شمع فروزاں

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے !

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
ریاست تلنگانہ میں ابھی ابھی برادرانِ وطن کا تیوہار گنیش پوجا گذرا ہے ، اس علاقہ میں اس تیوہار کو بڑے تزک و احتشام اور شوق و اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے ، شہروں میں اس کے بڑے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں ، برادرانِ وطن اپنے عقیدہ کے مطابق مذہبی جذبات کا اظہار کرتے ہیں ، یقینا انھیں اس کا پورا پورا حق حاصل ہے اور اگر یہ تقریب قانون کا حق ادا کرتے ہوئے اور امن کو برقرار رکھتے ہوئے منائی جائے تو کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ، مسلمانوں نے اس ملک میں شروع سے بجا طورپر اس کا خیال رکھا ہے کہ ان کا کوئی عمل دوسرے مذہبی گروہوں کے لئے تکلیف اور دل آزاری کا سبب نہ ہو ، اس کا خیال رکھنا نہ صرف قانون کے لحاظ سے ضروری ہے ؛ بلکہ ہمارے مذہب نے بھی ہمیں یہی تعلیم دی ہے ، اسی کا نام ’’رواداری ‘‘ہے ، کہ ہم اپنے مذہب پر عمل کریں ، مگر دوسروں کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دیں ، نہ ہم کوئی ایسی بات کہیں ، جس سے دوسروں کا دل دُکھے اور نہ ہم کوئی ایسا عمل کریں ، جس سے دوسروں کو خلل ہو ۔
لیکن اس بار مختلف مقامات سے اس طرح کی خبریں آئیں کہ وہاں مسلمان مرد و خواتین نے باضابطہ پوجا میں شرکت کی ، بالخصوص حیدرآباد کے قریبی شہر نلگنڈہ میں کچھ ایسے لوگوں نے جن کے نام مسلمانوں کی طرح کے ہیں ، گنیش جی کا منڈپ بنایا ، اس میں مورتیاں رکھیں ، مسلمان نوجوان اور برقعہ پوش خواتین وہاں جاکر بیٹھتے رہے اور قول و عمل کے ذریعہ یگانگت کا اظہار کرتے رہے ، شہر کے بعض فکر مند اور درد مند بزرگ علماء نے خواص کو توجہ دلائی اور عوام کو روکنے کی کوشش کی ؛ لیکن بدقسمتی سے سماج کے ذمہ دار مسلمانوں کو اس کی جیسی کچھ اہمیت محسوس کرنی چاہئے تھی ، محسوس نہیں کی گئی ، ایک نادانی ان لوگوں کی ہے ، جنھوںنے ایسی حرکت کی ، اور ایک تغافل ان لوگوں کا ہے ، جنھوںنے حوصلہ سے کام لے کر قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایسے واقعہ کو روکنے کی کوشش نہیں کی ، اس طرح کے واقعات اب ملک بھر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے لگے ہیں ، ایسی سوچ کا پیدا ہونا اور مسلمانوں کا یہ طرز فکر کا اختیار کرنا بڑا ہی خطرناک اور لائق تشویش بات ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ رواداری جائز ہے اور مداہنت ناجائز ؛ لیکن رواداری اور مداہنت کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ، اس لئے بہت بے دار مغزی کے ساتھ دونوں کے فرق کو سمجھنا چاہئے ، دوسرے مذہبی طور و طریق کو اختیار کرلینا مداہنت ہے رواداری نہیں ہے ، مجھ سے تو میرا کوئی ہندو بھائی دریافت کرے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں ، اگرچہ کہ میرا ادارہ مسلمان ہونے کا نہیں ہے ، تو مجھے اس کے اس ارادہ سے کوئی خوشی نہیں ہوگی ؛ بلکہ میں اس کو مشورہ دوں گا کہ بہتر ہے کہ آپ نماز نہ پڑھیں ؛ کیوںکہ آپ نماز پر یقین نہیں رکھتے ، آپ کا نماز پڑھنا ایسا ہی ہوگا کہ جیسے آپ کا ارادہ تو ہو ممبئی جانے کا ، اور آپ کا کوئی دوست دلی جارہا ہو تو آپ اس کے لحاظ میں دلی کی ٹرین میں بیٹھ جائیں ، یہ کوئی حقیقت پسندی کی بات نہ ہوگی ؛ بلکہ ناسمجھی کا عمل ہوگا ۔
ہم جب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے عقیدہ اور عملی زندگی دونوں میں ان تعلیمات کو قبول کیا ہے ، جو قرآن و حدیث کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوئی ہیں ، ہمارے لئے یہ بات تو ضروری ہے کہ جیسے ہم خود ایک عقیدہ رکھتے ہیں ، ہم دوسرے بھائیوں کے لئے بھی اس حق کو تسلیم کریں کہ انھیں بھی اپنی پسند کے مطابق مذہب کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے ، آخرت کا مسئلہ اللہ کے حوالہ ہے ؛ لیکن دنیا میں ہمارے لئے کسی پر اپنا عقیدہ تھوپنے کی اجازت نہیں ، اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ اگر اللہ کو یہ بات منظور ہوتی کہ سارے کے سارے لوگ مسلمان ہی ہوں تو تم سب کو ایک ہی اُمت بنا دیاجاتا : ’’ وَلَوْ شَآئَ ﷲ ُلَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً‘‘ (المائدۃ : ۴۸ ، النحل : ۹۳) اس سے معلوم ہوا کہ مذاہب و ادیان کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی مشیت کے دائرہ میں ہے ، اس اختلاف کو اس دنیا میں مٹایا نہیں جاسکتا ۔
لیکن ہمارے لئے اس بات کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں اور ایسی باتوں کو بھی قبول کرلیں جو اسلامی عقیدہ سے ٹکراتی ہوں ، یہ ہرگز رواداری نہیں ، یہ مداہنت ، نفاق ، موقع پرستی اور بے ضمیری ہے ، اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد توحید ہے ، اس عقیدہ کی ترجمانی کلمہ طیبہ ’’ لا اِلٰہ الا اللہ ‘‘ سے ہوتی ہے ، اس کلمہ میں اثبات بھی ہے اور نفی بھی ، تسلیم بھی ہے اور انکار بھی ، اقرار بھی ہے اور براء ت کا اظہار بھی ، اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور وہ ایک ہے ، یہ پہلو کفر کی ایک خاص قسم ’’ کفر الحاد ‘‘ کی تردید کرتا ہے ، الحاد کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود ہی کو نہ مانا جائے ، جیساکہ آج کل کمیونسٹ کہتے ہیں ، یا جیساکہ بہت سے اہل مغرب اور مشرقی ملکوں کے مغرب زدہ لوگ کہا کرتے ہیں ، اس کائنات کو سر کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کے باوجود خدا کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ میں بغیر باپ کے اپنے آپ پیدا ہوگیا ہوں ، یقینا ایسا کہنے والے کو لوگ یا تو پاگل کہیں گے یا سمجھیں گے کہ یہ ثابت النسب نہیں ہے ۔
اس کلمہ کا منفی پہلو یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں ، خدائی میں شرکت نہیں ہے ؛ بلکہ وحدت ہے ، یہ کفر کی ایک دوسری قسم ’’ کفر شرک ‘‘ کی تردید کے لئے ہے ، یہ بات قابل توجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں پہلے اسی منفی پہلو کا ذکر کیا گیا ہے ، مثبت پہلو کا ذکر بعد میں آیا ہے ، قرآن مجید میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ، وہ زیادہ تر شرک کی تردید کے لئے ہیں ، مختلف انبیاء نے جو اپنی قوموں کو خطاب فرمایا ہے ، اس کی تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے ، ان سبھوں کا ہدف شرک کا رد کرنا تھا ، جن جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ہے ، ان کی اصل بیماری شرک ہی تھی ؛ البتہ شرک کی مختلف شکلیں ان کے یہاں مروج تھیں ، کوئی قوم مورتی پوجا کرتی تھی ، کوئی سورج ، چاند اور ستاروں کی پوجا کرتی تھی ، کسی کے یہاں بادشاہ پرستی مروج تھی ، کوئی جانور کا پرستار تھا ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا ان میں قدرِ مشترک تھا ، اہل علم نے لکھا ہے کہ مسلمان کے لئے توحید کے اقرار کے ساتھ باطل معبودوں سے براء ت کا اظہار بھی ضروری ہے ، ( مفاتیح الغیب : ۶؍۲۵۴)اسی لئے اسلامی عقائد کے مشہور ترجمان امام طحاویؒ اپنی کتاب ’’ العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ میں اور اس کے مشہور شارح علامہ ابن ابی العز حنفی فرماتے ہیں : ’’یہی وہ کلمہ توحید ہے ، جس کی طرف تمام پیغمبروں نے دعوت دی اور اس کلمہ میں توحید کا ذکر نفی و اثبات دونوں اعتبار سے ہے ، جو حصر کا تقاضا کرتا ہے ، اس لئے کہ اگر صرف خدا کا اثبات ہوتا تو اس میں ( دوسرے خدا کی ) شرکت کا احتمال ہوسکتا تھا ‘‘ ( شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۱۰۹) ایک اور موقع پر فرماتے ہیں :
’’جان لوکہ توحید رسولوں کی بنیادی دعوت ہے ، یہ راستہ کی پہلی منزل ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کے ذریعہ سالک اللہ کے مقام تک پہنچ سکتا ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نوح نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ، ( اعراف : ۵۹) اور حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کی عبادت کرو کہ اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ، ( اعراف : ۶۵) نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی عبادت سے بچو ، ( نحل : ۳۶) اسی لئے مکلف پر جو پہلا فریضہ عائد ہوتا ہے ، وہ یہی ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘۔ ( شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۷۷)
قرآن و حدیث کی اگر تمام تعلیمات کو جمع کیا جائے تو اس کا غالب حصہ عقیدۂ توحید کی تعلیم اور ہر قسم کے شرک کی تردید سے جڑا ہوا ہے ، مسلمان جس حال میں بھی رہے اور جیسی کچھ آزمائش سے گذرے ؛ لیکن اس کی زبان پر ہمیشہ یہی کلمہ رہے :
إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ اَعْبُدَ اﷲِ وَلَآ أُشْرِکَ بِہٖ ، إِلَیْہِ أَدْعُوْا وَإِلَیْہِ مَآبِ ۔ (الرعد : ۳۶)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ، میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف ہماری واپسی ہے ۔
مسلمانوں نے سب کچھ برداشت کیا ؛ لیکن عقیدۂ توحید کے بارے میں کبھی جانتے بوجھتے مداہنت گوارا نہیں کیا ، جب صحابہ نے رسول اللہ ا کے حکم سے حبش کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں انھیں امن و سکون نصیب ہوا تو اہل مکہ کو یہ بات گوارا نہیں ہوئی اور انھوںنے ان کے پاس اپنے نمائندے بھیجے ، حبش کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو بھی طلب کیا اور ان کی مخالفت میں آنے والے وفد کو بھی ، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے ایک مؤثر تقریر فرمائی اور اس میں ان خوشگوار تبدیلیوں کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ ا کی بعثت سے عرب کے جاہلی معاشرہ میں آئی ، جس نے کانٹوں کو پھول اور ذروں کو آفتاب بنادیا تھا ، نجاشی بہت متاثر ہوئے ، مسلمانوں کو قیام کی اجازت دی اور مخالفین کے لائے ہوئے تحائف بھی واپس کردیئے ، اہل مکہ نے دوبارہ آپس میں مشورہ کیا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ، اور محمد ا اللہ کا بندہ ، تو کل ہم بادشاہ کے سامنے رکھیں گے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسی بات کہتے ہیں ، جو آپ کے لئے بہت ہی ناگوار خاطر ہوگی ؛ چنانچہ وہ اس شکایت کو لے کر پہنچے ، مسلمانوں کے وفد کی دوبارہ طلبی ہوئی ، صحابہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق سوال کا ہمیں کیا جواب دینا چاہئے ، حضرت جعفر ؓنے فرمایا : خدا کی قسم ہم وہی کہیں گے ، جو ہمارے رسول ا نے ہمیں بتایا ہے ، چاہے اس کی وجہ سے جوبھی صورت حال پیش آئے ، انھوںنے پوری قوت کے ساتھ نجاشی کے سامنے یہ بات کہی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، خدا کے بندے اور پیغمبر ہیں ، نجاشی خود صاحب علم تھے ، حضرت جعفرؓ کی صدق کلامی اور صاف گوئی نے ان کو بے حد متاثر کیا اورانھوںنے ایک تنکا اُٹھاکر کہا کہ جتنی بات اِنھوںنے کہی ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اُس سے اِس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہے ۔ ( مسند احمد : ۱؍ ۲۰۲، حدیث نمبر : ۱۷۴۰)
غرض کہ ایسے نازک حالات میں بھی صحابہ نے نہ صرف توحید پر استقامت اختیار کی ؛ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سکوت اختیار کرنے یا اَنجان بن جانے کا راستہ بھی اختیار نہیں کیا ، مسلمان فکری پستی کی اِس سطح پر آجائے کہ شرکِ صریح مبتلا ہوجائے ، یہ ایک ناقابل تصور بات ہے ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، اسود بن عبد المطلب اوراُمیہ بن خلف وغیرہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوںنے آپ کے سامنے دو تجویزیں رکھیں ؛ تاکہ آپسی جھگڑا ختم ہوجائے ، ایک یہ کہ ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کریں اور آپ بھی ہمارے بتوں کی پوجا کرلیجئے ، یا مدت متعین کرلیں کہ ایک سال آپ کے خدا کی عبادت ہو ، ہم اور آپ سب مل کر آپ کے خدا کی عبادت کریں اور ایک سال ہماری مورتیوں کی پوجا ہو اور ہم اور آپ مل کر پوجا کریں ، اسی موقع پر سورۂ کافرون نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ نہ ہم تمہارے معبودوں کی عبادت کرسکتے ہیں اور نہ تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ تنہا ہمارے خدا کی عبادت کرو ، تواس طرح عبادت میں تو اشتراک ممکن نہیں کہ ہم اللہ کو ایک بھی مانیں اور اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرائیں ؛ لیکن قابل عمل صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مذہب پر عمل کریں ، ہماری طرف سے کوئی چھیڑ خوانی نہیں ہوگی ، اور ہمیں ہمارے مذہب پر عمل کرنے دیں ۔ ( تفسیر قرطبی : ۲۰؍۲۲۵- ۲۲۷)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی ایک شکل تو یہ ہے کہ آدمی زبان سے کسی کو شریک ٹھہرائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعہ اس کا اظہار کرے ، جیسے کوئی شخص غیر اللہ کو سجدہ کرے ، غیر اللہ کے نام سے جانور ذبح کرے ، زبان سے کچھ نہ کہے ؛ لیکن غیر اللہ کے سامنے ایسا عمل کرے جس کو پوجا سمجھا جاتا ہو ، یہ بھی شرک ہے ، صحابہ نے آپ ا سے سجدہ کرنے کی اجازت چاہی ؛ لیکن آپ نے اس کی اجازت نہیں دی ، ( ابوداؤد ، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ، حدیث نمبر : ۲۱۴۰) صحابہ نے دوسروں کے سامنے جھکنے کی اجازت طلب کی ؛ لیکن آپ نے اس کو بھی گوارا نہیں فرمایا ، ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر : ۲۷۲۸) جس وقت دوسری قومیں سورج کی پوجا کیا کرتی تھیں ، آپ نے ان اوقات میں نماز پڑھنے کو منع فرمادیا ، (بخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ ، حدیث نمبر : ۵۸۱) شریعت کے اسی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے شعلہ پھینکتے ہوئے چراغ کے سامنے نماز پڑھنے کو منع کیا ؛ کیوںکہ اس میں آتش پرستوں کی مشابہت ہے ، (المحیط البرہانی : ۵؍۳۰۸) نمازی اس طرح نماز پڑھے کہ بالکل اس کے سامنے کسی شخص کا چہرہ ہو ، اس کو بھی روکا گیا ، ( حوالۂ سابق) کیوںکہ اس میں شرک کا ایہام ہے ، اسی مصلحت کے تحت تصویر کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے کو منع فرمایا گیا ہے ، (حوالۂ سابق: ۵؍۳۰۹) کہ صاحب تصویر کی عبادت کی شکل نہ محسوس ہو ۔
دوسرے مذاہب کے شعائر کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ؛ چنانچہ مجوسی ایک خاص قسم کی ٹوپی پہنتے تھے ، اس ٹوپی سے منع کیا گیا ، برہمنوں کی طرح کمر میں زنار باندھنے سے منع کیا گیا ، ( فتاویٰ ہندیہ : ۲؍ ۲۷۶) آتش پرستوں کے یہاں مذہبی تقریب کی حیثیت سے ’ نو روز ‘منایا جاتا تھا ، اس میں شرکت کو بعض فقہاء نے کفر قرار دیا ہے ، ( مالا بد منہ : ۱۳۸) ممتاز فقیہ اور مصلح حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں :
جو چیزیں دوسری قوموں کی مذہبی وضع ہیں ، ان کا اختیار کرنا کفر ہے ، جیسے صلیب لٹکانا ، سرپر چوٹی رکھنا ، جنیو باندھنا ،یا ’’ جے ‘‘ پکارنا وغیرہ ۔ ( حیات المسلمین : ۲۲۴)
فقہاء نے جن صورتوں کا ذکر کیا ہے ، مورتی بیٹھانا اور اس کی تعظیم میں وہاں بیٹھنا ، یا اس پر پھول چڑھانا اس سے کہیں بڑھا ہوا عمل ہے ، اس لئے جہاں بھی جو لوگ اپنی نادانی ، ناسمجھی اور غلط رہنمائی کی وجہ سے اس کے مرتکب ہوئے ہیں ، ان کو توبہ کرنی چاہئے ، استغفار کرنا چاہئے اورعزم مصمم کرنا چاہئے کہ ہم آئندہ ہر قیمت پر ایسے عمل سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے ، دنیا کے چند سکوں کے لئے ایمان کھودینا پانا نہیں ہے کھونا ہے ، اور دنیا کی متاع حقیر کے لئے آخرت کا سودا کرلینا فائدہ نہیں ہے نقصان عظیم ہے ۔
و ما عند اﷲ خیر من اللھو ومن التجارۃ واﷲ خیر الرازقین ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker