مضامین ومقالات

امریکی دورہ: ’اڑتا پی ایم ،گرتا دم خم ‘

ڈاکٹر سلیم خان
ہولی کے رنگ میں بھنگ کے نشہ کی آمیزش سارا مزہ کرکرا کردیتی ہے۔ رنگ میں بھنگ کے عملی مظاہر وزیراعظم مودی کے امریکی کے دوروں میں نظر آتے ہیں ۔ جس طرح ایک گجراتی چائے فروش کو جلدازجلد امیر بن جانے کے فراق میں امریکہ پہنچ جاتا ہے اسی طرح پلک جھپکتے ساری دنیا میں مشہور ہوجانے کی تڑپ مودی جی کو بار بار امریکہ اڑاکرلے جاتی ہے ۔ مودی جی کے اعصاب پر سوار شہرت کی ہوس امریکہ بہادرکے طفیل اپنی بھوک مٹانا چاہتی ہے ورنہ دو سالوں میں چار دورےاور صدر اوبامہ سے سات ملاقاتیں کیا معنیٰ؟ مغرب سے مرعوبیت ہندوتوا پریوار کی کمزوری رہی ہے ۔ یہی مرض ڈاکٹر مونجے کواٹلی کےآمر مسولینی کے چرنوں میں لے گیا۔ اسی نے گروگولوالکر اور بال ٹھاکرے سے ہٹلر کی تعریف کرائی۔ ہندو سینا نے گزشتہ دنوں دہلی میں امریکہ کے ممکنہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جشن سالگرہ کا اہتمام کرکے پھر ایک بار یہ ثابت کردیا کہ ہندوتواوادی حکومت کے قیام کے باوجود مغربی مرعوبیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکہ میں فی الحال انتخابی سرگرمیاں بامِ عروج پر ہیں اس کے باوجود امریکہ کے مودی ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کواس جوش و خروش کے ساتھ اس کی سالگرہ منانے کا خیال نہیں آیا۔اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہندوسنیا کے من میں آج تک ہندو ہردیہ سمراٹ نریندر مودی کا جنم دن منانے وچار نہیں آیا۔
ہندو سینا کے نزدیک مسلمانوں کے خلاف ٹرمپ کو مودی پر فضیلت کیوں حاصل ہے؟شاید اس لئے کہ مودی جی آئے دن کسی نہ کسی مسلم حکمراں سے جھک کر کوئی تمغہ یا کوئی اعزاز لیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ افغانستان اور سعودی عرب تو کجابنگلہ دیشتک سے تمغہ لانے کو جو اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتا ہواسے ہندو شدت پسند کیسےپسندکرسکتا ہے؟ مودی جی نے ساری دنیا گھوم کر خوب کھیل تماشے کئے لیکن ان سے کوئی انگریز حکمراں متاثر نہیں ہوا ۔ کسی نےانہیں قومی اعزاز سے نوازنے کی غلطی نہیں کی لیکن مودی جی بھی مایوس ہونے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ انہیں کسی صلاح کار نے بتایاایسا کرو اپنے لئے نہ سہی تو کم ازکم اٹل جی کیلئے بنگلہ دیش جیسے مسکین پڑوسی ملک سے کوئی اعزاز لے آو۔یہ تجربہ کامیاب رہا بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بنگلہ دیش کے قیام میں اٹل جی کا کوئی کردادر نہیں تھا ان کا اعزاز مودی جی کو تھما دیا جس سے ان کا حوصلہ بڑھ گیا ۔
مودی بھکتوں نے اب مسلم حکمرانوں پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے۔ جن لوگوں کو نہ اپنی قومی اقدار کا خیال ہے اور جو نہ خود اپنی عوام کے جذبات واحساسات کا پاس و لحاظ کرتے ہیں ان سے یہ توقع کرنا محال تھاکہ وہ کسی اور ملک میں رہنے والے اپنے بھائیوں کے درد کومحسوس کریں گے۔ جب ایسے حکمرانوں کے سامنے سفارتی ذرائع سےیہ پیشکش آئی ہوگی تو انہوں نے سوچا ہوگا اپنا کیا جاتا ہے؟ کیوں اپنے دروازے سے کسی سوالی کو خالی ہاتھ لوٹایا جائے ؟اس لئے آو دیکھا نہ تاؤمودی جی کو قومی اعزاز سے نواز دیااور مودی جی کسی اسکولی بچے کی مانند اسے لٹکا کر خوشی خوشی لوٹ آئے ۔ان کی اس حرکت نے انہیں ہندو کٹر پنتھیوں کی نگاہ میں گرا دیا ۔ اسی لئےبیچاری ہندوسینا ابلہ ناری کے سمان مودی کے بجائے ٹرمپ سے امید لگائے بیٹھی ہے۔ ہندوسینا کے چوڑی دھاری سینانیوں سے دلیر تو ہیلری کلنٹن ہے جو ایک خاتون ہوکر بھی ٹرمپ کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔
دوسال قبل جب مودی جی نے پہلی بار امریکہ کیلئے رخت سفر باندھا تو بشمول ان کےہر کوئی حیرت زدہ تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ وہ ایک ہفتہ کا طویل دورہ تھا جس میں سب سے اہم میڈیسن اسکوائر کا جشن تھا ۔ اس ناچ رنگ کی محفل میں مودی جی نے اپنے آپ کو راک اسٹار کے طور پر پیش کیا لیکن گجرات کے فساد کو لے سکھوں کی ایک تنظیم نے عدالت سے رجوع کرلیا اور ایسے حالات بن گئے کہ مبادہ انہیں امریکہ کی سرزمین پر گرفتارنہ کرلیا جائے ۔ خیر گرفتاری تو نہیں ہوئی لیکن احتجاج نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ۔دوسرے دورے میں مودی جی نے اپنی توجہ عوام سے ہٹا کر سرمایہ داروں کی جانب مبذول کی تاکہ ’’میک ان انڈیا ‘‘ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جاسکے ۔ اس کیلئے انہوں نے سیلیکون ویلی اور سین جوسجانے کا فیصلہ کیا تاکہ سافٹ وئیر صنعت اور ٹیسلا کارگوالوںکو ہندوستان بلایا جائے لیکن برا ہو عالمی کساد بازاری کا کوئی نہیں پھٹکا ہاں ٹیسلا نے ہندوستان پر چین کو ترجیح دی ۔ اس پر گوگل کے سربراہ ہندی نژادستیہ ناڈیلاکا مودی سے مصافحہ کے فوراً بعد معنیٰ خیز انداز میں ہاتھ پونچھنا اور فیس بک کے مارک زکربرگ کو کنارے ڈھکیل کرمودی جی کا اپنی تصویر کھنچواناعوامی بحث کا مرکز بن گئی ۔ اس بار مودی جی کو راک اسٹار بنانے والی پٹیل برادری سڑکوں پر اترکراحتجاج کررہی تھی اور اپنے پیسے واپس مانگ رہی تھی ۔ وزیراعظم کا سحر ٹوٹ کر بکھر چکا تھاجن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دے رہے تھے۔
مودی جی کا تیسرا دور ہ خالص سفارتی نوعیت کا تھا ۔ دو دنوں کے مختصر قیام میں چونکہ کوئی ڈرامہ بازی نہیں تھی اس لئے احتجاج بھی نہیں تھا لیکن مودی جی نے اپنے طور پر ایک احمقانہ ہدف طے کرلیا کہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد ٹھہرا کر دم لیں گے۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن ان کی ایک نہ چلی ۔ چین نے ان کے تمام عزائم پر ویٹو پھیر دیااور وہ اپناغم غلط کرنے کیلئے ریاض پہنچ گئے۔اوبامہ کے ساتھ اپنے قائم کردہ تعلقات کا آخری فائدہ اٹھانے کیلئے چوتھی مرتبہ مودی جی نے امریکہ کا قصد کیا اور اس بار انہیں امریکی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرنا تھا۔مودی جی کے پاس امریکہ اور ہندوستان کی تعریف و توصیف نیز پاکستان پر طنز تشنیع کے علاوہ کوئی نکتہ تو ہوتا نہیں ہے۔ امریکہ کو امن کا گہوارہ بتانے والی تقریر کا ریہرسل جاری تھا کہ ایک ہندی نژاد آئی آئی ٹی کےسابق طالبعلم مانک سرکارنےکیلیفورنیا یونیورسٹی میں اپنے پروفیسر ولیم کلگ کوگولی مار کر اپنی قوم کا نام روشن کردیا۔ خودکشی کرنے والے مانک سرکار نے اپنے رہائشی علاقے منی سوٹا میں ساتھ رہنے والی ایک امریکی خاتون کو بھی قتل کیا تھا اوراس کی ہٹ لسٹ میں ایک اور پروفیسر کا نام تھا جو قسمت سے بچ گیا۔ اس طرح گویا دورے کا مہورت ہی غلط نکلا۔ اس کے بعد جب مودی جی افغانستان پہنچے تو متھرا کے جواہرباغ کی واردات نے امن کے گہوارہ سرزمینِ ہند کے افق پر چار چاند لگا دئیے۔
متھرا کے جواہر باغ کی ۲۷۰ ایکڑ زمین پر نہ تو القائدہ کے مجاہدین کا قبضہ تھا اور نہ وہاں نکسلوادی براجمان تھے بلکہ جئے گرودیو کا شیشیہ رام ورکش یادو اس میں اپنے ۵ ہزار بھکتوں کے ساتھ ۲۰۱۴؁ سے قابض تھا ۔ دوسال قبل یہ لوگ دہلی جاکر احتجاج کرنے والے تھے لیکن پھر ارادہ بدل کر جواہر باغ میں دھرنا دینے کی اجازت طلب کی اور ایسےمالک بن بیٹھےکہ متوازی حکومت چلانے لگے ۔آس پاس رہنے اور آنے جانے والے لوگ ان کے تشدد کا شکار ہونے لگے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہآزاد ہند فوج کے بنائے گئے سارے قوانین نافذ کئے جائیں ۔اسی فوج کی سرکار ملک میں حکومت کرے اور پٹرول ایک روپیہ لیٹر بیچا جائے۔مودی جی نے سبھاش چندر بوس کے نام کی سیاست تو خوب کی ان کے رشتے دار کو بی جےپی ٹکٹ پر بنگال کا انتخاب بھی لڑایا گیا لیکن جب آزاد ہند فوج کو دیکھا تو پسینہ چھوٹ گیا۔ پولس نے جب قبضہ ہٹانے کی کوشش کی تو اس پر تلواروں، رائفلوں اور گرینیڈ سے حملہ ہوگیا نیز ۲ پولس افسر سمیت ۲۰ لوگ ہلاک ہوگئے۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ جس وقت مودی جی افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کی دہائی دے رہے تھے متھرا میں یہ واردات رونما ہورہی تھی اور مقامی بی جے پی رکن پارلیمان ہیما مالنی اپنی نئی فلم کی تصاویر ٹویٹر پر اپنے شائقین کے ساتھ شئیر کررہی تھیں ۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ افغانستان سے لے کر امریکہ تک امن قائم کرکے وزیراعظم ابھی لوٹے ہی تھے کہ ایک افغانی نسل کے امریکی شہری نے اورلینڈو میں فائزنگ کرکے ۴۹ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
اس دورے کے دوران ویسے اور بھی بہت کچھ ہوا۔ وزیراعظم نے امریکی پارلیمان کو یقین دلایا کہ ان کے نزدیک دستور ہند ہی سب سے مقدس کتاب ہے اور وہ اس کی روشنی میں تمام مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف کرنے میں یقین رکھتے ہیں ۔ جس وقت وزیراعظم یہ بلند بانگ دعویٰ کررہے تھے ان کی پارٹی عدالتی حکم امتناعی کو پامال کرتے ہوئے دادری کے بساہڑہ گاوں میں مہاپنچایت منعقد کررہی تھی ۔ اس غیر دستوری پنچایت میں دھمکی دی جارہی تھی کہ ۲۰ دن کے اندرمحمد اخلاق کے پورےخاندان کے خلاف گئو کشی کے معاملے کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کو دی جانے والی سرکاری امداد کوواپس لیا جائے ورنہ حالات کی خرابی کیلئے انتظامیہ ذمہ دار ہوگا ۔ امریکی ارکان پارلیمان پریشان تھے کہ کیا یہی دستور کی پاسداری ہے۔ جس وزیراعظم کی بات پر خود ان کی پارٹی کے رہنما کان نہیں دھرتے اس کی ہم کیوں سنیں؟
دادری کی مہا پنچایت میں کوئی کہہ رہا تھا اخلاق احمد بیمار تھا اور اس کی موت بیماری سے ہوئی ہے۔ ہمارے لڑکے بے قصور ہیں انہیں رہا کیا جائے۔ مرکزی وزیر ثقافت سنجیو بالن تو بہت دور کی کوڑی لےکر آئے تھے ان کے مطابق ایک گائے کا ۱۵۰ کلو گوشت صرف ایک خاندان تہیں کھا سکتا اس لئے جس جس نے گوشت کھایا ہے اس پتہ لگاکر ان سب کو سزا دی جائے۔ان واقعات کے پس منظر میں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے دنیا کی آنکھوں دھول جھونکنا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ اسی لئے امریکی پارلیمان کےدونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے۳۴ ارکان نے مودی اور اوبامہ ملاقات سے قبل ایک کھلا خط لکھ کر مودی جی کی توجہ ان نازک مسائل کی جانب مبذول کرائی اور کہا کہ ’’اپنے الفاظ کو عملی جانہ پہناو کم از کم اس تشدد کی کھلے عام مذمت تو کرو‘‘۔ ان خط میں عیسائیوں اور مسلمانوں پر تشدد کے واقعات کے علاوہ سکھ مت کے علٰحیدہ تشخص کو تسلیم نہ کرنے پر بھی تاسف کا اظہار کیا گیا۔اس کے اندر ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ کھل کر سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والی وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل کو تشدد کیلئے موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے ۔ اپنے آپ کو فخر سے پردھان سیوک کہنے والے والے وزیراعظم کی سٹیّ ایک ایسے خط نے گم کردی جس میں جواب کی توقع کی گئی تھی۔
اس خط کے مطابق ۱۷ جون سے یعنی مودی جی حلف برداری کے ایک ماہ کے اندر بستر ضلع کے اندر ۵۰ گاوں میں غیر ہندو مذہبی عبادت ، تبلیغ و تقریر پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس طرح وہاں بسنے والے ۳۰۰ عیسائی خاندانوں کا اپنی مذہبی رسومات ادا کرنا مجرمانہ سرگرمی قرارپایااور وی ایچ پی کے غنڈوں نے تشدد کا راستہ اختیار کرکے اس کو عملی جامہ پہنایا۔ وہاں رہنے والے عیسائیوں کو سرکاری سہولتوں اور کھانے پانی تک سے محروم کردیا گیا تاکہ وہ دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کے علاوہ گئو کشی کے نام پر مشتعل بھیڑ کے ذریعہ ہلاک کئے جانے والے ۴ مسلمانوں کا بھی نام بہ نام ذکرکیا گیا۔پنجاب میں گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرنے والے دو سکھ نوجوانوں کی موت پر بھی غم وغصے کا اظہار موجود ہے۔ اس خط میں غالباً پہلی بار آرایس ایس کا نام لے کر وزیراعظم سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ اس کی سرگرمیوںکو قابو میں رکھا جائے اور حفاظتی دستوں کو اقلیتوں کے تحفظ کی تلقین کی جائے۔ اپنی مادر تنظیم کے متعلق یہ سب پڑھ کر مودی جی کے من کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
مودی جی کی مصیبت صرف ایک خط تک محدود نہیں تھی کہ جس کو نظر انداز کردیا جاتا بلکہ جس وقت اوبامہ مودی ملاقات ختم ہورہی تھی اسی وقت امریکی پارلیمان میں حقوق انسانی کے کمیشن کی سماعت کا آغاز’’ہندوستان میں حقوق انسانی کی تازہ صورتحال، بنیادی آزادیوں کو درپیش چیلنجس اور بہتری کےمواقع‘‘کے موضوع پرہورہا تھا ۔ ہندوستان کے نقطہ ٔ نظر سے اس قضیہ کی سماعت کیلئے اس سے برا کوئی اور وقت نہیں ہوسکتا تھا۔ کاش مودی جی اسے ایک آدھ ہفتے کیلئے مؤخر ہی کروانے میں کامیاب ہوجاتے لیکن اس کیلئے جو سفارتکاری درکار ہے اس کی توقع کم ازکم ان سے مشکل ہے۔اس سماعت کے دوران کمیشن کے مشترکہ چیرمین جیمس مک گورن نے کہا کہ دستوری تحفظات کے باوجود مذہبی اقلیتیں بشمول سکھ، ہندو قوم پرست گروہوں کے ہاتھوں سے دہشت اور تشدد کا شکار ہوتی رہتی ہیں اور مجرمین کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ ریاستی سطح کے تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین سرکاری ملازمین کو یہ طے کرنے کا اختیار دیتے ہیں کہ ہندومت سے مذہب کی تبدیلی قانونی ہے یا نہیں جبکہ مذہب کا انتخاب انفرادی معاملہ ہے اور اس کو سرکاری ضابطے کا پابند نہیں ہونا چاہئے۔ اس کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے امریکن مسلم کونسل کےمصدق تھانگے نے کہا کہ جو وزیراعظم اہم لوگوں کی سالگرہ پر ٹویٹ کرنے سے نہیں چوکتا اسے عیسائی اسکولوں اور چرچوں پر حملے کی مذمت میں ایک ماہ کا وقت لگا اس کے باوجود بیان کے الفاظ واضح مذمت سے قاصر رہے۔ وشوہندو پریشد کے ذریعہ بزور قوت چلائی جانے والی تبدیلیٔ مذہب کی تحریک پر وزیراعظم کے موقف میں بھی حزب اختلاف کو چیلنج کیا گیا تھا کہ وہ تبدیلیٔ مذہب کے قانون کی حمایت کرے جبکہ یہ قانون ہندومت سے مذہب کی تبدیلی میں رکاوٹ ہے۔
امریکہ میں ایک بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کمیشن بھی ہے۔ اتفاق سے ۲۰۱۵؁ کی صورتحال پر اس کی رپورٹ بھی حال میں سامنے آئی اور اس میں تسلیم کیا گیا اس سال حالات پہلے سے بدتر ہوئے ہیں ۔اس رپورٹ میں ہندو تنظیموں کے علاوہ انتظامیہ کے جانبدارانہ رویہ اور عدلیہ کے بے اثر ہوجانےسے رونما ہونے والی صورتحال پر تشویش کاا ظہار کیا گیا۔ رپورٹ میں اویدیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج کے علاوہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو بھی نام لے کر جبروتشدد کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس رپورٹ میں تبدیلیٔ مذہب کے قانون کی مدد سے ۶ریاستوں میں مرتکب ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی گئی اور اعتراف کیا گیا سنگھ پریوار کے نفوذ کے باعث مسلمان اپنی شکایت تک درج کرانے سے گریز کرنے لگے ہیں۔ ایک طرف مودی جی کے امریکی دوروں کےسبب یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہند امریکی تعلقات میں ایسی گرمجوشی پہلے کبھی بھی نہیں تھی دوسری جانب امریکہ سے یکے بعد دیگرےجو نیک نامی کے تمغے حاصل ہور ہے ہیں اس کی بھی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔
اس بار مودی جی نے امریکہ سمیتسوئزرلینڈ و میکسیکو کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ این پی ٹی پر دستخط کئے بغیر ہندوستان کو این ایس جی ممالک کے کلب میں شامل کرنے کی حمایت کریں لیکن اس تجویز کو چین نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ کچھ اور ممالک کا اس پر اعتراض ہے نیز اگر ہندوستان کو شامل کیا جاتا ہے تو پاکستان کی درخواست پر بھی غور کیا جائےاس طرح ویانا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں تو ہندوستان کی درخواست پر مثبت فیصلہ نہ ہوسکا اورمعاملہ ۲۳ جون تک ٹل گیا۔ ہندوستان کو اس سےپہلے۲۰۰۸؁ کے اندر منموہن سنگھ کے زمانے میں استثناء مل چکا ہے لیکن اس وقت چین اور امریکہ کے تعلقات بہت اچھے تھے ۔اس بار نہ صرف چین اور مریکی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں بلکہ مودی جی کی امریکہ بھکتی کے سبب ہند چینی تعلقات بھی بہت خراب ہیں۔ چین ایک منظم حکمت عملی کے ساتھ نیپال کے اندر گھس آیا ہے لیکن مودی جی ہیں کہ امریکی خمار سے باہر آنے کا نام نہیں لیتے۔
مودی جی کی پارلیمانی تقریر کے بعد ریپبلکن پارٹی کے میک کین نےقومی دفاعی اختیاری قوانین میں کئی ترمیمات پیش کیں جس میں سے ایک ہندوستان کو اسٹرٹیجک پارٹنر قرار دے کر بہت ساری مراعات بحال کرنے کی تجویز بھی تھی لیکن امریکی پارلیمان نے اسے مسترد کردیا ۔اسی امریکی پارلیمان نے پاکستان کیلئے نہ صرف ۸۰کروڈ ڈالر امداد کا اعلان کیا بلکہ حقانی نیٹ ورک سے مقابلے کیلئے دی جانے والی رقم ۴۵کروڈ ڈالر کو بڑھا کر ۹۰ کروڈ کردیا اور یہ سب بغیر کسی ڈرامہ بازی کے ہوگیا۔ این ایس جی کے بعد اس دوسری ناکامی کے آئینے میں ایک نابینا بھی وزیراعظم کے امریکی دورے کی کامیابی کا پرہول بھیانک چہرہ ازخوددیکھ سکتا ہے۔ امریکہ کے چوتھے ناکام دورے کے بعد ایک بات صاف ہوگئی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر جانے جائیں گےجو کرنا تو بہت کچھ چاہتاتھالیکن کر کچھ بھی نہیں پایا ۔ اس کی پے درپے ناکامی کیلئے کبھی تو اس کا گھناونا ماضی وجہ بنا تو کبھی اس کی حماقتیں آڑے آگئیں۔ کبھی بیجا توقعات نے بیڑہ غرق کردیا تو کبھی ناسازگار حالات نے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ایک ایسا وزیراعظم جس نے چراغ تو بے شمار جلائے لیکن ہر چراغ تلے صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور وہی تاریکی بالآخر اسے لے ڈوبی۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker