ہندوستان

کشمیر میں کرفیو کاسلسلہ ہنوزجاری،27ویں دن بھی معمولاتِ زندگی ٹھپ

وادی میں پولیس نے اب تک500مظاہرین کو گرفتار کرلیا
کشمیرکے نوجوان جمہوریت میں امیدکھورہے ہیں، نیشنل کانفرنس نے کشمیر پر مرکز کی ’’گہری خاموشی‘‘کو غیر اخلاقی بتایا
سری نگر ، 4 ؍اگست:کرفیو اور ہڑتال کی وجہ سے آج مسلسل27ویں دن بھی کشمیر میں کشیدگی پھیلی رہی اورمعمولات زندگی متاثررہی۔حالانکہ پولیس نے سماج دشمن عناصرکی دھڑپکڑکیلئے بڑے پیمانے پر مہم چلائی ہے۔ایک پولیس افسرنے بتایاکہ کشمیر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے وادی کے زیادہ تر بڑے شہروں میں کرفیو جاری برقرارکھا گیا ہے۔جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، شوپیاں اورپمپور، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے خان پور اور سری نگر کے چھ پولیس تھانہ علاقوں میں کرفیو ابھی بھی جاری ہے۔افسر نے بتایا کہ وادی کے باقی حصوں میں احتیاطی طورپرتعزیرات ہندکی دفعہ144کے تحت چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی ہے۔انہوں نے کہاکہ لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے حساس علاقوں میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں کل بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے تھے ۔وادی کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں سمیت کئی درجن افرادزخمی ہو گئے ہیں۔سڑکوں پر مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے شرپسندعناصرکی دھڑپکڑکے لئے بڑے پیمانے پر مہم چلارکھی ہے اور وادی بھر سے تقریباََ500نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کی8؍جولائی کو سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی کاروائی میں ہوئی موت کے بعد وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا۔مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پر جھڑپوں میں شہریوں کی موت کے بعد علیحدگی پسندوں نے ہڑتال کااعلان کیاتھا۔ایسے حالات میں وادی میں مسلسل 27ویں دن بھی بڑے پیمانے پر عوامی زندگی متاثر رہی ۔علیحدگی پسندوں نے اپنی ہڑتال 5؍ اگست تک بڑھا دی ہے اور کل مشہور ڈل جھیل کے کنارے پر واقع حضرت بل درگاہ تک ریلی کا اعلان کیاہے۔وادی میں سڑکوں پر ہو رہے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے پولیس نے لوگوں کی گرفتاریاں بڑے پیمانے پر شرو ع کر دی ہے۔پوری وادی سے تقریباََ 500نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایک پولیس ترجمان نے بتایاکہ پولیس نے اب تک کل349لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ترجمان کے مطابق، کل 122لوگوں کو قانونی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔اب تک سڑکوں پر ہو رہے احتجاج میں 2 پولیس اہلکار سمیت 50افراد کی موت ہو چکی ہے اور تقریبا 6000افراد زخمی ہو چکے ہیں۔8 ؍جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیاتھا ۔شروع میں حالات بہتر بنانے کے لیے حکام نے پورے وادی میں کرفیو لگا دیا تھا لیکن یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو پائی، اور اس سے اور زیادہ لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ایک اعلی افسر نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیاں مظاہرین کے درمیان سے شرارتی عناصر کی شناخت کے لیے ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کا سہارا لے رہی ہے۔افسر نے کہاکہ پتھر بازی کے واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے ہم نے اپنے کچھ سیکورٹی اہلکاروں کے لیے کیمرے سے لیس وردی پہنائی تھی اور ہم اب ویڈیو کا تجزیہ کرتے ہوئے شرارتی عناصر کی شناخت کر رہے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ جیسے ہی ملزم کی شناخت ہوگی ویسے ہی ہم صحیح وقت پر اسے گرفتار کر لیں گے۔حالانکہ پولیس اہلکار نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بہت سے ملزم نوجوانوں کی گرفتاریاں اب بھی نہیں ہو پائی ہیں کیونکہ یہ نوجوان اپنے خاندان والوں کے ساتھ نہیں رہتے ہیں اور اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں، انہیں گرفتار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔وہیں علیحدگی پسندوں نے سیکورٹی فورسز کے اس اقدام کو سخت تنقید کانشانہ بنایا ہے۔علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز قانون وانتظام کو برقرار رکھنے کی آڑ میں پرامن طریقے سے مظاہرہ کر رہے شہریوں کو پریشان کر رہی ہیں۔وہیں اپوزیشن نیشنل کانفرنس(این سی)نے کشمیر میں شہریوں کی ہلاکتوں پرمرکزکی’’گہری خاموشی کوغیر اخلاقی‘‘بتاتے ہوئے اس پاکستان، علیحدگی پسندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر صورت حال کے حل کیلئے ’’غیر مشروط‘‘بات چیت شروع کرنے کامشورہ دیا۔این سی کے کشمیر کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے یہاں کہاکہ مرکزکوسمجھنا چاہئے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے،دہشت گردی کے اظہار یا قانون وانتظام کا عام مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہند کو فوری طورپراسلام آباداورساتھ کہیں حریت کانفرنس کی قیادت سمیت کشمیر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مستقل اور بغیر کسی شرط کے بات چیت کرنی چاہئے۔وانی نے خبردارکیاکہ کسی وسیع سیاسی اقدامات کے ذریعے کشمیر کے لوگوں سے رابطہ کرنے میں ہو رہی طویل تاخیر کے ناقابل تصور خطرے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں شہریوں کی مسلسل ہو رہی ہلاکتوں پرمرکزکی گہری خاموشی غیراخلاقی ہے۔وادی میں خاص طورپرنوجوانوں میں تنہائی کا احساس بے مثال ہے اور مقامی ہے۔این سی لیڈر نے دعویٰ کیاکہ مسئلہ کشمیر کو قانون وانتظام کا مسئلہ مان کر اس سے نمٹنے کے مرکز ’’پرکھے اورآزمائے ہوئے‘‘طریقے نے وادی میں’’مایوسی اور مایوسی کا احساس‘‘پیدا کیا ہے۔وانی نے الزام لگایاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیرکے نوجوان جمہوری نظام میں اپنی بچی کھچی امید کھو رہے ہیں اور یہ ریاست اور مرکز دونوں کا ہی تیز اور صاف عذاب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker