ہندوستان

کشمیر میں ہڑتال کا 83 واں دن، کسی بھی حصے میں کرفیو نہیں

حساس علاقوں میں چوکسی ، نقل وحرکت پر پابندی

سری نگر ،۲۹؍ستمبر (یو ا ین آئی) وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی اور 8 ہزار سے زائد افراد (مبینہ طور پر علیحدگی پسند کارکنوں اور سنگبازوں) کی گرفتاری کے بعد اگرچہ پرتشدد جھڑپوں کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ہڑتال کے باعث معمولات زندگی جمعرات کو مسلسل 83 ویں روز بھی مفلوج رہے۔ پولیس نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں آج کرفیو نہیں ہے، تاہم کچھ حساس قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی بدستور جاری رکھی گئی ہے۔ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی 8 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اپنے دو دیگر ساتھیوں سمیت ہلاکت کے بعد سے ہر طرح کے معمولات ٹھپ ہیں۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں شروع ہوئی آزادی حامی احتجاجی لہر کے دوران سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی کاروائی میں قریب 88 عام شہری ہلاک جبکہ 13 ہزار دیگر زخمی ہوگئے۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک جنہوں نے بدھ کو اپنا تازہ احتجاجی کلینڈر جاری کرتے ہوئے وادی میں جاری ہڑتال میں 6 اکتوبر تک توسیع کا اعلان کیا، نے آج کشمیری عوام کو اپنے متعلقہ علاقوں میں ‘آزادی کنونشنوں کا انعقاد کرنے کے لئے کہا تھا۔ بلٹ پروف جیکٹ پہنے اور خودکار ہتھیاروں و لاٹھیوں سے لیس سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کو بدستور پائین شہر میں تعینات رکھا گیا ہے۔ اگرچہ پولیس کے مطابق پائین شہر کے کسی بھی حصے میں آج کرفیو نہیں ہے، لیکن باوجود اس کے سیکورٹی فورسز نے کئی ایک سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ نالہ مار روڑ کے ایک حصے کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک کئی ایک مقامات پر خاردار تار سے بدستور بند رکھا گیا ہے۔ اس روڑ پر کئی ایک مقامات پر بلٹ پروف گاڑیاں بھی کھڑی رکھی گئی ہیں۔مضافاتی علاقہ صورہ میں واقع شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی طرف جانے والے نوہٹہ روڑ کو ہر طرح کی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ تاہم اس اہم سڑک پر کسی بھی احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔تاریخی جامع مسجد کے علاقہ کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے جس کے باب الداخلے بدستور بند ہی رکھے گئے ہیں۔ اس تاریخی جامع مسجد کے سامنے ایک بلٹ پروف گاڑی کھڑی کی گئی ہے۔ جامع مسجد کے باہر اور نذدیکی جامع مارکیٹ میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ پائین شہر کے سبھی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز آج مسلسل 83 ویں بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی معطل رہی۔تاہم کچھ نجی گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلتے ہوئے نظر آیے۔ ادھر سیول لائنز بشمول تاریخی لال چوک میں ہر طرح کے معمولات بدستور ٹھپ پڑے ہیں۔ سیول لائنز میں کسی بھی احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ سیول لائنز میں اہم تجارتی مراکز بشمول ریگل چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، مہاراجہ بازار، گونی کھن مارکیٹ، بڈشاہ چوک، بتہ مالو، پولو ویو، جہانگیر چوک اور اقبال پارک بدستور سنسان پڑے ہوئے ہیں۔ تاہم ان تجارتی مراکز میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال میں دی جارہی ڈھیل کے دوران بھاری رش دیکھا جارہا ہے۔ سیول لائنز کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی بدستور بند ہے۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام آج مسلسل 83 ویں روز بھی متاثر رہا۔ تعلیمی ادارے بدستور سنسان پڑے ہوئے ہیں۔ سری نگر کے دیگر علاقوں بشمول بالائی شہر اور مضافاتی علاقوں سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں آج بھی تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ خطے میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات رکھی گئی ہے۔ پورے شمالی کشمیر میں سرکاری دفاتر، بینکوں اور تجارتی مراکز میں معمول کا کام کاج متاثر ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔ ایسی ہی اطلاعات جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ، شوپیان، کولگام اور پلوامہ اور وسطی کشمیر کے دو اضلاع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔ وادی میں سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کے علاوہ دیگر تمام مواصلاتی کمپنیوں کی پریڈ پیڈ موبائیل اور انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل رکھی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker