ہندوستان

گلبرگہ ہائی کورٹ سے بری ہونے والے محمدعبدالرحمن عرف سمیع کے والد

عبد الغفار حسین شاہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے دفتر میں پہونچ کرذمہ داران کا شکریہ ادا کیا
ممبئی ۔ ۳۰؍ جولائی ( پریس ریلیز )دہشت گردی کے تمام الز مات سے کر نا ٹک ہائی کورٹ کی گلبرگہ بنچ سے بری ہونے والے عبد الرحمن عرف سمیع ( جو گیشوری ممبئی) کے والد عبد الغفار حسین شاہ نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر واقع زین العابدین بلڈنگ بھنڈی بازار میں پہونچ کر قائد ملت مولانا سید محمود مدنی ( ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند ) اور صوبائی ذمہ دار مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر) کا اپنے بیٹے کی رہائی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اللہ تبارک و تعالی کی خصوصی مدد اور جمعیۃ علماء کی جہد مسلسل کی وجہ سے گلبرگہ ہائی کورٹ نے میرے بیٹے عبد الرحمن عرف سمیع کو دہشت گردی کے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء نے میرے بیٹے کے مقدمہ میں اس نازک موقع پر ساتھ دیا جب گلبرگہ سیشن عدالت نے میرے بیٹے کو پانچ عمر قید اور اورڈیڑھ لاکھ روپئے کا جر مانہ کی سزاء سناء دی تھی اس وقت جمعیۃ علماء کے دمہ داروں نے تسلی دی اور مقدمہ لڑنے بیڑہ اٹھایا بالاآخر جمعیۃ علماء کی کو ششیںرنگ لائیں اور عدالت نے میرے بے قصور بیٹے کو دہشت گر دی کے تمام الزامات سے بری کر دیا ۔واضح رہے کہ ملزم محمد عبدالرحمان عرف محمد سمیع شاہ کو مارچ ۲۰۰۶ میں گلبرگہ سے اے ۔ٹی ۔ایس نے گرفتار کیا تھا اور اس پر دہشت گردی اور ملک کے خلاف جنگ وبغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے قبضے سے دھماکہ خیز اشیاء کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھانیز اس کے خلاف تعزیراتِ ہند اور یو اے پی اے کی مختلف ناقابلِ ضمانت اور قابلِ مواخذہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت ابتداء میں گلبرگہ سیشن کورٹ میںہوئی جس نے تقریباً چار سال تک سماعت کے بعدجولائی ۲۰۱۰ میں ملزم کو پانچ بار عمر قید اور ڈیڑھ لاکھ روپئے جرمانے کی سزا دی۔افسوسناک بات یہ رہی کہ گلبرگہ سیشن کورٹ کا کوئی وکیل عبد الرحمن کا کیس لڑنے کے لئے تیار نہیں تھا مجبورا جس وکیل کو مقدمہ سونپا گیا وہ ایک فرقہ پرست تنظیم سے تعلق رکھنے والا غیر مسلم وکیل تھا جس نے ملزم کا دفاع کرنے کے بجائے الٹا سزاء دلانے کی پوری کو شش کی اور اس میں اسے کا میابی بھی ملی ۔ سیشن عدالت سے سزاکا تعین ہونے کے بعد ملزم کے والد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی سے رابطہ قائم کیا اور اس مقدمے کی قانونی پیروی کی درخواست کی، جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے سربراہ ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے سیشن عدالت کے مذکورہ فیصلے کو کر ناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بنچ میں چیلنج کردیا اور اس وقت سے ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ یہ سماعت۲ ماہ قبل ہی مکمل ہوگئی تھی، مگر عدالت نے کسی وجوہ کی بناء پر فیصلہ موخر رکھا اور جو بالآخر گذشتہ ۲۰؍ جولائی کو
دفاعی وکلاء کے دلائل سے ہائی کورٹ نے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو دہشت گردی کے تمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔اس کیس کی پیر وی جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان اور ایڈوکیٹ عشرت علی خان کر رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker