ہندوستان

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ:مسلم نوجوانوں کو کم سے کم سزائیں دیئے جانے کا دفاع نے مطالبہ کیا

جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر وکیل یوگ چودھری نے مدلل بحث کی ، معاملے کی سماعت ملتوی
ممبئی، 29؍جولائی( پریس ریلیز) گذشتہ کل اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں خصوصی مکوکا عدالت کے ذریعہ مجرم ٹہرائے گئے ۱۲؍ مسلم نوجوانوں کو کم سے کم سزائیں دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفاعی وکلاء سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر یوگ موہیت چودھری، ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ اگر ان کے موکلین کوہتھیاراستعمال کرنے ہوتے تو وہ اس وقت پولس پر فائرنگ کر دیتے جب پولس ان کا پیچھا کر رہی تھی استغاثہ کے بقول اس معاملے کے مفرور ملزمین جنید (پاکستان) ، فیاض کاغذی اور دیگر کی ایماء پر ان نوجوانوں نے ہتھیاروں کی منتقلی میں مدد کی تھی لہذا اس پوری سازش کے ذمہ دار مفرور ملزمین ہیں ۔ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے خصوصی مکوکا عدالت کے جج شریکانت انیکرکوبتایا کہ عدالت نے ۱۲؍ نوجوانوں کو مکوکا قانون سے بری کردیا ہے لیکن جن دفعات کے تحت سزائیں تجویز کی ہیں اس میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے لیکن عمر قید اس وقت دی جاسکتی ہے جب ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا ہو اور اس سے کسی کونقصان پہنچا ہو جبکہ اس معاملے میں ہتھیار نہ تو استعمال ہوئے اور نہ ہی کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہے لہذا ان نوجواجوں کے ماضی حال اور مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں جیل میں بیتے ایام کو ہی سزا تصور کرکے انہیں رہا کردیا جانا چاہئے ۔یوگ چودھری نے انتہائی جذباتی انداز میں عدالت کو بتایا کہ ان نوجوانوں کا ہندوستانی قانون اور عدلیہ پر بھروسہ ہے اور اس میں کے بیشتر نوجوانوں نے پولس اسٹیشنو ں میں از خود سپردگی کی تھی اور جیل میں گذارے گئے ان کے ایام کے تعلق سے جیل حکام نے کوئی منفی رپورٹ کبھی عدالت میں پیش نہیں کی ۔دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان نوجوانوں کے رہا کیئے جانے سے سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی ملزمین کے رویہ سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید جرائم کا حصہ بن سکتے ہیں ، ان کا تعلق سماج کے تعلیم یافتہ اور مہذب خاندانوں سے ہے لہذا انہیں کم سے کم سزائیں دی جانی چاہئے ۔دفاعی وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ نے عدالت سے مودبانہ گذارش کی کہ ان کے ضمانت یافتہ موکلین اور جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے موکلین کو مزیدجیل میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ انہیں ان کے ذریعہ جیل میں گذارے گئے دس سالوں کوہی سزا مانتے ہوئے انہیں رہا کردیا جائے ۔آج عدالت میں محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجیدانصاری،افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم ، فیصل عطاالرحمن شیخ اور سید ذبیح الدین نے تحریری عرضداشت بھی داخل کی جس میں عدالت کو بتایا گیا ہیکہ کس طرح ان کے اہل خانہ کو ان کے جیل میں چلے جانے سے ذہنی، جسمانی، مالی ازیتیں برداشت کرنی پڑی اور اگر عدالت انہیں مزید سزائیں دیتی ہے تو اس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کی بقیہ زندگی اجیرن ہوجائے گی۔دفاعی وکلاء کی بحث کے اختتام کے بعد خصوصی جج نے سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ دفاع کی جرح کے متعلق اپنے موقف کا اظہار کریں،عدالت کے حکم کے بعد سرکاری وکیل نے گذرش کی کہ بحث کے لیئے اسے مہلت دی جائے جسے جج نے منظور کرتے ہوئے معاملے کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔دوران کارروائی آج عدالت میں سینئروکلاء کے ساتھ معاون وکلاء بھی موجود تھے جسمیں ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ خضر پٹیل، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ ارشد صدیقی وہ دیگر شامل ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker