصورتی سے افسا نہ کر نے کی کوشش کی ہے۔ کھو کھلے ہوتے خون کے رشتے، میاںبیوی کا ٹوٹتا یقین و اعتماد، ایڈز، سیر و گیسی، اعضاء کی خرید و فرو خت، مذہبی رہنمائوں کا ڈھونگ، لڑ کیوں پر ہوتے مظالم، خونی رشتوں کو سیاست کا نذرانہ، عورت کا ادھو را پن جیسے سماجی مو ضو عات سلمیٰ کی کہانیوں میں بکھرے پڑے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال النساء ، شعبہء اُردو بنگلور یونیورسٹی آپ کے افسانوں کے حوالہ سے یوں رقم طراز ہیں: سلمیٰ کے افسانوں نے مسلمات کو جس طرح لہو لہان کیا ہے اس کے پس منظر میں سنگ باری کا تصور بھی آسکتا ہے۔ یہ اس لئے کہ ان کا لہجہ عام طور پر جارحانہ ہے۔ ان کے یہاں احساس کی شدت الفاظ کی شدت میں ظاہر ہوتی ہے۔سلمیٰ کی سب سے بڑی قوت ان کی استعارہ سازی ہے۔سلمیٰ کا دوسرا امتیازز بان پر ان کی گرفت ہے۔سلمیٰ اپنے افسانو ں میں بعض تصورات و کیفیات کو جملوں کی تکرار کے حربے سے قاری کے ذہن کو مرکزی تصور سے وابستہ رکھنے کا خاص اہتمام کرتی ہیں۔سلمیٰ کے اسلوب کی ایک اور پہچان ان کی تخلیقیت ہے۔سلمیٰ کے افسانوں کی ایک نمایا ں خصوصیت ان کی احتجاجی فضا بھی ہے۔سلمیٰ کے افسانے ایک پٹی ہوئی ڈگر میں تازگی، حیات کی گرمی، ہلچل اور اوریجنالٹی کی بشارت ہیں اور کرناٹک ہی میں نہیں بلکہ اُردو فکشن کی دنیا میں ایک نئے فاتح کی آمد کا اعلان کررہی ہیں۔
ان مشاہیر کی آراء دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ سلمیٰ صنم نے افسانوی ادب میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ان کے افسانوں کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ ان کے افسانے ہندوستان کے مؤقر اخبارات و رسائل میں برابر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی ان کے افسانے لائک کئے جاتے ہیں۔ سلمیٰ صنم نے اپنے افسانوں کا دائرہ صرف اخبارات و رسائل تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ سوشل میڈیا کا بھر پور فائدہ اٹھاتی ہیں اور ان کے افسانے تقریباً اُردو زبان کے تمام مشہور ویپ سائٹ پر نظر آتے ہیں۔
سلمیٰ صنم کی کتاب’پانچویں سمت‘ ان کے تازہ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں کل ۱۹ ؍ افسانے ہیں۔ اس کا پیش لفظ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے بہت ہی وقیع و جامع تحریر کیا ہے۔سرورق دیدہ زیب، عمدہ و نفیس کاغذ،مضبوط باؤنڈنگ اور آئی ایس بی این نمبر کے ساتھ عرشیہ پبلی کیشنز دہلی نے شائع کیا ہے۔مجھے امید ہے کہ سلمیٰ صنم کا یہ افسانوی مجموعہ ان کے دوسرے مجموعوں کی طرح شوق سے ہاتھوں ہاتھ لیاجائے گا۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like