ہندوستان

اسکول کی عمارت گرانے کی کارروائی پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار

ممبئی، ۲۴؍جون: (بی این ایس) سپریم کورٹ نے ممبئی کے دہیسر میں موجود سینٹ تھامس اسکول کی عمارت کو توڑنے کی کارروائی پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اسکول نے کورٹ سے مطالبہ کیا تھا ممبئی میونسپل کارپوریشن کواسکول کی عمارت توڑنےسے روکا جائے تاکہ اسکول میں پڑھنے والے 3100 بچوں کو مشکل سے بچایا جا سکے۔ میونسپل کارپوریشن اسکول کی عمارت کو توڑ رہی ہے کیونکہ یہ غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی اور غیر محفوظ ہے۔ اسکول کی عمارت ایک بڑے نالے سے لگی ہوئی ہے جو غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس آدرش گوئل اور جسٹس اے ایم كھانولكر کی بنچ نے کہا ‘ہمیں حیرانی ہے کہ آخر بغیر ڈیزائن پاس ہوئے اس عمارت کی تعمیر کو کس طرح مکمل کردیاگیا۔ ممبئی کے دہیسر میں واقع سینٹ تھامس اسکول نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کے اسے ایک سال کا وقت دیا جائے تاکہ اس دوران وہ اسکول کو دوسری جگہ شفٹ کر سکیں، بنچ نے 2 ہفتے کے لئے بھی اسکول کو گرانے کی کارروائی پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سکول کی عمارت کو گرانے کے لئے ایک مانسون کی بارش کافی ہے ‘ ۔ اسکول مینجمنٹ نے کورٹ کو بتایا کہ 1988 سے یہ اسکول چل رہا ہے اس میں قوم کے کمزور طبقے کے بچے کافی تعداد میں پڑھتے ہیں اسکول کی آدھی بلڈنگ کارپوریشن پہلے ہی توڑ چکا ہی باقی کی عمارت کو توڑنے پر کچھ وقت کے لئے روک لگانے کا مطالبہ اسکول کر رہا تھا تاکہ اسکول کو دوسری جگہ شفٹ کیا جا سکے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ فوری طور پر کوئی دوسری عمارت میں اسکول کو شفٹ کریں۔ اسکول نے کورٹ کو بتایا کی نئی جگہ اسکول کی بلڈنگ ایپرووڈ پلان سے بن رہی ہے لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا کچھ وقت دے دیا جائے تاکہ اسکول کو شفٹ کیا جا سکے لیکن کورٹ نے اجازت نہیں دی۔ واضح رہے کہ 8 جون 2016 کو ہائی کورٹ نے اسکول کی عرضی مسترد کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے بھی کہا تھا کہ اسکول کی عمارت گرانے کی کارروائی پر روک نہیں لگے گی جس کے بعد سپریم کورٹ میں اسکول انتظامیہ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ سے بھی اسکول کو کوئی راحت نہیں ملی ایسے میں اسکول کے 3100 بچوں کے لئے جلد سے جلد دوسری عمارت میں اسکول کو شفٹ کرنا ہوگا تاکہ ان کا مستقبل خراب نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker