ہندوستان

منظر شہاب ترقی پسند شاعراورانقلابی شخصیت تھے : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

شعبہ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی ،میرٹھ میں پروفیسر منظر شہاب کی تعزیت میںجلسے کا انعقاد
میرٹھ ( ۸ ستمبر) : مشہور و معروف ترقی پسند شاعر اور کریم سٹی کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر منظر شہاب کل شب جمشید پور میں انتقال فرما گئے۔ان کا انتقال نہ صرف جمشید پور بلکہ پوری اردو دنیا کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔شعبہ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی ،میرٹھ میں پروفیسر منظر شہاب کی تعزیت میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہا ’’ منظر شہاب آزادی کے بعد مشترکہ بہار سے ابھر نے والے ان نوجوان شعراء میں شمار ہوتے تھے،جنہوں نے اردو شاعری کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔شعراء کے اس گروہ میں سہیل واسطی، کلیم عاجز ،مظہر امام،منظر شہاب،منظر امام،صدیق مجیبی، شائق مظفر پوری کا ذکر خاص طور پر کیا جا تا ہے۔منظر شہاب نے اپنی شاعری سے جمشید پور کو ادبی منظرنامے میں استحکام بخشا۔ان کے دو شعری مجموعے ’’پیراہنِ جاں‘‘ اور’’ زخمی پرندے کی صدا‘‘ اور دو تنقیدی کتب ’’ مراثیٗ میر تْی میر‘‘ اور ’’اندازِ بیاں‘‘شایع ہوئیں۔انہوں نے مظہر امام کے ساتھ مل کر دربھنگہ سے ایک رسالہ ’’ نئی کرن‘‘شائع کیا جو ترقی پسند ادب کا ترجمان تھا۔ سردار جعفری ،خلیل الر حمان اعظمی،شاذ تمکنت وغیرہ ان کر قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ منظر شہاب عملی طور پر بھی انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔کئی بار حکومت کے خلاف احتجاج کے پاداش میں آپ اور مظہر امام جیل بھی گئے۔دونوں مل کر ایک کتاب ’’ حالات قید وبندکے‘‘ تحریر کی۔منظر شہاب ،سید احمد شمیم کے بڑے بھائی اور میرے استاد بھی تھے۔انہیں میر شناسی پر دسترس حاصل تھی۔جلسے کی نظامت ڈاکٹر اصف علی کی۔اس موقع پر ڈاکٹر شاداب علیم،انس سبز واری ،آفاق احمد خان،ذیشان خان،ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی،طاہرہ بانو اور طلبہ و طالبات مود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker