ہندوستان

اگربنکروں کے مسائل حل نہ کئے گئے توجمعیۃ علماء مہاراشٹر ریاست گیر سطح پر احتجاج کرے گی : مولانا ندیم صدیقی

اگر پاچہ بافی صنعت کے مسائل کو کسانوں کے مسائل کی طرح حل کئے گئے ہوتے تو یہ صنعت کساد بازاری کی شکار نہیں ہوتی
ممبئی: ۱۹؍جولائی ۔(پریس ریلیز )مہاراشٹر میں بنکروں کو درپیش مسائل اور پارچہ بافی صنعت کی کساد بازاری پرحکومت کی مجرمانہ تساہلی اور جانبداری پر آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے حکومت کو جم کر لتاڑا اور بنکروں کے مسائل کو بھی کسانوں کے مسائل کی طرح فوقیت دینے اور انہیں حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بنکروں کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس کے خلاف ریاست گیر احتجاج کرے گی اور سڑکوں پر اترے گی ۔ آج دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر سے جاری اپنے اخباری بیان میں جمعیۃ کے صدر مولانا ندیم صدیقی نے کہا ہے کہ پارچہ بافی صنعت کی کساد بازاری ، بنکروںکے مسائل دراصل حکومتوں کی جانبدارانہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اگر اس صنعت اور اس سے وابستہ لوگوں کو بھی کسانوں کی طرح دیکھا جاتا تو آج یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتیں بنکروں کے ساتھ جانبدارنہ برتاؤ کررہی ہیں اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں ذرا بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے قبل کی حکومتوں نے بھی اسے حل کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی۔ اگر ان کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کیا جاتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ پارچہ بافی کی صنعت اور بنکر ریاست کی معیشت میں ریڑھ کا درجہ رکھتے ہیں مگر ان کے مسائل صرف اس لئے حل نہیں کئے جارہے ہیں کیونکہ اس صنعت سے زیادہ تر مسلمان وابستہ ہیں۔ اگر بنکروں کے مسائل کو بھی کسانوں کے مسائل کی طرح فوقیت دی جائے تو یہ صورت حال پیدا نہیں ہوگی۔ مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ یہ صرف بھیونڈی، مالیگاؤں یا اچل کرنجی کی پاور لوم صنعت یابنکروں اور اس سے وابستہ لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کا مسئلہ ہے جو اس پوری ریاست میں اس صنعت سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت قصداً اس صنعت کو بند کرنا چاہتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تہ اس اہم صنعت کو جس کا ریاست کی معیشت میں خاطر خواہ حصہ ہے، اسے یوں بے یارو مددگار نہ چھوڑتی اور اس کے ساتھ جانبداری کا رویہ نہیں اپناتی۔ انہوں نے کہا کہ آج کچھ سیاسی پارٹیاں اور اس کے لیڈران اس صنعت اور اس سے وابستہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں نظر آرہے ہیں، ان لوگوں سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ جب ریاست میں ان کی حکومت تھی تو اس وقت انہوں نے اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لئے کیا کیا؟ یہ ایک سال کا یا ایک ایک دن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سے قبل کی تمام حکومتوں کی مشترکہ عدم توجہی، تساہلی اور جانبداری کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنکر یا پاور لوم صنعت سے وابستہ دیگر لوگ انسان نہیں ہیں؟ کیا اس صنعت کے لوگ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس یا بنائے گئے قوانین کی پاسداری نہیں کرتے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کے ہی ساتھ یہ نا انصافی کیوں؟
مولانا ندیم صدیقی نے اس موقع پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بنکروں کے مسائل کو بھی کسانوں کے طرز پر حل کرنے کی پہل کرے ۔ انہیں بھی بجلی میں رعایت ملنی چاہئے،بجلی کے ان کے بقایا بل اور ان کے قرضوں کو بھی معاف کیا جانا چاہئے اور وہ تمام سہولیات ملنی چاہئے جو ایک گھریلو صنعت کے فروغ کے لئے مختص ہیں۔ اگر حکومت بنکروںکے مسائل حل نہیں کرتی اور اسی طرح تساہلی، عد توجہی اور جانبداری کا رویہ اپنا یا تو جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس کے خلاف ریاست گیر سطح پر احتجاج کرے گی اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر اترے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker