ہندوستان

دیوبند میں ہندوتنظیموں نے پھر ماحول کشیدہ کرنے کی کوشش کی

انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کی مستعدی سے شرپسند عناصر کامیاب نہ ہوسکے
دیوبند ۹؍ اگست (فیروز خان) مند ر کمیٹی کے لوگوں ا ور ہندو تنظیموں کے کارکنان نے آج پھر دیوبند کے ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش کی ، لیکن انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کی مستعدی نے شر پسندوں کو ہنگامہ آرائی کرنے کا موقع نہیں دیا اور بہت جلد حالات کو کنٹرول کر لیا ۔ واضح ہو کہ تقریباً دو ہفتہ قبل دیوبند کی عبادت گاہوں میں شر پسندوں کی توڑ پھوڑ کی کارروائی کے بعد فرقہ پرست ہندو تنظیموں نے ایک ہفتہ تک طرح طرح کی ہنگامہ بازی کرکے ہر ممکن کوشش کی کہ دیوبند کی پر امن فضا کو تہس نہس کر دیا جائے لیکن انتظامیہ کی مستعدی اور یہاں کے امن پسند عوام نے فرقہ پرستوں اور شر پسندوں کے ناپاک عزائم کو پروان نہیں چڑھنے دیا اور دیوبند کی فصا آہستہ آہستہ پر امن ہوتی چلی گئی ۔ لیکن شر پسند عناصر پر امن فضا کو دیکھ کر تلملائے ہوئے ہیں ۔ جس مندر میں مورتیاں توڑنے کا واقعہ پیش آیا تھا اسی مندر کی دوکانوں میں طاہر حسن بھی کرایہ دار ہے جو پیشہ سے لوہار ہے ۔ مندر کمیٹی کے لوگوں نے ہندو تنظیموں کے ساتھ مل کر دوکان خالی کرانے کی غرض سے طاہر کو بھی ملزم بنایا تھا ، جسکی وجہ سے طاہر کی دوکان بند تھی 15دنوں کے بعد طاہر نے آج جیسے ہی دوکان کھولی مندر کمیٹی کے لوگ ایک مرتبہ پھر مند ر میں جمع ہو گئے اور انھوں نے شر پسندی کو ہوا دینے کی غرض ہندو تنظیموں کے ذمہ داران و کارکنان کو بلا لیا ، جنھوں نے آتے ہی ہنگامہ بازی شروع کر دی اور دوکان بند کرانے کی کوشش کرنے لگے اسی درمیان کسی نے پولیس کو اس ہنگامہ بازی کی اطلاع دے دی ۔ اطلاع ملتے ہی آناً فاناً میں ایس ڈی ایم ، سی او او ر کوتوالی انچارج معہ پولیس فورس کے جائے وقوع پر پہنچ گئے ۔ بعد ازاں ایل آئی یو کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی اور انھوں نے مندر کمیٹی کے لوگوں اور ہندو تنظیموں کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اس طرح ہنگامہ بازی نہ کرکے ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ مندر کمیٹی کے کارکنان اور ہندو تنظیموں کے ممبران نے زبردستی طاہر کی دوکان بند کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس افسران اور ایل آئی یو کے ذمہ داران نے طاہر سے کہا کہ وہ خوبف زدہ نہ ہو ۔ پولیس فورس اسکی حفاظت کیلئے تعینات ہے اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں ۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے ، فیصلہ کا انتظار کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker