ہندوستان

مندسور بیف معاملہ: دونو ں خواتین نے اپنے درد کی داستاں سنائی

مند سور ۲۹؍جولائی: (بی این ا یس) مدھیہ پردیش کے مندسور میں بدھ (27 جولائی) کو بجرنگ دل کے کارکنوں کی طرف سے گائے کے گوشت کا الزام لگا کر دو مسلم خواتین کی سرعام مارپیٹ کی گئی تھی ۔ لیکن فارنسک جانچ میں خواتین کے پاس سے جو گوشت برآمد ہوا تھا وہ گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا۔ اس معاملے میں مدھیہ پردیش پولیس کا شرمناک چہرہ سامنے آیا ہے پولیس مارپیٹ کے دوران بالواسطہ طور پر بھگوا تنظیموں کا تعاون کرتے نظر آئی تھی پولیس نے مار پیٹ کرنے والے بجرنگ دل کے کارکنوں پر کاروائی کرنے کے بجائے دونوں خواتین کو ہی حراست میں لے لیا تھا، دونوں خواتین فی الحال ضمانت پر ہیں۔سلمی اور شمیم نامی دونوں متاثرہ نے بتایا کہ وہ پہلے بس سے ہی آنے والے تھیں لیکن کچھ گؤ رکشک والوں نے انہیں دھوهار کے بس ڈپو پر پکڑ لیا تھا۔ انہوں نے انہیں سمجھایا تھا کہ وہ جو گوشت لے کر جا رہی ہیں وہ گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اچھے سے بات کر رہے تھے اور ان لوگوں نے ہی ٹرین سے مندسور جانے کی صلاح دی تھی۔ سلمی نے آگے بتایا کہ وہ لوگ ٹرین میں ان کا پیچھا کر رہے تھے اور ٹرین سے اترتے ہی انہیں گھیر کر کھڑے ہو گئے اور مار پیٹ شروع کر دی۔ مار پیٹ کے دوران چوٹ لگنے کی بات کہی تو انہوں نے کہا کہ وہ بہانہ کر رہی ہے اور پھر سے مارنا شروع کر دیا۔ اس معاملے میں پولیس نے اب کچھ لوگوں کے خلاف مارپیٹ کا کیس درج کیا ہے۔ چار افراد کو پکڑا بھی گیا تھا تاہم وہ لوگ جمعرات کو ہی ضمانت پر چھوٹ گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker