زبان وادبمضامین ومقالات

تبصرہ نگاری کا فن اور ظفر حبیب کی تبصرہ نگاری

احتشام الحق
معاون استاد، نئی تعلیم بنیادی اسکول، مجھولیہ، دربھنگہ، بہار
تبصرہ نگاری اردو ادب کی جدید ترین اصناف میں سے ایک ہے جس کے ذریعہ کسی کتاب کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرائی جاتی ہے۔ اردو میں دیگر کئی اصناف کی طرح اس کے ڈانڈے بھی انگریزی ادب سے ملتے ہیں۔ انگریزی میں۱۸۰۲ میں Edinburg Review and Critical Journal کا اجرا عمل میں آیا جس میں تنقیدی مضامین کے ساتھ معیاری تبصروں کو بھی جگہ دی گئی۔ بعد میں Blackword’s Magazine، The Quarterly Review، Sunday Reviewاور Spectator اور ایڈگر ایلن پو کی گراہم میگزین وغیرہ کی اشاعت عمل میں آئی جن میں تبصروں کی اشاعت کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔
اردو میں بھی اخبارات ورسائل کی اشاعت کے ساتھ ہی کتابوں پر تبصرے کا آغاز ہوا۔ حالانکہ اس سے قبل اردو تقریظ اور دیباچے وغیرہ کی روایت رہی ہے۔ البتہ تقریظ دیباچے اور تبصرے میں یہ فرق ہے کہ تقریظ یا دیباچہ کتاب میں شامل ہوتا ہے جس میں کتاب کے موضوع اور مصنف کے بارے میں تشریح وتوضیح تو ہوتی ہے لیکن اس میں کتاب کے کمزور پہلوؤں سے اغماض برتا جاتا ہے۔ جبکہ تبصرہ کتاب کی اشاعت کے بعد تحریر کیا جاتا ہے تاکہ عام قاری کو کتاب کی تفصیل معلوم ہوسکے۔ اچھا تبصرہ وہی ہوتا ہے جو قاری کو یہ بتاسکے کہ یہ کتاب کس حد تک کی اس کی ضرورت کی چیز ہے۔
یہ لفظ ”تبصرہ“ عربی زبان کے مادہ ب ص ر سے مشتق ہے۔عربی زبان میں اس مادے سے کئی الفاظ بنتے ہیں۔ مثلا بَصُرَ، بَصِرَ کے معنی جاننا یا دیکھنا ہے۔ جبکہ باصَرَ کے معنی دور سے جھانک کر دیکھنا، تَبَصَّرَ کے معنی غور سے دیکھنا، سوچنا ،غور کرنا، اِستَبْصَّرَ اچھی طرح دیکھنا، ظاہر کرنا، اور المُبْصِرْکے معنی نگہبان ہے۔ اردو زبان میں اس مادہ سے تین الفاظ عام طور پر مستعمل ہیں۔ایک تو یہی تبصرہ ہے اور دوسرے ”بصارت“ اور ”بصیرت“ہیں۔ بصارت کا تعلق ظاہر سے ہے یعنی آنکھ سے دیکھنا اور بصیرت کا تعلق باطن سے ہے ، یعنی زیرکی، عقل اور دانائی۔ اس میں ادراک کا پہلو نمایاں ہے۔ جبکہ تبصرہ کا لفظ عام استعمال میں ہلکی پھلکی رائے کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تبصرہ کے لغوی معنی ’تفصیل، تصریح، توضیح، تشریح کے ہیں۔مذکورہ تمام لغوی معنوں کو سامنے رکھ کرادب میں ایک مخصوص طرز تحریر یا صنف کے طور پر استعمال ہونے والے لفظ تبصرہ پر غور کریں تو اس میں یہ سارے معانی جزوی طور پر پائے جاتے ہیں اور اس میں ظاہر وباطن دونوں پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ البتہ ظاہر کی سطح باطن کی سطح سے وسیع ہوتی ہے: کلیم الدین احمد لکھتے ہیں :
” کسی تصنیف ، کلام یا واقعہ کے متعلق سرسری طور پر بحث ومباحثہ کے لیے جب رائے کا اظہار کیا جاتا ہے تو اسے تبصرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی کتاب کے جو ہر کا پتہ لگانا اور اسے اجمال یا تفصیل کے ساتھ پیش کرنا اور جو کچھ کہا جائے اس سے کتاب کی اہم ترین خصوصیتیں واضح ہوجائیں۔“
(اردو تنقید پر ایک نظر: اردو میں تبصرہ نگاری ص ۳۲۶)
اس سلسلے میں رئیس احمد صمدانی کی رائے بھی دیکھی جاسکتی ہے:
”تبصرے میں کتاب کے مندرجات اور اسلوب بیان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور مواد کے مثبت و منفی پہلوؤں کو اختصار سے بیان کیا جاتا ہے۔ تبصرہ قاری کو کتاب کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس کی بنیاد پر قاری اس دستاویز یا کتاب کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے قابل ہوجاتاہے۔ “
(ہماری ویب ڈاٹ کام)
تبصرہ کی بنیادی شرط کتاب کا راست اور ذاتی مطالعہ ہے۔ اگر کتاب نہیں پڑھی جائے گی تو کتاب کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ممکن نہیں ہوگا اور تبصرے میں غیر درست معلومات بیان ہوسکتی ہیں۔ اس سے مبصر کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ کیونکہ تبصرہ لکھتے ہوئے وہ ایک ذمہ دار شخص ہوتا ہے۔ تبصرہ لکھنے والے کو نہایت باریک بینی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنا پڑتاہے۔ مبصر دوران مطالعہ ذہن میں ابھرنے والے ضروری نکات کتاب کے حاشیے پر بطور یادداشت قلم بند کرلیتا ہے تاکہ تبصرہ لکھتے وقت کوئی ضروری نکتہ چھوٹ نہ جائے۔ تبصرہ لکھنے سے قبل چند بنیادی اور لازمی امور کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
تبصرے میں کتاب کاموضوع بنیادی چیز ہے۔ساتھ ہی مصنف کتاب لکھنے کا جو مقصد رکھتا ہے تبصرے میں اس پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے کتاب کا نام ، تمہید اور تعارف کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔ کتاب کے موضوع کے انتخاب میں عموما ًخاص پس منظر کار فرما ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے مصنف یا ادیب اسے موضوع بحث بنانے پر مجبور ہوتا ہے۔
تبصرے میں کتاب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کتاب کا نام تجویز کرتے وقت بھی صاحب کتاب کے ذہن میں کوئی مخصوص پس منظر ہوتا ہے۔ تبصرہ نگار یہ بھی دیکھتا ہے کہ کتاب کا نام موزوں ہے یاغیر موزوں ؟ لیکن اس کا تعین پوری کتاب کے مطالعے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات کتاب کے ابتدائی مباحث میں نام کے تعلق سے ابہام پایا جاتا ہے۔کبھی کبھی کتاب کے نام سے غلط تاثر قائم ہوجاتا ہے اور قاری کتاب کا نام دیکھ کر بہت سی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے لیکن کتاب میں محض اس کی جھلک ہی دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح کتاب خرےد کر اسے ماےوسی کااحساس ہوتاہے۔کتاب کے نام سے اگر اےسا احساس پالیاجائے تو مبصر اس کی گرفت کرتاہے۔
کتاب کے متن سے گزرتے ہوئے مبصر کو احساس ہوتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے اور کس رنگ میں لکھی گئی ہے۔ اس کی تشخیص کے لیے مباحث کے عناوین اور ذیلی سرخیوں پر غور کرناپڑتا ہے۔ دوران مطالعہ اس بات پر بھی نظر ہوتی ہے کہ کتاب کے مباحث اس کے مرکزی خیال سے مربوط ہیں یانہیں؟ مصنف چند مخصوص الفاظ یا اصطلاحوں کا استعمال کرتا ہے جن سے اس کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب کے اندر نظریات میں داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ایک اچھے مصنف کا نظریہ بتدریج اور منطقی طور پر ارتقا پذےر ہوتا ہے۔ اچھے مصنف کے خیالات میں تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ خیالات میں تضاد سے مصنف کی خود اعتمادی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اخاذ طبےعت کا مالک نہیں ہے۔ ایسے بہت سے مصنف زیر بحث معاملے میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں اور دوسروں کے فیصلہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اچھے تبصرے میں اس کی گرفت ہوتی ہے۔
کتاب کے مشمولہ مباحث کے جائزے کے دوران مبصر اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ مصنف کی فکر سطحی ہے یا عالمانہ۔ اس کے نظریات کس طور پر ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔ اچھا تبصرہ ان متعلقہ مباحث کو بھی نظر میں رکھتا ہے جو اس کتاب میں شامل نہیں کئے جاسکے ہیں۔ مصنف کا یہ طرز عمل کسی خاص مقصد کے پیش نظر بھی ہوسکتا ہے۔ مبصر اس بات کی تلاش کرتا ہے کہ مصنف نے ایسا عمداً کیا ہے یا یہ فروگذاشت کسی سہو کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے مصنف تعصب سے کام لے رہا ہو۔ اس فروگذاشت سے کتاب میں اگر کوئی نقص پیدا ہواہو تو مبصر اس کا اظہار کرتاہے۔شاید توجہ مبذول ہونے پر اگلے ایڈیشن میں مصنف یہ کمی پوری کردے اور تبصرے کا قاری اس کمی سے واقف ہوجاتا ہے اور اس کی تلافی کےلئے دےگر ماخذات کا سہارا لے سکتا ہے۔
اگر کتاب دوبارہ شائع ہوئی ہے تو مبصر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ایڈیشن میں کوئی اضافہ ہواہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو یہ اضافہ کس قسم کا ہے۔ اس اضافے سے کتاب میں کیا جدت آئی ہے۔
غیر تخلیقی کتابوں کے تبصرے میں اس بات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے کہ مصنف نے اس فن کے بنیادی اور ثانوی ذرائع سے استفادہ کیا ہے یا نہیں۔ بنیادی ذرائع سے کام لیتے ہوئے اس نے کونسی جدت پیدا کی ہے؟ اسی طرح ثانوی ذرائع سے اس نے کس طور پر استفادہ کیا ہے ؟ متعلقہ ثانوی ذرائع کا تنقیدی جائزہ بھی اس بس ضروری ہے۔ مبصر کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ فن کی تاریخ ، قوانین وضوابط اور جدید ارتقا سے ضروری واقفیت رکھے۔ کتاب میں کوئی Special Featureمثلا نقشہ جات اور تصاویر وغیرہ ہوں تو اس کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے کتاب کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اردو زبان میں شائع ہونے والی کتابوںمیں ایک بڑی تعداد شعری مجموعوں کی ہوتی ہے۔ اس لیے مبصر کو شعری مجموعے پر تبصرہ کرتے وقت اس میں شامل مختلف اصناف کا ذکر کرناچاہیے۔ تبصرہ کرتے وقت غور کرنا چاہیے کہ اردو شاعری کی مانوس بحروں میں کتنی بحروں کو شاعر نے اس مجموعے میں استعمال کیا ہے۔ مختلف اصناف میں طبع آزمائی اور مختلف بحروں کا استعمال شاعر کی قادرالکلامی پر دلالت کرتا ہے۔ شاعری کی جدید ترین اصناف سے نہ صرف واقفیت بلکہ کم از کم اس کی مبادیات سے آگاہی کے ساتھ مبصر کے لیے علم عروض اور علم بیان کے ساتھ زبان کا گہرا علم رکھنا بھی ضروری ہے۔ محاورہ اور زبان وبیان کی غلطیوں پر گرفت شعری مجموعے کے تبصرے میں نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ شاعری زبان کا خراد ہے اور دیگر علوم کے برعکس شاعری میں زبان وبیان کی خامیاں اور سہو ناقابل برداشت ہیں۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شاعر کے خیالات اپنے ہیں یا مستعار۔ اس کے تخیل میں بلند پروازی ہے یا عامیانہ پن؟ شاعر کے تجربات وسیع ہیں یا نہیں؟ تجربات میں صداقت اور اصلیت پائی جاتی ہے یا نہیں؟ اس کے ہاں جذبات کی شاعری ہے یا تصورات کی؟ جذبہ میں صداقت ہے یا نہیں؟ اس کی شاعری میں داخلیت اور خارجیت ، غم دوراںاور غم جاناں کا بیان اور ان کے درمیان امتزاج پیدا ہوا ہے یا نہیں؟ مختلف ادبی تصورات مثلا کلاسیکیت ، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے شعری رویہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ان ادبی تصورات کے چوکھٹے میں مقید ہوکر ہی ادیب اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ تبصرے میں اس پر بھی نظر رکھی جاتی ہے کہ ادیب روایات کا پاسدار ہے یا اس سے منحرف ؟ عمدہ انحرافی رنگ میں جدت آمیزی کا غلبہ ہوتا ہے اور اچھی شاعری میں روایت سے انحراف کے باوجود اس کا رشتہ اس سے گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔ تبصرے میں یہ بھی تلاش کرنا چاہیے کہ شاعر نے اپنی شاعری میں عصری حسیات کو جگہ دی ہے یا اس کا رجحان رومانیت کی جانب ہے ؟ اگر شاعری کا موضوع حسن وعشق ہے تو اس میں پاکبازی ہے یا ابتذال وسوقیانہ پن؟ محبوب کا تصور اس کے ہاں زمینی ہے یا ماورائی؟ اس کے عشقیہ جذبات میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے؟ اس کے خیالات میں حوصلہ او رولولہ کی بانگ ہے یا اس کا طبعی میلان حرمان ویاس کی طرف ہے؟ بیان میں شگفتگی ورعنائی ہے یا مشکل پسندی اور ثقالت؟ تخیل کی تازگی اور فرسودگی بھی قابل نظر امر ہے۔ زیر نظر کتا ب میں سنجیدہ شاعری ہے یا مزاحیہ اس کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہیے۔ موضوع کے ساتھ ساتھ مصنف یا ادیب کے ادبی رجحان کا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ مبصر کو نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا رجحان ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی ؟شاعر نے کوئی نیا تجربہ کیا ہے یا نیا تجربہ کرنے کی کوشش ہے تو اس کو بھی ظاہر کرنا چاہئے اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس میں اسے کتنی کامیابی ملی ہے۔ اس امر کو بھی دیکھنا چاہئے کہ اس نئے تجربہ سے فن شاعری میں کیا وسعت آئے گی۔ الغرض خیال اور اظہار کی سطحوں پر جو تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں وہ سب مبصر کی نظر میں رہنی چاہئیں۔
کتاب مصنف کے ذہن کی اپج ہوتی ہے۔ مصنف کے پس منظر کو سامنے رکھے بغیر کتاب پر تبصرہ جامع نہیں ہوسکتا ہے۔ بطور خاص اگر کتاب کا تعلق تخلیقی کاموں مثلا فکشن، شاعری اور ڈرامے وغیرہ سے ہو۔ پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف کی نسل ، قومیت اور خاندان پر بھی سرسری نظر ڈالی جاتی ہے۔ ساتھ ہی اس عہد کے ان سماجی ، ثقافتی ،مذہبی اور سیاسی ماحول کو بھی ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے جن میں اس کی پرورش ہوئی اور اس کے افکار وخیالات متاثر ہوئے۔ مصنف کی سیاسی ، سماجی ، ادبی اور مذہبی وابستگی کے پیش نظراس کی تعلیمی لیاقت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہیں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ موجودہ کام پر ان عوامل کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگر صاحب کتاب اس سے قبل بھی کتاب لکھ چکا ہے تو قبل کی تصنیف کا اس سے کیا تعلق ہے۔ اس کا ذکر قاری کے لیے مفید ہوتا ہے۔ تجربہ کار مصنف کی کتابیں پسند کی جاتی ہیں۔ صاحب کتاب کے پس منظر کا جائزہ مبصر کے لیے رائے قائم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور شعری رویہ کے ارتقا میں تو یہ کار آمد عامل ہے۔
کتاب کا مطالعہ، اس کی تفہیم اور مصنف کے پس منظر کا جائزہ لینے کے بعد تبصرے کا خاکہ تیار کیا جاتا ہے۔ خاکے میں کتاب کے بارے میں بنیادی معلومات دی جاتی ہے۔ جن میں کتاب کا نام، مصنف، ایڈیشن، سن اشاعت، صفحات، قیمت، ملنے کا پتہ اور ناشر وغیرہ جیسی معلومات شامل ہیں۔
تبصرے کے مسودے میں دیگر مضامین کی طرح کم از کم تین اجزا ہوتے ہیں جنہیں تمہید، ارتقا اور خاتمہ کا نام دیا جاسکتا ہے۔
کسی بھی مضمون کا تمہیدی جزواہمیت رکھتا ہے۔ مؤثر تمہید قاری کی توجہ فورا اپنی جانب مبذول کرلیتی ہے۔ عام طور پر تبصروں کی ابتدا ”زیر نظر“ اور” زیر تبصرہ کتاب“ جیسے بے لطف فقروں سے کی جاتی ہے لیکن اچھا مبصر اس کی ابتدا مختصر مگر مؤثر تمہید سے کرتا ہے جو کتاب کے موضوع یا صاحب کتاب سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس طرح قاری کی ذہنی وابستگی کے بعد ایک خوبصورت گریز کے ذریعہ تبصرہ نگار زیر تبصرہ کتاب پر پہنچتا ہے۔
تبصرے کے خاکے میں گرچہ کتاب اور صاحب کتاب کے نام درج کیے جاتے ہیں لیکن تمہید میں بھی انہیں شامل کردےنے سے قاری اور مضمون کے درمیان ایک رشتہ استوار ہوجاتا ہے اور قاری خود کو مبصر کے ہمراہ محسوس کرتا ہے۔
تمہید میں کتا ب کے مرکزی خیال کا اظہار بہتر ہوتا ہے۔ اچھا تبصرہ قاری پر کتاب کی افادیت واضح کردےتا ہے۔ اسی طرح کتاب کے نوع کا تعین بھی ابتدا ہی میں ہوتا ہے اور یہ بھی اسی جگہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کتاب کس انداز کی ہے۔ اس کتاب میں کس طرز کو اپنایا گیا ہے؟ مبصر کی نظر میںاس کتاب کا اسلوب پسندیدہ یا ناپسندیدہ کیوں ہے ؟ کتاب دلچسپ ہے یا نہیں؟ کیا کتاب اپنے مقصد میں کامیاب ہے؟ مصنف کے خیالات کیاہیں؟ ان سارے امور پرمبصر کی نظر ہوتی ہے۔ اچھے مصنف کے بیان میں وضاحت اور قطعیت ہوتی ہے۔ بیان میں ابہام اور پیچیدگی پیدا ہونے سے قاری کا ذہن بھی الجھ جاتا ہے۔ نتیجتاًوہ پوری کتا ب کا مطالعہ نہیں کرپاتاہے۔ مزید برآں کتاب پر خرچ ہونے والی رقم پر افسوس ظاہر کرتا ہے۔
تمہید کے بعد تبصرہ اصل موضوع کی طرف ارتقا کرتا ہے۔ اچھے تبصرے میں کتا ب کی صحیح قدروقیمت متعین کی جاتی ہے اور جہاں تک ممکن ہو یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مصنف کا انداز نظر کیا ہے؟ یہ وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ ذرائع کے اختیار وانتخاب میں مصنف کی شخصیت کا کیا اثر مرتب ہوا ہے؟ ایسا کرنے پر تبصرہ ایک مضمون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن یہ تفریق قائم رہتی ہے کہ اس میں کتاب کی کوئی بحث یا حصہ شامل نہیں کیا جاتا۔ البتہ کسی نکتہ کو عیاں کرنے کے لیے بعض اقتباسات شامل کیے جاسکتے ہیں۔ تبصرے میں کتابیات سے اعتنا نہیں کیاجاتا ہے۔ اچھی تصنیف اپنے فن میں ایک علمی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
تبصرہ کا اختتام تشفی بخش ہونا چاہئے تاکہ قاری کو تشنگی کا احساس نہ ہو۔ اس میں کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کے بیان میں اعتدال اور غیر جانب داری لازمی ہے۔ خامیوں کی نشاندہی میں سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ نہ ہی تعریف میں بے جا رطب اللسان ہونا مبصر کےلئے زیبا ہے۔ مصنف کی تضحیک مبصر کو زیب نہیں دیتی کیوں کہ مبصر کی شخصیت سنجیدہ اور پر وقار ہوتی ہے۔ یوں بھی تبصرہ کا مقصد خامیوں کا شمار نہیں ہے اور نہ ہی اچھا مبصر اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ خاتمہ تمہید میں پیش کردہ خیالات سے بہت حد تک مربوط ہوتا ہے تاکہ تبصرہ کا اختتام منطقی ہو۔ کتاب کے معنوی تجزیہ کے ساتھ اس کی صوری حالت کا جائزہ بھی تبصرے کا حصہ ہوتاہے۔ مثلا اس کا کاغذ ، حسن ترتیب اور سرورق کی جاذبیت وغیرہ۔ ان کے جائزہ سے مصنف کے ذوق جمال کا پتہ چلتا ہے۔ تبصرے میں کتاب کے تعلق سے مبصر اپنے ذاتی احساسات اور اس کے اسباب پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔اس سے تبصرہ عمیق ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کتاب صاحب کتاب کے ذہن کی اپج ہوتی ہے۔ تبصرہ میں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ کتاب کس طرح کے لوگوں کے لیے زیادہ کار آمد ہے۔ایک اچھا تبصرہ مبصر کی گراں قدر رائے ہوتی ہے جس سے قاری کی رغبت کتاب سے بڑھتی ہے یا وہ اس سے باز رہتا ہے۔تبصرے میں کتاب سے متعلق ایسی معلومات دینے سے حد درجہ پرہیز کرنا لازمی ہے جس سے قاری گمراہ ہوجائے۔ اس سے خود مبصرکی شخصیت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور ذمہ دار قاری کا اعتبار بھی اس سے ختم ہوجاتا ہے۔ پھر اس کی تبصرہ کردہ بہت سی لائق کتابوں سے قاری گریز بھی کرنے لگتا ہے۔
تبصرے کی تحریر میں توازن بہت ضروری ہے۔ تبصرے کا انداز لکش اور عالمانہ ہوتا ہے اور ایک اچھے تبصرے میں تلخی نہیں پائی جاتی ہے۔ تبصرہ نگار کو وسیع معلومات کا حامل ہونا چاہیے۔ اوسط قاری بہت سے مضامین میں اپنی واقفیت کو بہت محدود سمجھتا ہے۔اس لیے وہ مبصر کی رائے پر اعتماد کرتا ہے۔اس وجہ سے تبصرے میں صرف حقائق کا بیان اور افترا پردازی سے حد درجہ پرہیز لازم ہوجاتا ہے۔ کےونکہ تبصر ے کا مقصد رہبری ہے۔ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
”بہ حیثیت قاری میری دلچسپی صرف یہ ہے کہ میں کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔مجھے اس بات سے چنداں سروکار نہیں کہ تبصرہ نگار کسی فن کا مظاہرہ کر رہا ہے یا کسی مشق یعنی skill کا؟“
اردو میں گرچہ تنقید کی طرح تبصرہ بھی جدید ترین صنف ہے مگر اس کی ایک توانا روایت رہی ہے۔ مشہور ادیبوں میں الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، علامہ نیاز فتح پوری، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، بابائے اردو مولوی عبد الحق، علامہ ماہر القادری،مولانا ابو الکلام آزاد، سید سلیمان ندوی، عبد الماجد دریابادی اور مشفق خواجہ وغیرہ نے نہایت معیاری اور عمدہ تبصرے کئے ہیں۔
موجودہ وقت میں جتنے بھی معیاری رسائل شائع ہو رہے ہیں ان میں ایک گوشہ کتابوں کے تبصرے کا لازمی طور پر ہوتا ہے۔ ان تبصروں سے رسالوں کے قارئےن کو بہترین کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے اور انہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کون سی کتابیں ان کی ضرورت کی ہیں۔ ان رسالوں نے جہاں کتابوں کو عوام تک پہچانے کی عظیم خدمات انجام دی ہیں وہیں کئی مشہور اور معتبر مبصر بھی پیدا کیے ہیں۔ انہی مبصرین میں ایک اہم نام پروفیسر ظفر حبیب کا بھی ہے۔
پروفیسر ظفر حبیب علمی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ انہوں نے شاعری، افسانہ نگاری اور تنقید نگاری ، تبصرہ نگاری سمیت تخلیقی اور تنقیدی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ان کے تین افسانوی مجموعے’‘آنگن آنگن’’ ۱۹۸۰، ‘‘جنگل کا سفر’’ ۱۹۸۵اور ‘‘بدلتے رت کی کہانیاں ’’ ۲۰۰۹اور تنقیدی مقالات و مضامنی کا مجموعہ ‘‘تفہیمات وتنقیدات’’ ۲۰۰۸، ‘‘تنقید اورتفہیم’’ ۲۰۱۵اور ‘‘فنکاران بہار’’ (جلد اول ) ۲۰۱۶ءمیں شائع ہو کر عوام میں مقبول ہوچکے ہیں۔ ” نور نکہت نوا “ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جبکہ دوسرا شعری مجموعہ زیر طبع ہے۔ادبی سفر کی ابتدا سے ہی وہ دیگرتخلیقی کاوشوں کے ساتھ کتابوں پر تبصرے بھی کرتے رہے ہیں۔جو ہندوستان کے مختلف علمی اورادبی رسالوں میں شائع بھی ہوئے ہیں۔
پروفیسر ظفر حبیب ہمہ جہت، وسیع النظر، کثیر المشرب، منکسر المزاج اور سادہ دل علمی وادبی شخصیت کا نام ہے۔ ان کا نام اصل میں ظفر الاسلام ہے۔والد کا نام ڈاکٹر محمد حبیب الرحمن ہے۔ والد محترم کے نام کو شامل کرتے ہوئے انہوں نے اپنا قلمی نام ظفر حبیب رکھ لیا۔ ان کی پداائش ۲۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء(سندا )کو ضلع بیگو سرائے کے لکھمنیاں کے ایک علمی وادبی گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خانوادہ علاقہ میں علمی برتری اور دینی مزاج کی وجہ سے معروف تھا۔ ایسے ہی گھرانے میں ظفر حبیب کی پرورش وپرداخت ہوئی۔ ڈاکٹر ارشد جمیل نے بالکل صحیح لکھا ہے :
”شخصیت کی تعمیر وتشکیل میں خاندانی روایات اور ماحول کا اہم کردار ہوتا ہے۔ پروفیسر ظفر حبیب کو بھی یہ بہترین مواقع میسر ہوئے۔ آپ نے خاندانی روایت کے مطابق پہلے دینی تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کی نگرانی میں عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ قرآن وحدیث سے آشنا ہوئے۔ زندگی کی حقیقت اور اس کے مقصد سے روشناس ہوئے۔ ابتدا ہی میں آپ کو یہ باور کرادیا گیا کہ زندگی کو بامقصد اور بامعنی کیونکر بنایا جاسکتا ہے۔ آپ جب عصری علوم کی طرف آئے تو یہ ماحول گرچہ آپ کے لیے نیا تھا لیکن آپ کی تربیت اس ٹھوس بنیاد پر ہوچکی تھی کہ آپ کے مزاج ومنہاج میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ اپنی طالب علمی کے زمانہ سے اس بھیڑ میں اپنے وضع وقطع اور فکر وعمل کے اعتبار منفرد وممتاز رہے“
(سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص ۲۲۷)
ابتدائی تعلیم کے بعد۱۹۶۲ میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۱۹۶۴ میں انٹر میڈیٹ ، ۱۹۶۶ میں بی اے آنرز اردو اور ۱۹۶۸ میں ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کرلی۔ پروفیسر ظفر حبیب ہمیشہ اپنے اساتذہ کے درمیان نمایاں اور ممتاز طالب علم رہے۔ تعلیم سے فراغت کے صرف چار مہینے بعد ۱۹۶۹ میں ان کی تقرری بحیثیت لکچرر اے پی ایس ایم کالج برونی میں ہوگئی۔ پھر وہ ترقی پاکر۱۹۸۵ میں ریڈر ہوگئے اور ۱۹۹۵ میں یونیورسٹی پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔۲۰۰۸ میں للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے وہ صدر بنائے گئے اور یہیں سے ۲۰۰۹ میں سبک دوش ہوگئے۔
پروفیسر ظفر حبیب یوں تو ایک شاعر، افسانہ نگار اور تنقید نگار ہیں لیکن بنیادی طور پروہ اردو زبان وادب کے استاد ہیں۔ اپنے پیشے کا حق ادا کرنے والے استاد کی حیثیت سے لکھنا پڑھنا ان کا وظیفہ حیات رہا ہے۔ وہ نہ صرف خود وسیع المطالعہ شخص ہیں بلکہ اپنے طلبہ میں بھی مطالعے کے رجحان کو فروغ دیتے رہے ہیں پروفیسر ارشد جمیل کی اس رائے سے بھی مجھے بالکل اتفاق ہے:
”ظفر حبیب شاعر ہی نہیں مدرس بھی ہیں۔زندگی کے حقائق ان کے سامنے ہیں۔ دنیا والوں کو درس حیات دینا چاہتے ہیں جس سے ان کی زندگی کے حقائق ان کے سامنے ر ہیں۔ جس سے ان کی زندگی کامیاب اور کامران ہو اور زندگی ان کی نگاہ میں عزیز تر ہوجائے۔ ’’
(سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص ۲۳۸)
پروفیسر ظفر حبیب بحیثیت ادیب ایک بہترین افسانہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ادبی سفر کی شروعات شاعری سے کی۔۱۹۶۲ میں انہوں نے شعر گوئی شروع کردی تھی جب وہ میٹرک کے طالب علم تھے۔ ان کی شاعری انہیں اپنے عہد کے شعرا میں بڑی حد تک ممتاز کرتی ہے: ڈاکٹر دبیر احمد لکھتے ہیں:
”ظفر حبیب ایک سنجیدہ شاعر کا نام ہے۔ وہ شاعری کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بناتے۔ ان کی نگاہیں غزلیہ شاعری کی روایت کو خوب پہچانتی ہیں۔ وہ اپنے دلی جذبات کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ روز مرہ کی بول چال کو جس چابکدستی سے انہوں نے شعر کا جامہ پہنایا ہے اس سے ان کی شعری بصیرت کی داد دینی پڑتی ہے۔“
(سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص۲۳۹)
جبکہ بسمل عارفی نے ان کی شاعری کے نقوش کو اس طرح ابھارنے کی کوشش کی ہے:
”پروفیسر ظفر حبیب کے یہاں حوصلے کا فقدان نہیں ہے اور وہ پیغام امن کے ساتھ پیغام حق کے لیے بھی تیار رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ گھپ اندھیرے اور کہرے سے اٹے آسمان میں بھی سورج کی شعاؤں کو دیکھ لیتے ہیں یا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجموعی طور پر پروفیسر ظفر حبیب کی غزلیں ناامیدی میں امید کا چراغ روشن رکھنے اور حق کی آواز بلند کرنے کی قوت عطا کرنے کے ساتھ ہی باطل کے سامنے سپر ڈالنے سے روکتی ہے۔ “
(بسمل عارفی ، سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص۳۰۱-۳۰۲)
جیسا کہ اوپر مذکورہ ہوا کہ پروفیسر ظفر حبیب ایک نامور افسانہ نگار ہیں۔ ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے’‘آنگن آنگن’’ ۱۹۸۰، ‘‘جنگل کا سفر’’ ۱۹۸۵اور ‘‘بدلتے رت کی کہانیاں ’’ ۲۰۰۹شائع ہوچکے ہیں۔ ”آنگن آنگن“ میں صرف ایک افسانہ ان کا اپنا ہے بقیہ تمام افسانے انگریزی ادب کے عالمی شہرت یافتہ افسانوں کے ترجمے ہیں۔ ترجمہ ایک مشکل ترین فن ہے۔ وہ بھی جب معاملہ تخلیقی ادب کا ہو۔ پروفیسر ظفر حبیب نے ترجمے میں افسانے کے فن کو حد درجہ برتنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے رواں اور سلیس ترجمے کو دیکھ کر ان کی انگریزی زبان دانی کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔ ترجمے کے بعد انہوں نے طبع زاد افسانوں کی طرف رخ کیا اور تقریبا تیس برسوں کی مدت میں دو افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے۔ یہ افسانے بر صغیر کے مختلف ادبی رسالوں میں شائع ہوچکے ہیں اور تیس سے زائد افسانے آل انڈیا ریڈیو دربھنگہ اور پٹنہ سے نشر بھی ہوچکے ہیں۔
پروفیسر ظفر حبیب کی افسانہ نگاری کی بنیادی خصوصیت حقائق کا اظہار اور تعمیر پسند معاشرہ کی تشکیل ہے۔ ڈاکٹر محمد شرف الدین لکھتے ہیں:
”ظفر حبیب کی افسانہ نگاری کی عمارت تعمیر پسندی کی بنیاد پر کھڑی نظر آتی ہے۔ تعمیر پسند افسانہ نگاروں کی صف میں وہ پورے وقار اور سربلندی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک اسلام پسند اور تعمیر پسند مزاج رکھنے والا افسانہ نگار مایوسی اور محرومی کے اندھیرے میں بھی امید کی کرن اور نجات کا کوئی پہلو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ ظفر حبیب کے بیشتر افسانوں کا مرکزی خیال اعلی کردار، بلند اخلاق اور صلاح وفلاح کی سرزمین میں پیوست ہے۔ انہیں بے حیائی غیر اخلاقی باتوں سے پرہیز ہے۔ “
(ڈاکٹر محمد شرف الدین، سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص ۲۶۷، ۲۷۰)
پروفیسر ظفر حبیب نے تخلیقی ادب کے ساتھ تنقیدی ادب میں بھی اپنی ظرف بینی کا ثبوت دیا ہے۔”تفہیمات و تنقیدات“،”تنقید اور تفہیم“اور ” فنکاران بہار“ (جلد اول) ان کے تنقیدی مضامین اور علمی مقالات کے مجموعے ہیں۔ ”فنکاران بہار“ جلد دوم بھی جلد ہی زیور طباعت سے آراستہ ہوکر ادب کے اساتذہ اورطلبہ میں مقبول ہوگی۔ ان کی تنقید نگاری کو پروفیسر احمد سجاد اور ڈاکٹر آفتاب آفاقی کی ان آرا سے سمجھا جاسکتا ہے:
”ظفر حبیب اپنی تنقید کو تحقیقی کاوشوں سے مدلل اور مؤثر بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ چنانچہ بیشتر مضامین میں اپنے پیش رو معروف ومستند محققین وناقدین کی آرا کا تفصیلی مطالعہ کرکے حسب ضرورت ان کے بعض اقتباس کو بھی جا بجا پیش کرتے ہیں۔ ظفر حبیب کی تنقید نگاری کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ استفادہ اور مطالعہ وتحقیق کے معاملے میں اپنے ذہن وفکر کی کھڑکیوں کو کھلا رکھتے ہیں مگر کسی قطعی رائے کے اظہار میں اپنے تعمیر ی اور اخلاقی نقطہ نظر اور متوازن ومتعدل رویہ سے کبھی دامن کش نہیں ہوتے بلکہ رد وقبول کی جھجک سے بے نیاز ہوکر اپنی فکر کو مدلل ومبرہن بناکر پیش کرتے ہیں اور اس پر قائم رہتے ہیں۔ “
(احمد سجاد،سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص۳۱۶، ۳۱۸)
”ظفر حبیب کے تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب تفہیمات وتنقیدات کے محتویات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اپنے ادبی عقائد اور تصورات پر کہیں بھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ انہوں نے انہی شعروادبا کو اپنا موضوع بنایا جن کے یہاں حیات انسانی کی نجی اور اجتماعی زندگی کو مثبت سمت عطا کرنے کی قوت موجود ہے۔“ ”اس اعتبار ظفر حبیب ہمارے ان ادیبوں اور نقادوں میں شمار کئے جائیں گے جنہوں نے اعلی اور ادبی تحقیقات کا پاس رکھتے ہوئے کسی بھی فن پارے کے معیار اور تعین قدر میں تعمیری پہلو کو بنیادی اہمیت دی ہے۔
(آفتاب احمد آفاقی،سہ ماہی مژگاں کولکاتا، جلد ۱۴، شمارہ ۴۱-۴۲ ص ۳۲۳)
پروفیسر ظفر حبیب نے تبصرہ نگاری کی ابتدا۱۹۸۵ سے کی اور ان کا پہلا تبصرہ پروفیسر عبد المغنی کی ادارت میں نکلنے والے رسالے مریخ میں ”دشنامے چند“ پر شائع ہوا۔ تب سے وہ مسلسل کتابوں پر تبصرے کرتے رہے ہیں۔ ان تبصروں میں سے جو تبصرے حاصل ہوسکے ہیں ان میں سے ۲۳ تبصروں کو سامنے رکھ کر ان کی تبصرہ نگاری کا عمومی جائزہ لیا گیا ہے۔
دشنامے چند پر پروفیسر ظفر حبیب کا پہلا تبصرہ ہے جو مریخ کے مشترکہ شمارے ۱۹۸۵ میں شائع ہوا اور ۲۱-۰۷-۱۹۸۵ کو لکھا گیا تھا۔یہ ناوک حمزہ پوری کے انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر ظفر حبیب نے اس تبصرے میں انشائیہ کے فن اور انشائیوں پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد ناوک حمزہ پوری کی انشائیہ نگاری کی خصوصیات کو واضح کیا ہے۔ دوسراتبصرہ بھی ناوک حمزہ پوری کی ہی کتاب ”قوس حمزہ پوری: ایک تعارف“ پر ہے جو۲۱-۰۷-۱۹۸۵ کو تحریر کیا گیا۔ یہ تبصرہ پہلے تبصرے سے عمدہ اور مکمل تبصرہ ہے۔ تبصرے میں کتاب کے تسامحات پر پوری گرفت کی گئی ہے۔ صاحب کتاب کے خیالی تضاد کو بھی واشگاف کیا گیاہے۔
”ایلاف’’ رؤف خیر کا شعری مجموعہ ہے۔ اس پر تبصرے میں مبصر نے جہاں ترائیلے کی خصوصیات واضح کی ہے وہیں کتاب میں موضوع کے حق کی ادائیگی اور عدم ادائیگی کی صراحت کے ساتھ تکنیکی سہوکی گرفت بھی کی ہے۔ تبصرے کے مطالعے سے پوری کتاب کا خاکہ ذہن میں آجاتا ہے۔
” کوکن کا مغنی“ یہ تبصرہ بھی عمدہ ہے۔ کتاب جن کے تعارف کے لیے لکھی گئی ہے تبصرہ بھی ان کو سامنے لاتا ہے۔
انتخاب ۳:خاص نمبرزیر ادارت ذاکر عزیزی از بنگلہ دیش پر بھی عمدہ تبصرہ ہے۔ اس میں اردو زبان کی زبوں حالی کے بیان میں گفتگو قدرے طویل ہوگئی ہے۔
”جانو پہچانو“ بچوں کی نظموں پر مشتمل شاعر ناوک حمزہ پوری کی کتاب ہے۔ اس پر تبصرے سے قبل ناوک حمزہ پوری کا ایک خط نقل کیا گیا ہے جو مبصر کے نام لکھا گیا ہے۔ اس خط کو پڑھنے اور تبصرہ سے قبل شامل کرنے کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مبصرکا یہ تبصرہ شاید جانبدار اور تقریظ نما ہوگا۔ کیونکہ پروفیسر ظفر حبیب نے ناوک حمزہ پوری کی کئی کتابوں پر تبصرے کئے ہیں۔ ان تبصروں میں انہوں نے ایک غیر جانبدار مبصر کا فریضہ انجام دیا ہے اور جہاں کہیں بھی سہو نظر آیا ہے اس کی نشاندہی کی۔ اس کتاب کے تبصرے میں بھی فروگذاشت کی اصلاح کرکے مبصر نے جانبداری سے دامن بچالیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس خط کو نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔
”نعتیہ شاعری کا ارتقا “جامع تبصرہ ہے اور کتاب کے تمام محتویات کو سامنے لاتا ہے اور تبصرہ پڑھنے کے بعد کتاب پڑھنے کا اشتیاق جاگتا ہے۔
”تذکرہ بزم شمال“ شاداں فاروقی کی اہم تصنیف ہے جس کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصر نے لکھمنیاں کے گرد ونواح کے بعض اندراجات میں مصنف کے سہو کی گرفت کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی ہے۔ حالانکہ اصلاح میں طوالت کے سبب کتاب کا مجموعی خاکہ سامنے نہیں آسکا ہے۔ جبکہ تذکرہ بزم شمال کا تبصرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے تمام محتویات کو سامنے لایا جائے۔ آج بھی یہ کتاب شمالی بہار کی ادبی تاریخ میں ایک استناد کا درجہ رکھتی ہے۔
”آنکھوں دیکھی“ از ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی پر عمدہ تبصرہ ہے جس میں مناظر عاشق کی نظم نگاری کا عمومی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ تبصرے میں مبصر کے اندر کا تنقید نگار بھی جا بجا جھانکتا نظر آتا ہے۔
”پیغام حسین“ از مولانا کلیم ابو نصر وسیم احمد، ”زخموں کے سلسلے“ عبد الصمد تپش، ”مدعا“ از ظہیر صدیقی، ”صد چاک“ از دیواکر راہی، ”شاخیں“از اسلام پرویز، ”انتخاب ۵: اشاعت خاص“ مدیر ذاکر عزیزی بنگلہ دیش، ” انتشار غزل“ از ناوک حمزہ پوری،”پرواز سخن“ از ناشاد اورنگ آبادی،” تنہا تنہا“ از سید شکیل دسنوی،” نوائے امروز“ از ناوک حمزہ پوری، ”مشک سخن“ از طارق متین،” پہاڑ کاٹتے ہوئے“ از قیصر شمیم،” ذات“ از اقبال مجیدی اور ”مردم گزیدہ“ از اقبال حسن آزاد بھی انتہائی عمدہ اور معیاری تبصرے ہیں۔
البتہ‘‘ پیغام حسین’’ از مولانا کلیم ابو نصر وسیم احمد میں سیدنا حضرت عثمان ؓ عنہ اور سیدنا حضرت علی کے خلافت کے زمانے کے واقعات اور ان کے اختلافات کو جس طرح ترازو لے کر فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا اندازہ تبصرے کے مطالعے سے ہوتا ہے اور جس کو تبصرے میں نظر استحسان سے دیکھا گیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تبصرے میں اس کو اس نظر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
یہ ۲۳ شامل تبصرے ۱۹۸۵ سے۲۰۰۹ کے درمیان لکھے گئے ہیں جو ”مریخ“، ”زبان وادب پٹنہ“، ”ماہنامہ گاندھی مارگ“، نئی دہلی، ”انتخاب بنگلہ دیش“، ” پندار“ اور ”زندگی نو“، نئی دہلی وغیرہ جرائد رسائل اور اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔
نوعیت کے اعتبار سے ان تبصروں کی درجہ بندی کی جائے تو ”دشنامے چند“،” قوس حمزہ پوری“، ”کوکن کا مغنی“، ”انتخاب ۳“، ”پیغام حسین“، ”زخموں کے سلسلے“، ”مدعا“، ”صد چاک“، ”جانو پہچانو“، ”انتخاب۵“، ”نعتیہ شاعری کا ارتقا“، ”پرواز سخن“، ”تنہا تنہا“، نوائے امروز“، ”مشک سخن“، ”پہاڑ کاٹتے ہوئے“، ”ذات “اور” مردم گزیدہ “کو تعارفی، ”تذکرہ بزم شمال “(جلد اول) کو تحقیقی اور” ایلاف“، ”انتشار غزل“ اور” آنکھوں دیکھی“ کو تنقیدی زمروں میں رکھا جاسکتا ہے۔ پروفیسر ظفر حبیب تعارفی تبصروں میں بھی کہیں تشریح وتوضیح تو کہیں حسب ضرورت تنقید سے کام لیتے نظر آتے ہیں۔
ان تبصروں کے پڑھنے کے بعد نہ صرف پرانی کتابوں سے شناسائی ہوتی ہے بلکہ ان کتابوں کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ رسائل وجرائد ان کتابوں پر تبصرے کراتے ہیں جو تبصرے کے لیے انہیں موصول ہوتی ہیں۔ لیکن ان تبصروں کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ایسے مصنفین کو ترجیح دی ہے جن میں ادب کی بھر پور توانائی موجود ہونے کے باوجود انہیں نظر انداز کیا گیا ہو۔ اسی طرح انہوں نے نو آموز شعرا وادبا کو بھی اپنی تحریروں میں ترجیح دی ہے۔ پروفیسر ظفر حبیب نئے مصنفین کو نہ صرف ترجیح دیتے ہیں بلکہ وہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ روش تنقیدی مضامین اور علمی مقالات میں بھی نظر آتی ہے۔
پروفیسر ظفر حبیب جس کتاب پر تبصرہ کرتے ہیں وہ اس کے موضوع پر سرسری نظر ضرور ڈالتے ہیں اور اس موضوع میں موجود جملہ علی سرمایہ کے تناظر کا اجمالی خاکہ پیش کردیتے ہیں۔اس سے قاری کو کتاب کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور اس سے کتاب کی صحیح قدر وقیمت متعین کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ کتاب کی قدر وقیمت کا صحیح تعین ان کے تبصروں کی اہم خصوصیت ہے۔
پروفیسر ظفر حبیب کے تبصروں میں دلکش تمہید ہوتی ہے جو صاحب کتاب کی علمی سرگرمیوں یا شخصی پہلوؤں یا پھر کتاب کے موضوع کے حوالے سے ہوتی ہے اور تمہید سے خوبصورت گریز پید ا کرکے کتاب پر آجاتے ہیں۔ ان کی تمہید ایک تشبیب ہوتی ہے جو تبصرے اور قاری کو دھاگے میں منسلک کئے رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے تبصروں میں مصنف کے پس منظر کو سامنے لاتے ہوئے مصنف صاحب کتاب اور زیر تبصرہ کتاب کے امتیازی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے مصنف کے نظریہ حیات کی عکاسی بھی ہوجاتی ہے اور تبصرہ تنقیدکے میدان میں قدم رکھتا نظر آتا ہے۔
شعری مجموعے کے تبصرے میں زبان وبیان ، لفظوں کے درست استعمال، جملے کی معنویت پر لفظوں کے اثرات کو نظر میں رکھتے ہیں:
”روز مرہ کے محاورات اور الفاظ کا سہارالے کر روز وشب کے مشاہدات وتجربات کو انتہائی سلیقہ مندی سے نظم کرنے کا نام ہے دیواکر راہی“
” جہاں تک زبان کی سلاست وروانی کا معاملہ ہے اس کی حد تک میر نواز اگر ناراض نہ ہوں تو عرض کروں کہ راہی میر سے بیس نظر آرہے ہیں“۔
(تبصرہ صد چاک: دیواکر راہی)
”شاعر میری جانب کی جگہ میرے حصے کردے تو ساری بات مناسب حال ہوجائے گی۔ الفاظ کے استعمال میں اس انداز کا سہو اور بھی کئی جگہوں پر نظر آتا ہے۔“
(تبصرہ : شاخیں، شعری مجموعہ از اسلام پرویز)
حقیقت کا اظہار تبصرہ کی اہم صفت ہے۔ پروفیسر ظفر حبیب نے اس صفت کا تمام تبصروں میں خیال رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے تبصروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف کتاب کے ظاہر پر نظر نہیں رکھتے بلکہ اس کے باطن میں بھی جھانکتے ہیں اور اس کا اغل بغل سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ تبصرے میں صرف کیا ہے پر معاملہ نہیں روکتے بلکہ کیا ہونا چاہئے تک پہنچتے ہیں۔ حالانکہ مجلاتی تبصروں میں اس کی گنجائش کم ہوتی ہے۔
اس سے قبل کہا گیا کہ مبصر کو زیر تبصرہ کتاب کے متعلقہ فن کی تاریخ ، قوانین وضوابط اور جدید ارتقا سے ضروری واقفیت رکھنا چاہئے۔ کتاب میں کوئی خصوصی فیچر مثلا نقشہ جات اور تصاویر وغیرہ ہوں تو اس کی جانب اشارہ کرنا چاہیے۔ اس سے کتاب کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
پروفیسر ظفر حبیب کے تبصروں میں اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اکثر کتابوںمیں زیر تبصرہ کتاب کے فن کی تاریخ، قوانین وضوابط اور جدید ارتقا پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔ کتابوں میں سرورق اور دیگر خصوصی ضمیموں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ قیصر شمیم کی کتاب ”پہاڑ کاٹتے ہوئے“ کے سرورق پر دی گئی تصویر کی طرف اشارہ کرنے ساتھ اس کا کتاب کے موضوع سے کیا تعلق اس کا تجزیہ بھی کیا ہے۔
پروفیسر ظفر حبیب کے تبصرے بطور خاص قاری یا ادب کے طالب علم کو اپنی جن خوبیوں کی وجہ سے متوجہ کرتے ہیں، ان میں زبان بیان کو منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی نثر میں فطری پن اور بے ساختگی ہے۔ وہ باتوں کو الجھاؤکے بغیر پیش کرتے ہیں۔ زبان کی سادگی ایسی ہے کہ جیسے ذاتی محفلوں میں کوئی گفتگو کر رہا ہو۔ انہی خوبیوں میں ان کی تعمیر پسندانہ فکر بھی ہے۔ وہ تبصروں میں ان باتوں اہمیت دیتے ہیں جن سے سماج کے تانے بانے مضبوط ہوتے ہوں۔ ایسی باتوں پر بلاچوک گرفت کرتے ہیں جن سے سماج میں تخریب کاری کا دروازہ کھلے۔ پروفیسر ظفر حبیب کی یہ تعمیر پسندانہ فکر نہ صرف تبصرے کا حصہ ہے بلکہ اس کو ان کی زندگی کا لازمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کی پوری شاعری، افسانہ نگاری، مضمون اور تنقید سارے میدان حتی کہ زندگی میں بھی تعمیر پسندی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر ظفر حبیب تعمیر پسند ادب کا ایک مکمل نظریہ رکھتے ہیں۔ جس پر نہ صرف خود عمل پیرا ہیں بلکہ حلقہ احباب، ادبا اور تلامذہ میں بھی اس کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ جب وہ دربھنگہ میں ایل این ایم یو کے شعبہ اردو کے صدر کے عہدہ پر فائز تھے تو انہوں نے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد اور دیگر قلم کاروں کو شامل کرتے ہوئے ”انجمن تعمیر پسند مصنّفین“ بھی تشکیل دی تھی۔
پروفیسر ظفر حبیب کے تبصروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک مشاق مبصر ہیں۔ شاعری، افسانہ اور تنقید ان کا میدان ہی ہے۔ اس کے باوجود میرا اپنا یہ احساس ہے کہ افسانہ اور شاعری پر ان کے تبصرے مجموعی طور پر اچھے ہوتے ہیں۔ ایسا شاید اس لیے ہے کہ وہ خود بھی شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔
کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے فروغ نے جہاں دیگر چیزوں کی ترقی دی ہے وہیں اردو وطباعت ونشریات کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ بڑی تیزی سے اردو میں کتابیں شائع ہورہی ہیں—حالانکہ یہ کتابیں کس حد تک باقی رہنے والی اور عوام کے لیے مفید ہیں اس پر علاحدہ طور پر بات کرنے کی ضرورت ہے—ان کتابوں کی اشاعت کے سبب اردو جرائد ورسائل کو بڑی تعداد میں کتابوں پر تبصرے بھی کروانے پڑتے ہیں۔ کئی رسالوں میں ایک ایک ادیب درجنوں کتابوں پر ہر ماہ تبصرہ لکھتے ہیں۔ تبصروں کی اس بھیڑ میں کئی مبصر کے تبصروں کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مبصر نے یوں ہی سرسری مطالعہ اور طائرانہ نظر ڈال کر یا سونگھ کر تبصرہ لکھ دیا ہے۔ لیکن پروفیسر ظفر حبیب کے تبصروں کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کتاب کے بسیط مطالعے کے بعدتبصرہ کیا ہے۔ اس کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے وہ کتاب میں پیش کئے گئے خیالات کے تضادات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
”اس کے برخلاف اس مجموعے کا مطالعہ تضاد کو جنم دیتا ہے۔ تضاد یہ کہ انتساب کے صفحہ پر شاعر نے قرآن کریم کی سورہ الشعرا کی ان آیات کو تزئین صفحہ کے لئے استعمال کیا ہے “
آگے مزید انتساب کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”صفحہ انتساب پر درج قرآن کریم کی مذکورہ آیات(والشعراءیتبعہم الغاوون الخ) اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ شاعر کو شر کا دشمن اور خیر کا حامی ہونا چاہئے۔ دنیا میں جنم لینے والے تمام نظریہ حیات کا تعلق سیاست سے ہو یا معیشت ومعاشرت سے اگر اھدنا الصر اط المستقیم سے محروم ہیں تو مردود ہیں اور وہ نظریہ حیات جس نے حبل اللہ کو پکڑ رکھا ہے محمود ولائق تقلید ہے۔ انتساب کے اس اشاریہ سے صرف نظر کرلیا جائے اور پیش لفظ کے مفروضہ کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ باور کرنا پڑے گا کہ شاعر نے بے سوچے سمجھے قرآن کریم کی چند آیات کو زینت کتاب بنادیا ہے“
)تبصرہ: شاخیں از اسلام پرویز)
اس طرح کی گرفت نہ صرف مبصر کی گہری اور تنقیدی نظر کی عکاس ہے بلکہ ان کی صالح فکر کی غماز بھی ہے۔ غرض یہ کہ پروفیسر ظفر حبیب ایک اچھے تبصرہ نگار ہیں۔ ان کے تبصرے فن کی روایات کے پاسدار ہیں۔ ان کی حیثیت اردو کے تبصروں کے سرمایہ میں ایک اضافے کی ہوگی اور بطور خاص تبصرہ نگاری سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے معاون بھی۔
Shaz.bazmi@gmail.com
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker