ہندوستان

گھوٹالوں کے ملزم پرنسپل کیخلاف جلد کارروائی کرے پولیس انتظامیہ: کارواں

اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں اور ملی تنظیموں کو بدنام کرنیوالے پرنسپل کیخلاف کورٹ میں مفاد عامہ (PIL)کا مقدمہ دائرکریگا مسلم بیداری کارواں
دربھنگہ، ۱۰؍ستمبر: (پریس ریلیز)ملت کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد پر جمعہ کی شام لہریاسرائے تھانہ میں 45لاکھ رقم کے غبن کا معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ ملت کالج کے موجودہ پرنسپل کی جانب سے داخل تحریری شکایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ملت کالج کے پرنسپل نے لکھا ہے کہ مشتاق احمد کے خلاف بدعنوانی کی جانچ چل رہی ہے ۔ جانچ کمیٹی نے پایا کہ ملت کالج میں گرلس ہاسٹل تعمیر کے نام پر ۲۵لاکھ اور کانفرنس ہال بنانے کے نام پر ۲۰ ؍لاکھ روپئے کی ادائیگی کی گئی ہے لیکن اس رقم سے ملت کالج میں مجوزہ گرلس ہاسٹل اور کانفرنس ہال کی تعمیر نہیں ہوئی ہے ۔ واضح ہو کہ اس سے قبل بھی ڈاکٹر مشتاق پر مارواڑی کالج کی فائلیں چوری کرنے کا مقدمہ لہریاسرائے تھانہ میں در ج کرایا جاچکا ہے۔ لیکن دونوں مقدمات میں ملزم پرنسپل کی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اوریونیورسیٹی انتظامیہ ملزم پرنسپل کے سیاسی اثر و رسوخ سے خائف ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اتنے بڑے غبن کا ملزم اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے ۔حد تو یہ ہے کہ ملزم پرنسپل کی حمایت میں تین اردو اخبار ات روز نامہ قومی تنظیم ، راشٹریہ سہارااردو اورروز نامہ انقلاب کے کچھ صحافی بھی کھڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملزم پرنسپل کے کارناموں سے جڑی خبروں کو شائع کرنے سے وہ پرہیز کرتے ہیں ۔ایسے میں شبہ ہوتاہے کہ ڈاکٹر مشتاق کے غبن والے پیسوں سے کہیں یہ حضرات اپنا حصہ تو نہیں وصول چکے ہیں ۔ مذکورہ تحریری حملے کے بعد آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے مزید کہا کہ مشتاق احمد جیسے لوگ اقلیتی طبقہ کے نوجوان اور ملی تنظیموں کو سرکار اور انتظامیہ کی نظر میں کم تر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اردو اخبارات کے مدیران ان کی مکروہ کوشش کی پذیرائی کرتے ہوئے اپنے اخبارات میں جگہ دیتے ہیں ۔کیونکہ روز نامہ قومی تنظیم نے مشتاق احمد کا مضمون ’’ دیکھا آخر اک نسخہ نے کیا انجام کیا ‘‘ مورخہ۲۰؍ جون ۲۰۱۶ء کو اپنے ادارتی صفحہ پر شائع کیا تھا ۔ اس مضمون میں ملزم پرنسپل نے اقلیتی طبقہ کے بے روزگار مسلم نوجوانوں کو جو سماجی اور فلاحی کامو ںمیں دلچسپی لیتے ہیں انہیں آر ایس ایس کا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مشتاق احمد نے مسلم تنظیموں کوآر ایس ایس کے فنڈسے چلنے کا انکشاف کیا ہے اور عیاری یہ کی اپنی باتوں کے ثبوت میں کوئی دلیل اور شواہد تک پیش نہیں کی ہے لیکن اخبار والوں نے ان کی ایسی گھٹیا تحریروں کو شائع کرکے اپنی غیر جانبداری ، سطحیت اور قوم وملت کے تئیں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ایسی حرکت کو مسلم بیداری کارواں برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ کارواں نے ڈاکٹر مشتاق احمد اورروز نامہ قومی تنظیم کے خلاف ہائی کورٹ میں مفاد عامہ ( پی آئی ایل ) دائر کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ تاکہ ملت کی شبیہ خراب کرنے والوں کی خبر لی جاسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker