ہندوستان

ذاکر نائیک نے ہمیں جبراً مسلم نہیں بنایا اور نہ ہی پیسوں کا لالچ دیا

نائک کی تقاریر سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے والے نومسلموں کا دعویٰ 
ممبئی،۲۹؍جولائی: (بی این ایس) میں جن لوگوں نے اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہوکر اسلام مذہب قبول کیا تھا انہوں نے اس بات کو سرے سے خارج کر دیا ہے کہ انہیں تبدیلی مذہب کے لئے کوئی پیسہ دیا گیا تھا یا کوئی زور زبردستی کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پروگرام میں ان کی تقریر سننے کے لئے تمل ناڈو سے ممبئی آئے تھے اور اپنی مرضی سے اسلام مذہب قبول کیا تھا۔ خبر وںکے مطابق محمد نائیڈو جوکہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریر سے متاثر ہوکر اسلام قبول کئے ہیں انہوں نے عرشی قریشی اور رضوان پر جبرا تبدیلی مذہب کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ نائیڈو کی اہلیہ بھی کچھ وقت پہلے مسلم بنی ہے انہوں نے بھی جبرا ًتبدیلی مذہب کے الزامات کو جھوٹ بتایا ہے دونوں نے بتایا کہ ان کوپیسوں کا بھی کوئی لالچ نہیں دیا گیا تھا۔ہم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ وہیں ممبئی کی رہنے والی رشدا تلدار جوکہ ذاکر نائیک سے متاثر ہوکر مسلم بنی ہیں انہوں نے بھی جبرا تبدیلی مذہب کے الزامات کو غلط بتایا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے محمد ساحل هپتا، میمونہ كھراڈے، پوجا دتہ اور سکینہ مسلمہ نے بھی بیان جاری کرکے کر جبرا ًیا پیسے کے ليے اسلام اپنانے کو غلط بتایاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker