فکرامروزمضامین ومقالات

بھگوائیوں کو دور رکھ کر بہار کو فرقہ پرستی سے بچائیں

مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
بسااوقات تلخ حقیقتیں اس وقت شعور کو کچوکے لگاتی ہیں جب انسان سب کچھ لٹا چکا ہوتا ہے ,زندگی کی بعض تلخلیاں وہ ہیں جو ابتدا میں بہت خوشنما اور حسین معلوم ہوتی ہیں ,لیکن جب اس سے حقیقت کی دبیز چادر ہٹتی ہے تو صاحب عقل وخرد اپنی انگلیاں دانتوں تلے دباتے نظر آتے ہیں ,ہندوستانی سیاست کی اپنی ایک الگ تاریخ رہی ہے ,آزادی کے بعد سے کانگریس حکومت نے کن کن عنوانات سے مسلم مفادات کو ٹھیس پہونچایا اسے تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے , میں تاریخ کے ان پنوں کو نہیں دہرانہ چاہونگا جس نے ہماری آرزؤوں اور تمناؤں کا خون کیا ،آگے بڑھتے حوصلوں کو بریک لگایا, مختلف طریقوں سے ہمارے معاشیات واقتصادیات پر ڈاکہ ڈالا, ہمارے خواب گاہوں سے سکون چھینا ,دن کے اجالے میں جوان بیٹیوں کی حرمت کو داغدار کیا,کمزور والدین کے آسرے پر شب خون مارا ,معصوم بچے کے سر سے سہارا چھین کر بے آسرا کیا ,عورتوں کو اپنی کلائیوں کی خوبصورت چوریوں کو توڑنے پر مجبور کیا , تعلیم یافتہ نوجوان نسلوں کو زنداں کے پیچھے دھکیل کر ان کی عمروں کو تباہ وبرباد کیا گیا ,گھروں کو ویران کیا گیا ,کاروبار کو جلایا گیا ,زندگی کی ان تمام راہوں پر پہرے بٹھا ئے گئے جہاں سے کامیابی کو راہ ملتی تھی ,یہ وہ تلخ حقیقتیں ہیں جس سے کسی کو انکار نہیں ہے ۔ یہ تنہا ملک کے کسی ایک سیاسی جماعت نے نہیں کیا ,بلکہ ان تمام نے کیا جو خود کو مسلمانوں کا مسیحا کہتے ہیں , جس نے چلاکر ہمیشہ دکھوں کوٹیس دیا ہے ,زخموں پر نمک چھڑکا ہے ,آسرا کو آہ دیا ہے ,ہمیں بلکتے دیکھ کر سر عام تالیاں پیٹی گئیں ، مرنے کے بعد ہماری نعشوں پر سیاست کی گئی اور سرشام لٹتے ہوئے دیکھ کر سرگوشیوں میں شادیانے بجائے گئے پھر بھی یہ سوچتے ہوئے کہ یہی ہیں سیکولرزم کے ٹھکیدار ہم آج تک خاموش رہے,اور یہ خاموشی ہماری اس وقت تک قائم اور برقرار رہے گی جب تک ہم پورے ملک میں گاجر مولیوں کی طرح نہ کاٹے اور کترے جائیں , اس ملک میں شروع سے ہی دو ذہنیت کار فرما رہی ہیں , اورہر دو نے مسلمانوں کا خوب استحصال کیا ہے ,کسی نے کھل کر کیا اور کسی نے دبے قدموں سے , مسلمانوں نے ہمیشہ ایسے لوگوں کا ساتھ دیا جو ہمددری کے نام پر مسلمانوں کے آنسو پوچھتے رہے ,اور کھل کر آمنے سامنے مسلمانوں کو تکلیف پہونچانے کے بجا ئے پیچھے کی جانب سے حملہ آور ہوتے رہے , یہی وجہ ہیکہ اس ملک میں ایسی ذہنیت برسر اقتدار ہوتی رہی جس نے مسلمانوں کی پشت پناہی کی ہو ,چاہے وہ کانگریس ہو ,سماج وادی ہو ,بہوجن سماج وادی ہویاپھر راشٹریہ جنتادل یا دوسری کوئی سیکولر پارٹی ہو ,یہی وہ جماعتیں ہیں جس نے باوجود مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کے اپنی بقا کی خاطر اسے فائدہ پہونچانے کی بھی کوشس کی ہے , جب جیسا موقعہ ملا خود سیکولر کہنے والی پارٹیوں نے اس ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا ,وقت آیا تو مسجدوں میں تالا لگوائے ,نمازوں پر پابندی لگائی گئی ,اذان کی جگہ گھنٹیاں بجوائی گئیں ,قرآن کی تلاوت کے بجائے گیتا کے اشلوک پڑھوائے گئے ,مولویوں کو نکال کر پجاریوں کو داخل کیا گیا ,رب کے سامنے جبین نیاز خم کرنے کے بجائے پتھر کی مورتیوں کے سامنے سر جھکائے گئے ,اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ ہندودہشت گردوں کے ذریعہ مسجد پر حملہ کئے جانے والوں پر گولیاں چلوائی گئیں,مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا ,ایڈوانی کے رتھ پر پابندی عائد کی گئی ,یہ تھوڑے اچھے کام آپ کی محبت میں نہیں بلکہ اپنی کرسی بچانے کے لئے کی گئی ,اگر اتنا بھی نہیں کرتے تو ان کی کرسیاں کھسکتی نظرآتی ہے ,اس لئے کہ آپ اس کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر دنیا کی وہ سہولتیں فراہم کرتے ہیں جو اس کو مطلوب ہے ,اس لئے ان سیکولرزم کے دعویداروں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر سیکولر باقی رکھئے ,ورنہ اس ملک میں آپ کے تشخص کی بقا امکانی درجے میں باقی رہ جائیگی ,اس لئے کہ سب کی فکریں یکساں ہیں ۔ حالات نے کچھ ایسا موڑلیا ہے کہ تھوڑی بھی غیر دانشمندی مسلمانوں کو ایک ایسی کھائی میں گرائیگی کہ صدیوں اسے نکلنے میں لگیں گے , گذشتہ دنوں دہلی سے صرف 45/ کیلومیٹر کی دوری پر ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا کہ انسانیت شرمسار ہوگئی ,مسئلہ ایک آدمی کی شہادت کا نہیں ہے , بلکہ یہ ان فرقہ پرستوں کی جرأت کا ہے جس نے ایک گائے کے بہانے سے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ,جان لے لی۔ یہ افسوس کا نہیں بلکہ ملک کے ہر ایسے شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے ,جو اس ملک سے سچی محبت کرنے والے ہیں ,ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے ,جس کی آزادی میں ہمارے سلف نے جان کی بازی لگادی ,اور اس کی قیمت اپنے لہو سے سیراب کر کے چکایا ,ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ دے کر سب کو ایک دھاگے میں پروکر ایک ساتھ جمع کیا ۔ بہار کا موجودہ اسمبلی الیکشن بہت حساس اس لئے بھی ہوگیا ہیکہ اب فسطائی طاقتیں کھلے عام چیلنج کررہی ہے ,انسانوں کے جانوں کی حفاظت کے بجائے جانوروں کی حفاظت کو موضوع بناکر الیکشن جیتنا چاہتی ہے ,سیکولرسربراہ لالو پرساد یادو کے بیف کھائے جانے کے بیان پر فسطائی طاقتوں نے سیاست کرنی شروع کردی ہے ,بہار کے سابق نائب وزیر اعلٰی اور بی جے پی کے قدآور رہنما سشیل کمار مودی نے اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹویٹ کرکے کہا کہ اگربہار میں این ,ڈی ,اے کی سرکار بنی تو گئوکشی پر پابندی عائد کی جائیگی ,اس فکر نے پورے ہندوستان کو تشددپراتر نے کی صلاح دی ہے ,اس کا دوسرا مطلب یہ ہیکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ مجرم ہے ,اس گھٹیا سوچ پر افسوس ہے کہ اب لوگوں کے کھانے پینے کی چیزوں پر بھی روک لگانے کی سوچ لی ہے۔ اس پس منظرمیں مسلمانوں کو پوری فکر مندی کے ساتھ بہار الیکشن میں سوجھ بوجھ کا ثبوت دینا ہوگا اور جذباتی اقربا پرستی ,بھائی برادری ,پاس پڑوس ,رشتہ ناطہ ,سے اوپر اٹھ کر ایسی طاقت کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی ہوگی ,جو اس بات کا حوصلہ رکھتا ہوکہ آپ کی بات اپنی زبان سے بے باکی کے ساتھ کہہ سکیں۔اب الیکشن کو چند دن رہ گئے ہیں آپ کی ہوشمندی کا امتحان اس بار یہ ملک آپ سے لینا چاہتا ہے ۔ آپ نے اگر فسطائی طاقتوں کو مضبوط کرنے کی بھول کی تو اس ملک میں ہر اس ظلم کے ذمہ دار آپ بھی ہونگے اور آپ کوبھی ہر خون کا حساب محشر میں دینا ہوگا ,آپ نے اگر عظیم اتحاد کے علاوہ کسی کو بھی ووٹ کیا تو گویا آپ نے خون دھبے لگے ہوئے نریندر مودی ,قاتل امت شاہ اور فسطائی طاقت بی جی پی کو ووٹ کیا ,پوری دنیا کی نگاہ بہار کے مسلمانوں پر ٹکی ہوئی ہیں ,تاریخ کی وہ گھڑی اس انتظار میں ہے جب آپ ,حسبنااللہ ونعم الوکیل کہہ کر پوری دنیا کے رخ کو موڑ دینگے ,یہ لیجئے آپ جیت گئے اور آپ کی دانشمندی کا چرچہ فرش تا عرش ہوگیا۔
( مضمون نگاربہار پیام انسانیت کے جنرل سکریٹری ہیں، رابطہ نمبر :9431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker