مضامین ومقالات

ملک کو سدھارنا ہے تو پولیس کو سدھار دیجئے

حفیظ نعمانی
اُنائو میں زہریلی شراب سے مرنے، بیمار ہونے اور پولیس کے ہاتھ پائوں پھولنے کی خبریں تو ایسی ہی ہیں جیسی ہر حادثہ کے بعد ہوا کرتی ہیں۔ دوسرے اور تیسرے دن آبکاری محکمہ اور پولیس کی جگہ جگہ چھاپے مارنے اور شراب برآمد کرنے کی اور ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کی خبریں بھی ایسی ہی ہیں جیسی ہر حادثہ کے بعد ہوا کرتی ہیں۔ اُنائو میں اس سے پہلے بھی ایسا ہی حادثہ ہوچکا ہے اور اُنائو کیا ملک کے ہر شہر میں ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی حادثے ہیں جیسے بم بناتے ہوئے کوئی بم غلطی سے پھٹ جاتا ہے اور وہاں کچھ گرفتاریاں ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد مقدمہ چلتا ہے اور برسوں چلتا رہتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام پولیس اور آبکاری والے تبادلہ ہوکر کہیںاور چلے جاتے ہیں اور جو نئے آتے ہیں انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی اور ملزم سب بری کردیئے جاتے ہیں۔ یا کسی کو سال دو سال کی سزا بھی دے دی جاتی ہے۔
ہمارے گھر میں جھاڑو پوچھے کے کام جو ایک عورت کرتی ہے وہ ہر دن یہ رونا روتی ہے کہ اس کا شوہر صرف شراب کی دُکان پر نوکری کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ واقف ہیں انہیں معلوم ہے کہ شراب کے ٹھیکوں اور دکانوں کا ہر سال نیلام ہوتا ہے اس میں کبھی دکان اسی دوکاندار کو مل جاتی ہے جس کے پاس پہلے سے ہوتی ہے اور کبھی دوسرے کے نام بولی چھوٹ جاتی ہے اور اگر مالک بدل گیا تو وہ گھر بیٹھ جاتا ہے۔ ہم نے بھی اس سے بار بار کہا کہ ہم نوکری دلوادیں لیکن وہ انکار بھی نہیں کرتا اور تیار بھی نہیں ہوتا۔
زیادہ تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ شہر کی انگریزی شراب کی کہی جانے والی بھی کوئی دکان ایسی نہیں ہے جہاں شراب میںملاوٹ نہ کی جاتی ہو۔ اس کام میں جو ماہر ہوتے ہیں وہ ملاوٹ بھی کردیتے ہیں اور تنخواہ کے علاوہ اپنا حصہ بھی لے لیتے ہیں۔ اس کے کہنے کے مطابق جتنے روپئے میں نیلام سے ایک دُکان خریدی جاتی ہے اگر پوری ایمانداری سے کوئی فروخت کرے تو سال بھر میں اس کے گھر کے زیور کاریں اور برتن تک بک جائیں۔ اور تھانہ کے ہر پولیس والے کو معلوم ہے کہ کون کتنی ملاوٹ کرتا ہے اس لئے کہ اسے اتنا ہی ملاوٹ ٹیکس دینا پڑتا ہے اور جو زیادہ ملاوٹ کرتا ہے وہ پولیس کا زیادہ پیارا ہوتا ہے۔
یہ تو شہر کی دُکانوں اور دیسی شراب کہی جانے والی دکانوں کی بات ہے وہ جو دیہاتوں میں بنائی جاتی ہے اس میں سے آدھی سے زیادہ دکانوں میں ملاوٹ کے لئے آجاتی ہے اور دیہاتوں میں تو اس کی کھپت پانی کی طرح سے ہے اور ممکن ہی نہیں کہ بغیر پولیس اور آبکاری کی اجازت کے کوئی ایک شیشی بھی شراب کی بنا سکے۔ یہ تو بھانڈا پھوٹنے کے بعد کی باتیں کہ پولیس کے ہاتھ پائوں پھول گئے یا 22 گرفتار کرلئے اور 20 بھاگ گئے۔ جنہیں گرفتار کیا ان سے بھی پولیس کو ملتا ہے اور جو بھاگ گئے اُن کے متعلق بھی پولیس کو معلوم ہے کہ وہ کون ہیں اور اب کہاں ہیں؟
پولیس کا اصلی چہرہ تو ہم نے اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا جب 1978 ء میں سنبھل میں فساد ہوگیا تھا۔ اس وقت مرارجی ڈیسائی وزیر اعظم تھے انہوں نے شراب بندی کا حکم دیا تو صوبوں کے وزیراعلیٰ چیخ اُٹھے اور انہوں نے کہا کہ ہم رفتہ رفتہ پابندی اس طرح لگا دیں گے کہ آدھی یوپی میں اس سال اس کے بعد باقی اضلاع میں دوسرے سال۔ مغربی اضلاع سے پابندی شروع ہوئی جس میں مراد آباد بھی آتا تھا۔ دہلی میں چونکہ غیرملکی بڑی تعداد میں رہتے اور آتے ہیں وہاں اس طرح لگی کہ دکانوں پر فروخت ہوگی مگر بار ہوٹل یا پارکوں میں نہیں پی جائے گی۔ ہمیں سنبھل سے بار بار مراد آباد ہوتے ہوئے دہلی جانا پڑا تو دیکھا کہ بس جب دہلی سے آتی ہے تو پولیس اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے اور ہر ایک کے سامان کی تلاشی کے بعد اجازت دیتی ہے۔ ان میں جس جس کے پاس شراب کی بوتلیں ہوتی ہیں ان سے بوتلیں لے کر ضبط کرلیتی ہے اور انہیں گرفتار نہیں کرتی۔ دو تین مہینے گذرنے کے بعد دیکھا کہ پولیس والے سوٹ کیس بھربھرکر خود ہی لارہے ہیں اور بس اسٹیشن کے باہر رہائشی ہوٹل والے کھڑے ہیں وہ اپنی کار میں سوٹ کیس رکھتے ہیں اور کانسٹبل اپنی جیب میں نوٹوں سے بھرا لفافہ۔
یہ بات کہ کوئی پولیس سے چھپ کر شراب بنا رہا ہے ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ کسی نے پولیس اور آبکاری محکمہ سے چھپ کر کھیت میں افیون بونی ہے۔ شراب اور وہ بھی دیسی شراب بنانے کے لئے ایک باغ کا حصہ یا ایک بڑا مکان چاہئے۔ ہمیں تو 9 مہینے جیل میں رہ کر یہ تک معلوم ہوگیا تھا کہ جہاں گائوں میں جانوروں کا گوبر کھاد کے لئے رکھا جاتا ہے وہاں تربوز میں اندر سے اس کا گودا نکال کر اور دوچار چیزیں ڈال کر تربوز کا منھ بند کرکے ایک مہینہ کے لئے دبا دیا جاتا ہے۔ گرمی گذرنے کے بعد وہ شراب انگریزی شراب سے زیادہ بڑھیا ہوجاتی ہے۔
گجرات میں گاندھی جی کے احترام میں شراب پینے، فروخت کرنے اور خریدنے پر ساٹھ برس سے پابندی ہے۔ شاید چار سال پہلے زہریلی شراب سے 35 آدمی مرے تھے اور پورا ملک چیخ اُٹھا تھا کہ جس صوبہ میں 100 فیصدی پابندی ہے وہاں اسی صوبہ کی بنی شراب سے 30 گجراتی مرگئے؟ اس وقت اخبار کے نمائندوں نے جو تفصیلات بیان کیں انہوں نے تو گجرات کو ننگا کرکے رکھ دیا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ مودی سرکار یا کیشو بھائی پٹیل کی سرکار کا ہی تحفہ نہیں ہے کانگریس حکومت کے زمانہ میں بھی گجرات سے زیادہ اچھی، زیادہ سستی، زیادہ آسانی کے ساتھ جو شراب مل جاتی ہے وہ مہاراشٹر میں بھی نہیں مل سکتی اور لکھنے والوں نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ ایک پانی کی ٹھنڈی بوتل دیر میں ملے گی شراب جلدی آجائے گی۔ پانی کے لئے کسی کو بازار جانا پڑے گا اور شراب کے لئے صرف فون کرنا پڑے گا۔
گجرات میں بھی جو بن رہی ہے وہ بھی پولیس کی حکومت میں بن رہی ہے اور جو بک رہی ہے وہ بھی پولیس کی اجازت سے بک رہی ہے۔ یہ انگریزوں کی لعنت ہے جسے پولیس مینول کہتے ہیں کہ ہر جگہ دو حکومتیں چل رہی ہیں ایک وزیروں کی اور دوسری داروغہ جی کی وزیروں کی حکومت اس حد تک بے اثر ہے کہ وہ صرف مقدمہ قائم کراسکتی ہے اور عدالت کے سپرد کرسکتی ہے رہی پولیس کی حکومت تو وہ جس کو جتنی سزا دینا ہوتی ہے وہ خود ہی دے دیتی ہے۔ مار مارکر مہینوں کے لئے بیکار بھی کردیتی ہے اور انکائونٹر کرکے ختم بھی کرسکتی ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کا تبادلہ اور معطلی کے علاوہ کچھ اور کرسکے۔
اور یہی اُنائو میں ہوا اور ہوگا کہ کسی کا تبادلہ کردیا کسی کو لائن حاضر کردیا۔ ان میں سے نہ کسی کے خلاف مقدمہ چلے گا اور وہ جو 30 اور 40 برس کے درمیان کے کڑیل جوان مرگئے ان کے مارنے میں پولیس کی کوئی ذمہ داری بتائی جائے گی۔ وہی پولیس جس کے متعلق آج کے ہی اخبار سے معلوم ہوا کہ اٹل جی کے زمانہ میں دائود کے لانے کی تیاری ہوچکی تھی لیکن اس وقت کے داخلہ سکریٹری کے کہنے کے مطابق جن پولیس افسروں کو اس کام کی تربیت دی جارہی تھی ان میں سے کچھ دائود ابراہیم کے رابطہ میں تھے لیکن اس کے بعد اخبار خاموش ہے۔ جسے ہندوستان اپنا سب سے بڑا دشمن کہتا ہے اسی ہندوستان کی پولیس کے افسر دائود کے رابطہ میں تھے۔ پھر کیا ان کو گولی مار دی گئی یا ان کو ٹارچر کرکے عمر بھر کے لئے ناکارہ بنا دیا گیا یا دائود کے ڈر سے انہیں معاف کردیا گیا؟؟ اس کا انکشاف بھی داخلہ سکریٹری ہی کریں گے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker