شمع فروزاں

غصہ پر قابو

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
انسان مجموعۂ اضداد ہے ، طاقت ور ایسا کہ سمندر اور پہاڑ بھی اس کی ٹھوکروں میں ہے اور کمزور ایسا کہ پانی کا معمولی سا تلاطم اور پہاڑ کا ایک سنگ ریزہ بھی اس کی موت کے لئے کافی ہے ، لطیف ایسا کہ غنچۂ و گل بھی اس پر نثار ہواور ذوق سے محروم ہو تو کثیف ایسا کہ شاید کوئی اخلاقی اور مادی آلائش اس کا مقابلہ کر سکے، محبت کرے تو شبنم اور بادِ نسیم سے بھی زیادہ خنک اورنفرت پر اتر جائے تو آتش فشاں بھی اس کی گرمیٔ عداوت پر شرمائے، اسی طرح انسانی فطرت میں ایک اہم عنصر غصہ، غیظ و غضب اور جوش و انتقام کا ہے، یہ ایک آگ ہے جو انسان کے سینہ کو سلگا کر رکھ دیتی ہے اور اس کا انگ انگ اس کی حرارت سے دہک اٹھتا ہے، آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے ، زبان بے قابو ہوجاتی ہے اور جب غصہ شدید ہوتو اپنے اعضاء پر بھی انسان کی گرفت باقی نہیں رہتی ؛ اسی لئے رسول اللہ انے فرمایا کہ : غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، ( مسند احمد : ۱۷۹۸۵ ، ابوداؤد : ۴۷۸۴ ، عن عطیۃؓ) گویا غصہ کی حالت میں انسان شیطان کا نمائندہ بن جاتا ہے اور شیطان اس کو اپنے مقصد ومنشاء کی تکمیل کے لئے ذریعہ بناتا ہے ۔
غصہ کی کیفیت انسان کو دینی اعتبار سے بعض اوقات سخت خسارہ میں ڈال دیتی ہے ، زبان سے کفریہ کلمات نکل جاتے ہیں ، آدمی ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو سراسر تقاضۂ دین و ایمان کے مغائر ہوتی ہیں، یہی جوشِ غضب انسان کو قتل و قتال اور سب و شتم تک پہنچا دیتا ہے، دینی نقصان تو ہے ہی، دنیوی نقطۂ نظر سے بھی انسان کچھ کم نقصان سے دو چار نہیں ہوتا، بہت سے واقعات ہیں کہ بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں ، بعض مغلوب العقل حضرات خود کشی کر بیٹھتے ہیں، شدتِ غضب میں اپنا ہی سامان توڑ پھوڑ کرنے سے گریز نہیں کرتے، غصہ کی وجہ سے انسان دماغی مریض بھی بن سکتا ہے اور قلب پر حملہ سے بھی دو چار ہو سکتا ہے — اگر معاشرہ کے مفاسد کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر برائیاں غصہ ہی کی دین ہیں، خاندانوں کی باہمی نفرت ، میاں بیوی کے درمیان ذہنی فاصلے، ایک دوسرے کی عزت ریزی، صلح کے مواقع تلاش کرنے کے بجائے مقدمہ بازی اور جنگ و جدال کا تسلسل ، سماج کی یہ مہلک بیماریاں نوے فیصد غصہ ہی کے سبب ہیں ؛ اسی لئے اسلام میں غصہ کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے اور غصہ پر قابو پانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ۔
آپ انے ارشاد فرمایا کہ : جیسے ایلواء شہد کو خراب کر دیتا ہے، اسی طرح غصہ ایمان کو ، ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص غصہ کرتا ہے وہ جہنم کے قریب ہو جاتا ہے ، (احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۶۵) آپ انے فرمایا کہ : بدترین آدمی وہ ہے جس کو غصہ جلد آئے اور ختم ہو دیر سے : ’’شرھم سریع الغضب بطئی الفییٔ‘‘ اور بہترین آدمی وہ ہے جسے غصہ دیر سے آئے اور جلد چلا جائے : ’’ خیرھم بطیٔ الغضب سریع الفییٔ‘‘ ( ترمذی ، حدیث نمبر : ۲۱۹۱) ایک بار آپ ا کا گذر کچھ لوگوں پر ہوا ، کچھ لوگ پتھر اٹھا رہے تھے، آپ انے دریافت فرمایا : یہ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : پتھر اٹھارہے ہیں ، لوگ ان کی بہادری بیان کرنا چاہ رہے تھے ، آپ ا نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو ان سے بھی بہادر آدمی نہ بتلاؤں؟ پھر ارشاد فرمایا : ان سے بھی بہادر وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے، ایک اور روایت میں ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس سے آپ اگذرے،جو منتشر حالت میں تھے، آپ انے دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں پہلوان ہے کہ جس پہلوان سے بھی کشتی لڑتا ہے اسے زیر کر دیتا ہے، آپ ا نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ پہلوان شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اس سے بھی بڑا بہادر وہ شخص ہے جس پرکوئی شخص ظلم کرے اور وہ اپنے غصہ کو پی جائے، اس نے اپنے غصہ پر بھی غلبہ پایا اور اپنے شیطان پر بھی اور اپنے حریف کے شیطان پر بھی، (مجمع الزوائد: ۸ ؍ ۶۸) ایک اور روایت میں ہے کہ اصل بہادر وہ ہے کہ جسے غصہ آئے خوب غصہ آئے، چہرہ سرخ ہو جائے اور بال کھڑے ہو جائیں ، پھر بھی وہ اپنے غصہ پر قابو پالے ۔ ( حوالہ ٔ سابق : ۸ ؍ ۶۹)
اسی لئے رسول اللہ اخاص طور پر غصہ سے بچنے کی نصیحت فرماتے ، ایک صاحب نے آپ اسے نصیحت کی خواہش کی ، آپ ا نے فرمایا غصہ نہ کرو، وہ بار بار پوچھتے رہے اورآپ ابار بار یہی جواب دیتے رہے ، حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ص نے عرض کیا: کہ مجھے کوئی مفید مگر مختصر نصیحت فرمائیے! آپ انے ارشاد فرمایا: غصہ نہ کرو، وہ بار بار نصیحت کی درخواست کرتے رہے اور آپ اہر بار یہی جواب ارشاد فرماتے ، (مجمع الزوائد : ۸؍۷۰،بحوالہ طبرانی) حضرت ابو درداء صنے درخواست کی کہ ایسا عمل ارشاد فرمایا جائے جو مجھے جنت میں داخل کردے، فرمایا : غصہ نہ کرو، (حوالۂ سابق) حضرت عبد اللہ بن عمر صنے ایسا عمل جاننے کی خواہش کی جو خدا کے غضب سے بچانے والا ہو، اب بھی یہی ارشاد ہوا کہ غصہ نہ کرو ، (حوالۂسابق : ۸؍۶۹، بحوالہ مسند احمد) ایک صحابی صفرماتے ہیں کہ میں نے آپ اسے نصیحت کی درخواست کی ، آپ انے غصہ سے بچنے کو فرمایا، میں نے اس میں غور کیا تو محسوس کیا کہ غصہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے : ’’ الغضب یجمع الشرکلہ ‘‘ ۔ (حوالۂ سابق)
اہل علم نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان ںنے اپنے بچوں کو خاص طور پر غصہ کی کثرت سے منع فرمایا اور کہا : ’’ ایاک وکثرۃ الغضب‘‘ (احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۶۵) امام جعفر ؒ کا قول منقول ہے کہ غضب ہر برائی کی کلید ہے:’’ الغضب مفتاح کل شر‘‘ حضرت عمرص اکثر اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے تھے کہ جو شخص حرص، خواہش نفس اور غصہ سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا، مشہور محدث عبد اللہ بن مبارکؒ سے دریافت کیا گیا کہ آپ ایک جملہ میں حسن اخلاق کو بتائیے ، امام صاحبؒ نے فرمایا : غصہ چھوڑ دو’’ اترک الغضب‘‘ ۔(احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۶۶)
اسی لئے غصہ کو پی جانے پر بڑا اجر ہے ، حضرت معاذ بن انس ص سے مروی ہے کہ آپ انے فرمایا جو شخص غصہ اُتارنے پر قادر ہو ، اس کے باوجود وہ غصہ پی جائے، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تمام مخلوقات کی موجودگی میں (از راہِ اعزاز) طلب فرمائیں گے اور اسے اختیار دیں گے کہ جس حور کا چاہے انتخاب کرلے ، (ترمذی ، حدیث نمبر : ۲۰۲۱) اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ غصہ پر قابو پانا اور غصہ کے وقت اپنے آپ کو عدل اوراعتدال پر قائم رکھنا آسان نہیں اورانسان کے اخلاق و رواداری کا اصل امتحان اسی موقع پر ہے ؛ اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود صنے خوب فرمایا کہ آدمی کی بردباری کو اس وقت دیکھوجب وہ غصہ کی حالت میں ہواور اس کی امانت و دیانت کا اندازہ اس کی طمع و حرص کے مواقع پر ، جس کو تم نے حالت ِغضب میں نہیں دیکھا ، تم کو اس کی بردباری کا علم نہیںاور جس کو تم نے حرص و لالچ کے مواقع پر نہیں دیکھا ، تم کو اس کی دیانت کی خبر نہیں۔ (احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۶۶)
حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو پی جانا بہت بڑا عمل ہے اور جیسا کہ آپ انے فرمایا ، نہایت ہی بہادری کا کام ہے؛ اسی لئے آپ انے غصہ پر قابو پانے کی مختلف تدابیر بتائی ہیں ، آپ ا نے اس کی ایک تدبیر یہ بتائی کہ ایسے وقت میں آدمی ’’ اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھے ، ایک صاحب اتنا غضب ناک تھے کہ لگتا تھا کہ اب ان کی ناک پھٹ پڑے گی، آپ ا نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ کہے تو اس کا غصہ فرو ہو جائے، دریافت کیا گیا: وہ کیا کلمہ ہے؟ آپ انے ارشاد فرمایا : ’’ اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم‘‘ (ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۴۷۸۰، بخاری ، حدیث نمبر : ۶۰۴۸) وجہ اس کی ظاہر ہے کہ غصہ ایک شیطانی حرکت ہے، جب انسان اس موقع پر تعوذ پڑھے گا، تو اللہ کی مدد سے اس شیطانی حرکت پر غلبہ پالے گا ، نفسیاتی اعتبار سے بھی اس کلمہ کو پڑھتے ہوئے آدمی کا ذہن اس جانب منتقل ہو تا ہے کہ وہ اس وقت شیطان کا آلۂ کار ہے، اس خیال سے وہ اپنے آپ کو موجودہ کیفیت سے بآسانی نکال سکے گا ۔
غصہ پر قابو پانے کی ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ غصہ کے وقت انسان کچھ نہ بولے اور چپ سادھ لے، آپ انے ارشاد فرمایا کہ : جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش رہے : ’’ اذا غضب احدکم فلیسکت‘‘ (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۱۳۷) کیوںکہ غصہ کی حالت میں انسان جتنا زیادہ بولتا ہے ، جو شِ غضب بڑھتا جاتا ہے اور اکثر اوقات ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو خود اس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے — غصہ کو روکنے کی ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ انسان اپنی موجودہ کیفیت میں تبدیلی لے آئے ، کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے، رسول اللہ انے حضرت ابوذر غفاری صکو غصہ کے وقت اس تدبیر کے اختیار کرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ (ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۷۸۲ ، عن ابی ذر غفاری ؓ)
ابو وائلؒ ایک واعظ تھے، وہ عروہ بن محمد سعدی ؒ کے پاس گئے، عروہؒ سے ایک شخص نے ایسی بات کہی کہ ان کو غصہ آگیا، وہ اٹھ گئے اور وضوء کر کے واپس آئے، پھر ایک حدیث بیان فرمائی کہ آپ انے ارشاد فرمایا : غصہ شیطان کی طرف سے ہے ، شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے ، اس لئے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وضوء کر لینا چاہئے، (ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۷۸۴) — معلوم ہوا کہ وضوء بھی غصہ پر قابو پانے میں ایک مؤثر طریقہ ہے، روحانی طور پر تو وضوء میں غصہ فرو کرنے کی تاثیر ہوگی ہی ؛ کیوں کہ یہ ارشاد نبوی اہے اورآپ اکے ارشاد سے بڑھ کر صحیح و درست بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن علاوہ اس کے نفسیاتی اعتبار سے بھی اس کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پانی کی ٹھنڈک جسم کی حرارت ، تکان اور غیر معتدل کیفیت کو دور کرنے اور معتدل بنانے میں بہت مؤثر ہوتی ہے ، امام غزالی ؒ نے کچھ اور تدبیریں بھی غصہ پر قابو پانے کی بتائی ہیں ، ان میں یہ ہے کہ غصہ پر قابو پانے کے فضائل سے متعلق آیات و احادیث کو اپنی نگاہ میں رکھے، اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے ، غصہ سے انجام کار عداوت و انتقام کی جو آگ فریق مخالف کے دلوں میں سلگے گی اس کو اپنے ذہن میں مستحضر کرے ، غصہ کے وقت آدمی کی صورت میں جو بگاڑ آتا ہے اس کو ذہن میں لائے اور سوچے کہ گویا وہ اس کیفیت میں ایک کاٹ کھانے والے کتے اور حملہ کرنے والے درندے کی طرح ہے وغیرہ ۔( احیاء العلوم : ۷۴ – ۱۷۳)
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تدابیر کا حاصل اور غصہ پر قابو پانے کا سب سے مؤثر ذریعہ خدا کا خوف ہے ، خدا سے بے خوفی انسان کو ظلم پر جری بناتی ہے اور خدا کا خوف انسان کے بے قابو جذبات کو تھام لیتا ہے ، حضرت عمرصان لوگوں میں تھے جن کو زیادہ غصہ آتا تھا؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ احکام خداوندی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں بھی ان کی کوئی مثال نہیں تھی ؛ اسی لئے ان کے بارے میں لوگوں نے لکھا ہے : ’’ کان وقافا عند کتاب اﷲ ‘‘ (بخاری ، کتاب التفسیر ، باب قولہ تعالیٰ: ’’ خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ‘‘حدیث نمبر : ۴۶۴۲ ) ایسا بھی ہوا کہ آپ نے کسی شخص کو اس کی غلطی کی بناء پر کوڑے لگانے کا حکم دیا ، اس نے آیت قرآنی پڑھ دی کہ ’’ عفو و در گذر ‘‘ کو اختیار کرو ، بھلائی کا حکم دو اور ناواقف لوگوں سے گریز برتو : ’’ خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ‘‘ (الاعراف : ۱۹۹) حضرت عمرصنے ایک لمحہ غور فرمایا اور اس کو چھوڑ دیا ، ( احیاء العلوم : ۳؍۱۷۳) اگر سینہ میں خوفِ خدا کی آگ موجود ہو ، تو وہ غصہ کی آگ کو کھا جائے گی اور اگر دل خوفِ الٰہی سے خالی ہو تو غصہ کی آگ اسے کھا جائے گی دنیا میں اور آخرت میں بھی ، غصہ برائیوں کی جڑ ہے اور غصہ پینا سب سے بڑی بہادری ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker