مضامین ومقالات

جو جاگتا ہے ایمان سومواری میں

کیوں سوجاتا ہے تعزیہ سازی میں؟
عمرفاروق قاسمی
ساون کے مہینے میں جیسے ہی پہلی سومواری شروع ہوتی ہے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات کےآثار دکھائی پڑنے لگتے ہیں، ریاستی حکومت کو اس معاملے میں انتہائی چابکدستی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، حفاظتی انتظامات سخت کردئے جاتے ہیں، پولیس اور فوج کو جگہ بہ جگہ انتہائی فعال بنانا پڑتا ہے، حکومت کی معمولی چوک بھی بڑے حادثے کو جنم دے سکتی ہے، محاذ آرائی کا ایسا سماں دیکھنے میں آتا ہے کہ معمولی سی چنگاری بھی شعلہ جوالہ بن سکتی ہے، اس موقع سے جہاں کانوریوں کے بول بم کے بجائے دوسرے جذباتی نعرے ملّا بم، ڈاڑھی بم، جیسے بے ہنگم نعرے اور مسلم محلوں میں اشتعال انگیز تبصرے، ٹھیک مسجدوں کے سامنے ڈھول تماشے، ہوشربا اور فحاشی پر مبنی گانے کا اہم رول ہوتا ہے وہیں ہماری زمینی حقائق سے ناآشنائی، اور غیر ضروری مذہبی جذبات کا اظہار بھی ہمارے لئیے مسائل پیدا کرتا ہے ، ہر وقت فسق و فجور میں ڈوبا ہوا ہمارا ایمان اچانک بھڑک اٹھتا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ کہ شرک کا شائبہ بھی حرام ہے، سورج کے ڈوبنے اور اُگنے کے وقت ہمیں نماز پڑھنے سے اسی لئے روکا گیا ہے کہ وہ عبادتِ شمس سے مشابہت رکھتا ہے، تصویر کو سامنے رکھ کر نماز پڑھنے سے اسی لئے منع کیا گیا کہ وہ عبادتِ اصنام کے مشابہ ہے، اسلامی عقیدہ کے مطابق شرک ظلم عظیم ہے، قرآن کی رو سے اللہ دوسرے گناہوں کو تو معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کو کبھی نہیں معاف کرسکتا ہے، اس لیے مسلمانوں کے لئے کسی ایسی مجلس میں برضا و رغبت شریک ہونا بھی صحیح نہیں ہے جہاں شرکیہ کام انجام دیے جارہے ہوں اس لیے مسلمانوں کو ایسی کسی بھی مجلس سے اعلانیہ گریز کرنا چاہیے جہاں بتوں کی پوجا ہوتی ہو۔
ہمیں تعجب ہوتا ہے ان مسلمان سیاسی رہنماؤں پر جو صرف ووٹ کی لالچ میں ہولی، راکھی، بندھن کے تہوار میں نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ عملی طور پر اس میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ ہمارے یہ سیاسی رہنما سیکولر ازم کی دہائی اس قدر دینے لگتے ہیں جس کی اجازت نہ ہماری شریعت دیتی ہے اور نہ ہی ہمارے ملک کا قانون ہم سے مطالبہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں رہتے ہیں، جس میں اگرچہ سرکار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے تاہم ہندوستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق، تہذیب و ثقافت اور مسلک و مذہب کو اختیار کرے، اپنے مذہبی رسم و رواج اور شعار کا کھلم کھلا اظہار کرے، ہم اعلانیہ مسجدوں میں نماز پڑھ سکتے تو ہمارے برادران وطن کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ مندروں میں جاکر چڑھاوا چڑھا ئے، ہم جب دن بھر میں پانچ مرتبہ مائک سے نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرسکتے ہیں تو وہ بول بم اور جے سیتا رام کا نعرہ کیوں نہیں لگا سکتے ہیں؟، ہماری جمعہ کی نماز کے لئے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے تو اس کے دسہرہ اور دیوالی میں کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا ہے کہ سالوں شراب و کباب کی مجلس سجانے والے بھی سومواری کے موقع پر پکے اسلام پسند بن کر جہاد کے لیے نکل جاتے ہیں، رات و دن موسیقی اور گانے بجانے والے کو بھی اس دن ڈیجے اور ساونڈ بکس کی آواز سے ڈر لگنے لگتا ہے، ہر مزار پر ڈھول تماشے بجانے والے مسلمان آج اتنے دیندار کیوں بن جاتے ہیں؟ بزرگوں کے آستانہ پر سر جھکا کر اولاد اور روزی مانگنے والے مسلمانوں کو عبیر لگاکر بت پرستی کرنے والے خراب کیوں لگتے ہیں؟ آج کے دن ایمانی حرارت دکھانے اور مسلمانیت کا اظہار کرنے والے قبروں پر چادر کیوں چڑھا تے ہیں؟ سومواری کو جاگتا ایمان تعزیہ سازی میں کیوں سوجاتا ہے؟۔ تعزیہ سازی اس پر چڑھاوا، حضرت حسین کی شبیہ بنانے کے وقت ہم اپنے ایمان اور عقیدہ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ یہ بھی اسی طرح شرک ہے یا نہیں جس طرح شنکر، کرشن، اور رام کو پوجنا ؟ بلا شبہ کفر و شرک کے تئیں آپ کی نفرت کی ہم ایک حد تک قدر کرتے ہیں تاہم اسی نفرت کا اظہار تعزیہ سازی وغیرہ میں کیوں نہیں کرتے؟ صرف اس لئے کہ تعزیہ سازی مسلمان کیا کرتے ہیں اور سومواری وغیرہ ہندو کرتے ہیں۔ اسی لیے مسلمانوں کا ساتوں خون معاف ہے کیونکہ بقول کسی شاعر ؎
مگر مومنوں پر …….. کشادہ ہے راہیں
پرستش کریں شوق سے جسکی چاہیں
(فاضل مضمون نگار مشہور صحافی اور ودیا پتی پلس ٹو ہائی اسکول بسفی مدھوبنی میں سینئر سیکنڈری ٹیچر کی حیثیت سے مامور ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker