ہندوستان

مدرسہ بورڈ بدحالی کا شکار، دیگر سرکاری تعلیمی ادارے فروغ پارہے ہیں

کاپی جانچ کیلئے چیئرمین اور سکریٹری کی اجازت کے بغیر بنائے گئے کوآرڈی نیٹر نئے ضابطے سے ہوسکتا ہے کاپی جانچ میں بدعنوانی کا بڑا معاملہ
دربھنگہ ، ۲۴؍جون:(بی این ایس)  پوری ریاست میں جہاں ٹاپروں کے نام پر تعلیم کا مذاق بنا ہوا ہے ایسے دور میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اتنا لاپرواہ کیسے ہوسکتا ہے۔ مدرسہ بورڈکے ذریعہ لئے گئے امتحان کی کاپی جانچ کا کام بڑے زور و شور سے ہرضلع میں چل رہا ہے۔ضابطے کے مطابق ہرسال کاپی جانچ مراکز پر کوآرڈی نیٹر مدرسہ بورڈ کے چیئرمیں اور سکریٹری کے دستخط سے ہوا کرتا تھا لیکن امسال ایسا بالکل نہیں ہے۔ مدرسہ بورڈ نے جن افسران کو جانچ مراکز پر تعینات کیا وہی جناب اپنی مرضی کے مطابق کوآرڈی نیٹر کو بحال کرچکے ہیں جس سے کہیں نہ کہیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ جس طرح سے بہار میں ٹاپر کے نام پر دوسرے تعلیمی بورڈ کا مذاق اُڑایا جارہا ہے کہیں ایسا ہی معاملہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کا نہ ہوجائے۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر نظرعالم نے ایک پریس بیان میں کہی۔ مسٹر عالم نے کہا کہ جہاں تک بہار میں دیگر سرکاری تعلیمی ادارے کی بات ہے تووہ دن بدن ترقی کی طرف گامزن ہوتا جارہا ہے لیکن مدرسہ بورڈ ہی ایک ایسا ادارہ ہے جو ترقی سے کوسوں دور ہوتا جارہا ہے۔ اگر صحیح معاملے میں مدرسہ بورڈ کی بات کی جائے تو ریاستی حکومت بھی کہیں نہ کہیں اس بورڈ کے ساتھ سوتیلا رویہ اپناتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کو پوری آزادی کے ساتھ تعلیمی شعبہ کو چلانے کا حق حاصل نہیں ہے۔کبھی مدرسہ بورڈ کے اساتذہ تنخواہ کا رونا روتا ہے، تو کبھی امتحان وقت پر نہ لیاجانا اس طرح کے سیکڑوں مسائل ہیں جس سے مدرسہ بورڈ جوجھ رہا ہے ۔ اس جانب نہ تو حکومت دھیان دیتی ہے اور نہ ہی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین اور سکریٹری جناب۔اپنی مرضی سے جب من آئے مدرسہ بورڈ میں نئے ضابطے بنادئیے جاتے ہیں۔ آج یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے ذریعہ بھیجے گئے افسران نے اپنے من مطابق موٹی رقم لیکر علاقے کے ہی حضرات کو کاپی جانچ مراکز پر کوآرڈی نیٹر بحال کردیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مدرسہ بورڈ کتنا چست درست ہے۔اگر اس پر وقت رہتے دھیان نہیں دیا گیا تو ٹاپر گھوٹالے کی طرح مدرسہ بورڈ کی بہت جلد بدنامی کی دہلیز پر پہنچنے ہی والا ہے۔ریاستی حکومت اور مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ خود سے پورے بہار میں جہاں بھی کاپی جانچ مراکز بنایا گیا ہے سنٹر پر جاکر معائنہ کریں اور جن لوگوںکو بھی غلط طریقے سے کوآرڈی نیٹر بحال کیا گیا ہے اُسے رد کریں اور جو مدرسہ بورڈ کا ضابطہ ہے اس مطابق کوآرڈی نیٹر کو بحال کریں تاکہ صاف ستھرے اور بدعنوانی سے پاک ماحول میں کاپی جانچ کا کام مکمل ہوسکے اور بہتر نتائج بچوں کا نکل سکے ورنہ مدرسہ بورڈ کی بدنامی تو ہوگی ہی ساتھ ہی امتحان دینے والے بچوں کے مستقبل سے بھی کھلواڑ ہوگا۔آل انڈیا مسلم بیداری کارواں حکومت اور مدرسہ بورڈ سے مانگ کرتی ہے کہ وہ فوراً اس معاملے میں دخل کرے اور مناسب کارروائی کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker