ہندوستان

اور اب بر ج کورس کی عالمہ جج اور وکیل بننے کی راہ پر

۶؍ کامیاب عالمات میں سے ایک نے وکالت میں داخلہ لیا
علی گڑھ، ۴؍اگست: (پریس ریلیز) مسلم معاشرے میں خواتین کی بالعموم عضو معطل کے طور پر دیکھاجاتارہا ہے اور اپنوں اور غیروں کی جانب سے ان کے سماجی رول پر طعنے بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت کی پاسدار ی کرتے ہوئے مسلم خواتین ہر طرح کے سماجی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسلامی شریعت ان کے حقوق اور ترقی کی راہ میں ہر گز رکاوٹ نہیں ڈالتی۔ ان خیالات کا اظہارڈاکٹر محمد احمد نے اپنی ایک پریس ریلیز میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ برج کورس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پلیٹ فارم سے مدارس کی فارغ چھ عالمات نے BA LLBکے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ گرچہ ان منتخب عالمات میں سے پانچ نے اپنے روایتی گھریلو ومعاشرتی دبائو یا معاشی تنگی کی بنا پر اپنے تعلیمی کیریر کا انتخاب بی اے آنرز کیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک عالمہ مس صبا آفرین نے BA LLBمیں اپنا داخلہ مکمل کرایا ہے۔ اس طور سے دیکھا جائے تو مس صبا آفرین پہلی عالمہ ہوں گی جو ہندوستانی عدلیہ میں بحیثیت وکیل یا جج کے خدمات انجام دینے کی اہل ہوسکیں گی۔ڈاکٹر محمد احمد نے کہا کہ مدرسہ کی عالمہ کے لیے صرف عالمہ کی ڈگری سے اس کورس میں داخلہ ممکن نہ تھا۔ برج کورس نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ برج کورس کا یک سالہ کورس جس میں انگریزی اور سوشل سائنس کی تعلیم انٹرمیڈیٹ کے مساوی دی جاتی ہے، اس طرح کے تمام کو رسز میں داخلہ کا اہل بناتا ہے۔ ان چھ عالمات کا BA LLBمیںانتخاب اسی کورس کا مرہون منت ہے۔مسٹر خاں نے کہا کہ توقع ہے کہ مس صبا آفرین کے اس جرأت مندانہ اقدام سے مدارس اسلامیہ کی مزید فارغات کو تحریک ملے گی اور آئندہ مزید عالمات ہندوستانی عدلیہ اور سول سروسز میں بھی اپنی موجودگی درج کرائیں گی۔انھوںنے برج کورس کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ برج کورس کے اس تیسرے بیچ کے فارغ طلباء وطالبات میں سے ۲۵ طلباء وطالبات نے انگریزی آنرز میں داخلہ لیا ہے۔جب کہ پندرہ نے معاشیات کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے علاوہ ایک کثیر تعداد پولیٹکل سائنس، ہسٹری، کمیونیکیٹو انگلش،BSW، اسلامک اسٹڈیز اور عربک وغیرہ میں بھی داخل ہوئی ہے۔ اس کے قبل کے بیچز کے فارغ طلباء وطالبات اسی تناسب سے بی اے آنرز کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ برج کورس کا قیام آنریبل وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کا حیرت انگیز کارنامہ ہے جس کے لیے ارباب مدارس کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کورس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طلباء وطالبات کو اس کی جا نب زیادہ سے زیادہ راغب کرنا چاہیے۔ کیا عجب کہ علماء کا یہ قافلہ انسانیت کی ترقی واستحکام میں اپنا مؤثر، مبنی برانصاف اور سریع الحرکت کردار ادا کرسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker