ہندوستان

پربھنی سے گرفتار کئے گئے محمد ناصر کی ریمانڈ میں توسیع

اے ٹی ایس کی جانب سے قائم کیا ہوا یہ مقدمہ قانون، سماج اور دیش کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہے
ممبئی: ۲۹؍ جولائی ( پریس ریلیز )داعش سے تعلق کے الزام میں پربھنی سے گرفتار محمد ناصریافعی چاؤش کی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد آج اورنگ آباد کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے اس کی پیروی کرنے کے لئے ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان اور ایڈووکیٹ عشرت علی خان عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر دفاع نے اے ٹی ایس کے تمام دعووں کی تردید کرتے ہوئے عدالت کے روبرو یہ واضح کیا کہ محمد ناصر کی گرفتاری کے بعد اے ٹی ایس نے جو ایف آئی آر درج کی ہے، وہ سرے سے ایف آئی آر ہے ہی نہیں نیز چونکہ یو اے پی اے کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے ، اس لئے اس عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پندرہ روز قبل اے ٹی ایس نے پربھنی کے گاڑی وان محلہ سے محمد ناصر جافعی چاؤش کو داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا اور اس کے گھر سے اس کے استعمال کے موبائیل فون، لیپ ٹاپ اور پین ڈرائیو اور یوریا کھاد ضبط کیا تھا جس کے بارے میں اے ٹی ایس کا دعوی ہے کہ وہ یوریا کھاد سے بم سازی کرنے والا تھا۔اس مقدمے کی پیروی جمعیۃ علماء ہند کی نگرانی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کررہی ہے۔دفاع کے مطابق اے ٹی ایس کا ایک ہی پولیس اسٹیشن ہے اور ہے کالاچوکی ممبئی پولیس اسٹیشن۔ اس لئے اے ٹی ایس کی گرفت میں آنے والے شخص کے خلاف اے ٹی ایس کے ہی اسٹیشن میں ایف آئی آر درج ہونا لازمی ہے ۔ لیکن اے ٹی ایس نے محمد ناصر کو گرفتار کرنے کے بعد اے ٹی ایس کی ناندیڑ یونیٹ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ، جو قانونی اعتبار سے ایف آئی آر ہی نہیں مانی جائے گی۔ اس کے علاوہ جس ملزم کے خلاف یو اے پی اے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہو ، اس کی سماعت خصوصی عدالت این آئی اے ہی کرسکتی ہے نا کہ مجسٹریٹ عدالت۔ اسی طرح اس مقدمہ کی سماعت کے لئے خصوصی سرکاری وکیل کا ہونا ضروری ہے جب کی اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل وکیل ہیں جو قانونی طور پر اپرو ہو ہی نہیں سکتے ۔اے ٹی ایس کی جانب سے ملزم کے ریمانڈ میں اضافے کی درخواست دی گئی تھی، جسے عدالت نے منظور کرلیا ۔دفاع کے مطابق اے ٹی ایس نے ملزم پر جو الزامات عائد کئے ہیں وہ امکانی جرائم کی فہرست میں آتے ہیں یعنی کہ ملزم داعش کے کسی فاروق نامی شخص کے رابطے میں تھا اور یہ کہ وہ داعش میں شامل ہونا چاہتا تھا یا یہ کہ اس کے گھر سے برآمد کی گئی یوریا کھاد سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ وہ بم سازی کرنے والا تھا۔ اس لئے یہ بات صاف طور سے کہی جاسکتی ہے کہ اے ٹی ایس کا یہ مقدمہ صرف جھوٹ کی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ قانون کے ساتھ ، سماج کے ساتھ ارو دیش کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہے۔جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حا فظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ ناصر کی گرفتاری کے اول دن سے ہماری لیگل ٹیم مصروف ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ملز م کو اے ٹی ایس نے غیر قانونی طریقے پر پھنسایا ہے اور عدالت سے اسے سزاء دلانانے کے لئے غیر قانونی طریقے اپنا رہی ہے جسے ہم کبھی بھی ہونے نہیں دیں گے۔ ہم اس مقدمے کی پیروی کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ خصوصی عدالت کے روبرو آنے کے بعداے ٹی ایس کا جھوٹ بے نقاب ہوجائے گا اور ملز م کو انصاف ملے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker