ہندوستان

گئو رکشا کے نام پر دلتوں اور مسلمانوں پر ظلم کیاجارہاہے

انتخابات سے قبل یوپی میں ایس پی، بی جے پی اور کانگریس کرا سکتی ہیں فسادات mayawati-saharnapur
داردی اور اونا جیسے سانحہ مرکزی و صوبائی حکومت کی ناکامی اور ملی بھگت کانتیجہ
مرکز میں کارپوریٹ گھرانوں اور ریاست میں غنڈے مافیاؤں کی حکومت
سہارنپور میں بی ایس پی کی ریلی میں لاکھوں بھیڑ سے مایاوتی خوش،مسلمانوں کے بھی پڑھے قصیدے
سہارنپور11؍ ستمبر(سمیر چودھری)بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی ،سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر جم کر نشانہ لگایا اور دلت مسلم اتحاد کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرا ردیتے ہوئے ان پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی اپیل کی ہے اور کہاکہ یہ پارٹیاں صوبہ میں فرقہ وارانہ فسادات کے سہارے اقتدار حاصل کرنے کی فراق میں لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہاکہ ہمیشہ فرقہ وارانہ فسادات نے کمزورطبقات کو برباد کیاہے۔ آگرہ ،اعظم گڑھ اور الہ آباد کے بعد آج سہارنپور میں واقع دہلی روڈ پربی ایس پی کی ریلی میں عوام کے ٹھاڑے مارتے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے جہاں ریاست کی ایس پی حکومت کو غنڈوں اور مافیاؤں کی حکومت بتایا وہیں مرکزی کی بی جے پی حکومت کارپوریٹ گھرانوں اور اور دھناّ سیٹھوں کی پارٹی قرار دیتے ہوئے طنز کسا کہ کالادھن واپس لانے اور 15؍ پندرہ لاکھ روپیہ ہرشخص کے کھاتہ میں جمع کرکے اچھے دن لانے والے لوگ بھی یوپی میں فرقہ وارانہ ماحول بگاڑ کر اقتدار کاخواب دیکھ رہے ہیں لیکن ان کایہ خواب کبھی پورانہیں ہوگا۔ مایاوتی نے کہاکہ جب سے مرکز میں بی جے پی حکومت آئی ہے اس وقت سے دلت اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی میں اضافہ ہوگیا ہے ،آج پورے ملک میں گئورکشا کے نام پر دلتوں اور مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے،انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی حقیقت کو عیاں کرنے والی سچر کمیٹی کی رپورٹ کو اس حکومت دبا کر انہیں ظلم وزیادتی کانشانہ بنایا جارہاہے آج مسلمانوں کو دہشت گردی، گئو رکشا،لو جہاداور فرقہ وارانہ فسادات کے بہانے نشانہ بنایا جارہاہے اتنا نہیں بلکہ ہریانہ کے میوات میں مسلمانوں کو گئو رکشا کے نام پر زبردست طریقہ سے ہراساں کیاجارہاہے۔ ریلی میں مسلمانوں کی زبردست بھیڑ سے خوش مایاوتی نے جم کر مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی اور ایس پی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہاکہ دادری سانحہ دونوں حکومتوں کی ناکامیوں اور ملی بھگت کانتیجہ ہے ،اونا اور دادری کے سنگین واقعات ہمیں یہ احساس کراتے ہیں آج ملک میں مسلمانوں اور دلتوں پر تشدد کیاجارہاہے،مایاوتی نے کہاکہ ایک نہیں بلکہ ہزاروں اردو دروازے بنانے سے بھی مسلمان اب سماجوادی پارٹی کی جانب جانے والی نہیں ہیں۔ انہوںنے فسادات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بی جے پی اور ایس پی کے ساتھ کانگریس کو فسادات کئی بڑے فسادات کے لئے ذمہ دار بتاتے ہوئے کہاکہ مرکز میں کانگریس کی طویل حکمرانی اور بی جے پی کے پچھلے اور موجودہ حکومت نے عوام مخالف ثابت ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یوپی میں قانون پر اکھلیش حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور بغیر نام لئے اعظم خان کو بڑبولا وزیر قرار د دیا ۔بہوجن سماج پارٹی کی قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے آج یہاں زبردست ر یلی کرکے مغربی اتر پردیش میں سماجوادی، کانگریس اور بی جے پی کے ہوش فاختہ کردیئے، تقریبا ًایک گھنٹے سے زیادہ وقت کی اپنی تقریر میں انہوں نے تمام طبقات کوسمجھایا اور بتایا کہ کس طرح ان کا مفاد بی ایس پی میں محفوظ ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ انتخابات سے پہلے یوپی میں ایس پی، بی جے پی اور کانگریس ملی بھگت کر فسادات کرا سکتی ہیں۔شہر کے جس بڑے میدان پر مرکزی حکومت کے دو سال پورے ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی کی گئی تھی، اسی میدان کو بی ایس پی نے نہ صرف پوری طرح نہ صرف بھر ڈالابلکہ ریلی کے مقام سے لیکر سات کلومیٹر تک روڈ پر چاروں طرف بھیڑ بھیڑ نظر آئی۔ صبح چھ بجے سے بھیڑ جمع شروع ہو گئی تھی ،تقریباً سوابارہ بجے سابق وزیر اعلی مایاوتی ریلی کے مقام پر ہیلی کاپٹر سے پہنچی اور استقبال کی رسم کے بعد اپنی تقریر شروع کی ۔ مایاوتی نے یوپی اسمبلی کا انتخابی بگل پھونکتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ یوپی کے اقتدار میں آنے سے بی ایس پی کو کوئی نہیں روک سکتا، سمجھایا کہ مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت دھناّسیٹھواور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور مسلمانوں، دلتوے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دے کرریزرویشن ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے،داردی اونا سانحہ کے ذریعے دلتوں اور اقلیتوں کو مارا اور ڈرایا جا رہا ہے، مرکزی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔مایاوتی نے شیلا دکشت پر بھی طنز کستے ہوئے کہاکہ انہوں نے دہلی کی وزیر اعلی رہتے یوپی والوں کو گندگی پھیلانے والے بتایا تھا، اب یوپی والے شیلا کو برداشت نہیں کریں گے، یوپی کو کانگریس اور اس کی شیلا منظور نہیں ہے، کسانوں کے قرض معافی کی آڑ میں مودی سرکار سرماینہ داروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے، یوپی میں بی جے پی نے 6 سال راج کیا اور ترقی پر توجہ دینے کے بجائے فرقہ وارانہ ایجنڈے پر کام کیا، مودی جن اچھے دنوں کے خواب دکھا کر مرکز کے اقتدار میں آئے تھے وہ اب برے دنوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، مودی نے انتخابی عوامی جلسوں میں وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آئے تو غریبوں کو پورے ملک میں سستی راشن دیں گے، راشن تو دور گیس اور تیل کے دام بھی بڑھا دیئے،بجلی پانی، صحت کی خدمات بھی پورے ملک میں رسائی نہیں کرپائی ،اقتدار میں آنے کے بعد سے سرمایہ داروں کوحکومت بن کر رہ گئی ہے،مایاوتی نے کسانوں کے بقایا اور جیو اراضی بل کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بی ایس پی کی وجہ سے ہی کسان مخالف اراضی بل پاس نہیں ہو پایا، انہوں نے بھاجپا، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی حکومت میں ملک اور یوپی میں ہوئے فسادات کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو سمجھایا کہ وہ بی ایس پی میں ہی محفوظ رہ سکتے ہیں، یوپی کی قانونی نظم و نسق پر جم کر حملہ کئے اور اسے وینٹلیٹر پر بتایا، مایاوتی یہ سمجھانا بھی نہیں بھولی کہ دہلی کی قانون مرکز کی بی جے پی حکومت کے تابع ہے اور اس سے دہلی کی قانون ہی نہیں سنبھل رہے ہیں لیکن دعوی اس سے کئی گنا بڑے اتر پردیش کی قانون سنبھالنے کا کر رہی ہے۔اکھلیش یادو پر طنز کسے کہ یوپی میں انسانوں سے جانوروں کی حفاظت ضروری ہے، اعظم خان کو نام لئے بغیر بڑبولا قرار دیا کہاکہ اس بڑبولے وزیر نے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی انگلی پر تبصرہ کیا ہے، اس پر وزیر اعلیٰ کی خاموشی سے ان کی ملی بھگت ظاہر ہوتی ہے، یاد رہے کہ اگر بابا صاحب کا آئین نہ ہوتا تو ملائم سنگھ یادو اور ان کے خاندان کے لوگ سیفئی میں کسی دھنناسیٹھ کی گا ئے بھینس اور بکریاں چرا رہے ہوتے، سیاست میں ان کی حصہ داری نہیں ہوتی، بابا صاحب کے بنائے قانون کی وجہ سے ہی آج مسلم اس ملک میں تھوڑے بہت خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، ہم اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ، بی جے پی اور کانگریس کو شکست دینگے،سروجن ہتائے و سروجن سکھوئے ان کانعرہ نہیں بلکہ پارٹی کی پالیسی ہے، بی ایس پی اقتدار میں آئی تومسلمانوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور تاجروں کو بی ایس پی کی حکومت میں تحفظ فراہم کرایاجائے گا، بی ایس پی کو چھوڑنے والے یا نکالے جانے والے لوگ ہم پر ٹکٹ فروخت کے غلط الزام لگاتے ہیں، دوسری جماعتوں پر ایسے الزامات لگتے ہیں لیکن میڈیا صرف بی ایس پی کو ہی بدنام کرتی ہے، بی ایس پی کے تئیں میڈیا کی ڈبل ذہنیت ہے، اپوزیشن جماعتوں سے سوال پوچھا کہ جب یوپی میں بی ایس پی کی حالت ٹھیک نہیں تو اپوزیشن بتائیں کہ پھر بی ایس پی کا ٹکٹ کون خریدگا۔مایاوتی نے سروے رپورٹوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام گمراہ نہ ہو، بی ایس پی کو صفر دکھانے کی سازش کی جائے گی،سروے چینلو، سروے ایجنسیوں پر بی جے پی اور دھننا سیٹھو کا قبضہ ہے،تلک ترازو اور تلوار کے نعرے میں ذرا بھی سچائی نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہم اپنی حکومت اور پارٹی میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کا عزت نہ دیتے، ایس پی اور بی جے پی کی ملی بھگت سے یوپی میں الیکشن سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کرائے جا سکتے ہیں، ہندو اور مسلم ہوشیار رہو، فسادات سیاسی مفاد میں کرائے جاتے ہیں، یوپی میں اگر فساد ہوئے تو بی جے پی اور ایس پی اس کے لئے مجرم ہیں، مایاوتی نے اعلان کیا ہے کہ ایس پی حکومت میں جن کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے بی ایس پی کی حکومت آتے ہی ان کے مقدمے درج ہوں گے اور اب کارروائی نہ کرنے والے افسر بھی سزاپائینگے ،غنڈے، مافیا جیل بھیجے جائیں گے، یہ اعلان بھی کیا کہ ہم لیپ ٹاپ یا موبائل فری نہیں دیں گے، بلکہ نوجوانوں روزگار اور ضروتمندوں کو نقد رقم دے کر ان کی ضروریات کا خیال رکھیں گیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker