Baseerat Online News Portal

طلاق کیاہے اور اس کا استعمال کب کیاجائے؟

مولانا انیس الرحمن قاسمی
ناظم امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ
جب نکاح کااصل مقصدفوت ہونے لگے اورزوجین میںباہمی الفت ومحبت کے بجائے رنجش اورشقاق پیداہوجائے اوریہ رشتہ رحمت کے بجائے زحمت بن جائے تواس صورت میںرشتہ کوختم کرنے کے لیے جوبہترطریقہ ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے:
’’الطلاق مرّتٰن فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ولایحل لکم ان تاخذوا مما اٰتیتموہن شیئاً إلا ان یخافا الا یقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ، تلک حدوداللہ فلا تعتدوہا ومن یتعدحدوداللہ فاولٰئک ہم الظٰلمون‘‘۔(سورۃ البقرہ:۲۲۹)
طلاق دوبار ہے، پھر یاتو سیدھی طرح عورت کو روک لیاجائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کردیاجائے اورایسا کرناتمہارے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہواس میں سے کچھ واپس لے لو،البتہ یہ کہ زوجین کو اللہ کے حدود پرقائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو، ایسی صورت میں اگرتمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیںگے توان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے،یہ اللہ کے مقررکردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودالٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔
اسلام کے علاوہ دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض میں بزرگی اور تقویٰ کامدار دنیاوی جھمیلوں سے الگ تھلگ ہوکر گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے پر ہے اورشادی بھی ان کے نزدیک دنیاوی امور میں سے ہے، اس لیے نکاح سے کنارہ کشی اختیار کرنا ان کے نزدیک نا پسندیدہ نہیں ہے۔
لیکن اسلام کہتا ہے کہ انسان جائز حدود میں رہتے ہوئے دنیا میں تولگا رہے، مگردنیا کا ہوکرنہ رہ جائے ،بلکہ دنیاوی کاموں میں بھی خدا کی مرضی پرچل کر اپنی دنیا کو دین بنالے۔ چنانچہ مذہب اسلام میںاس کی ترغیب ہے کہ تجرد کی زندگی سے بہتریہ ہے کہ نکاح کرے اوراپنے اہل وعیال کی دیکھ بھال کرے۔اللہ رب العزت نے نکاح کرنے پردنیاوی خوشحالی اور بہتر زندگی کاوعدہ فرمایا ہے:
’’وانکحواالایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم‘‘۔(سورۃ النور:۳۲)
اور نکاح کردواپنے میں غیر شادی شدہ عورتوں کا اوراپنے نیک غلاموں اور باندیوں کا۔ اگر وہ نادار ہوںگے تواللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں مالدارکردے گا اور اللہ بہت وسعت والا، جاننے والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں علامہ محمودآلوسی فرماتے ہیں:
ظاہر آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے اس آیت میں شادی کرنے پرغنی کردینے کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جولوگ فقروفاقہ کو بہانہ بناکر شادی کرنے سے گریز کرتے ہوں ان کی بہانہ جوئی کا سدباب مقصود ہو۔(روح المعانی:۱۹؍۱۴۹)
رشتہ نکاح دومختلف خاندانوں کے درمیان محبت وتعلق کا ذریعہ اور سبب ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:
’’لم نر للمتحابین مثل النکاح‘‘۔ (ابن ماجہ باب ماجاء فی فصل النکاح)
ہم نے دومحبت کرنے والوں کے لیے نکاح کے مثل کوئی چیزنہیں دیکھی۔
لیکن جب رشتۂ نکاح بوجھ بن جائے، میاں بیوی میں زندگی گزارنا مشکل ہوجائے تو شریعت نے سمجھ داری اور شرافت سے الگ تھلگ ہوجانے کا راستہ بھی رکھا ہے جسے طلاق کہاجاتاہے۔ چوںکہ عقد نکاح کے ذریعہ عورت اورمرد کے رشتہ کا قائم ہونا اوران کا میاں بیوی بن کر رہنا ایک بڑی نعمت ہے اورطلاق کے ذریعہ یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ رشتہ کا ٹوٹ جانا تکلیف دہ اورنعمت کا چلاجاناہے۔اس لیے یہ اپنی اصل کے اعتبار سے ناپسندیدہ اورمبغوض ہے۔خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:
’’مااحل اللہ شیئا أبغض إلیہ من الطلاق‘‘۔(ابوداؤد باب فی کراہیۃ الطلاق)
اللہ نے جوچیزیںحلال کی ہیں ان میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیزطلاق ہے۔
اور اگر رشتۂ نکاح اپنا مقصد اصلی کھوچکا ہواور یہ اندیشہ ہے کہ اس سے بہت سی دوسری خرابیاں پیداہوںگی اللہ کی حدیں ٹوٹیںگی شوہربیوی ایک دوسرے کے حقوق ادانہیںکرپائیںگے تواس وقت اس رشتہ کا ٹوٹ جانا ہی مناسب ہوتاہے۔ اس لیے اسلامی شریعت نے جہاں شادی کو بہت آسان بنانے کی کوشش کی ہے اوراس میں سادگی کو پسند کیاگیا ہے تاکہ فریقین کو پریشانی نہ ہو اس نے طلاق کو بھی ناگزیر صورت میں مسئلہ کا حل قرار دیاہے اس لیے جب نباہ ہونے کی کوئی شکل نہ رہے تو طلاق مسئلہ کا ایک حل ہے۔مگراس کوآخری چارہ کارکے طورپراستعمال کرنے کی اجازت ہے۔
کیونکہ انسان طلاق دینے کا ارادہ کئی وجوہ سے کرتاہے ان میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے بیوی سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اس کی کوئی حرکت یا عادت ناپسندہوتی ہے یا کسی بات پرنااتفاقی ہوتی ہے اگر بیوی کی کوئی عادت شوہر کو ناپسند ہوتواسلام کہتاہے کہ اس کی وجہ سے طلاق نہ دی جائے، بلکہ شوہر صبروضبط سے کام لے کیوں کہ زندگی میں اونچ نیچ کاآنافطری بات ہے۔ اسے خوشگوار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
’’وعاشروہن بالمعروف فإن کرہتموہن فعسی ان تکرہوا شیئاًویجعل اللہ فیہ خیراًکثیراً‘‘۔(سورۃ النساء:۱۹)
اوران کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسرکرو، اگروہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:
’’لایفرک مؤمن مؤمنۃ ان کرہ منہا خلقا رضی منہا آخر‘‘۔(مسلم باب الوصیۃ بالنساء کتاب الرضاع)
کوئی مؤمن شوہر مؤمنہ بیوی کو ناپسند نہ کرے اگروہ اس کی بعض عادت کوناپسند کرتاہے تو دوسری عادت سے خوش بھی ہوتاہے۔
اگر بیوی اپنے شوہر کی اطاعت وفرماںبرداری نہ کرے ، نہ حقوق ادا کرے اورسرکشی کرے تو شوہر کو حق ہے کہ اس کی تادیب کرے، اس کے لیے شوہر کوچاہئے کہ پہلے بیوی کو بے راہ روی اور غلط روش پرسمجھائے، اگر اس کا اثر نہ ہوتواپنے بستر سے الگ کردے، اگر ایسی نافرمان ہو کہ اس پراس کا بھی اثر نہ ہوتوشوہر ہلکے سے رومال یامسواک سے مارسکتا ہے ،مگر یہ مارنا اس کے چہرے یا ایسے عضو پر نہ ہو جو نازک ہے اور اس کا نشان آجائے۔ مارنے کے علاوہ شوہر کو اس کا حق نہیں ہے کہ اس کو یا اس کے ماں باپ کو گالی دے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’والٰتی تخافون نشوزہن فعظوعن واہجروہن فی المضاجع واضربوہن فان اطعنکم فلا تبغوا علیہن سبیلا ان اللہ کان علیاًکبیراً‘‘۔(سورۃ النساء :۳۴)
اورتم کو جن بیویوں کے نشوز(سرچڑھنے) کااندیشہ ہوتوان کو سمجھا دو پھر ان کے ساتھ سونا چھوڑدو(اگر اس پر بھی نہ مانیں)توان کے ساتھ سختی(ضرب)کے ساتھ پیش آؤ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ناحق ان پرراستہ نہ ڈھونڈو اور اللہ غالب اور بڑا ہے۔
اگراختلاف کا تعلق ایسے معاملہ سے ہوجس میں دونوں اپنے رویہ کو حق بجانب سمجھتے ہوں اور دونوں اپنے موقف پراڑے ہوں اور معاملہ آپس میں خود سے نہ سلجھا سکیں تو دونوں اپنے خاندان سے ایک ایک شخص کو حکم مقرر کریں اور یہ دونوں حکم فریقین کی باتوں اور حالات کو سن کر اور دیکھ کر کوئی فیصلہ کردیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکماًمن اہلہ وحکماًمن ا ہلہا ان یریدا اصلاحاًیوفق اللہ بینہماان اللہ کان علیماًخبیراً‘‘۔(سورۃ النساء:۳۵)
اور اگر تم لوگوں کو میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کا خوف ہوتو ایک منصف شخص مرد کے خاندان سے اور ایک منصف شخص عورت کے خاندان سے منتخب کرکے بھیجو اگر یہ دونوں شخص اصلاح کا ارادہ کریںگے تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت کی راہ پیدا کردے گا بے شک اللہ سب کو جانتا ہے اور ہر معاملہ سے باخبرہے۔
ازدواجی زندگی کے کسی مرحلہ میں اگر میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوجائیںاور باہم مل کر زندگی گزارنا ناممکن ہو اور شوہر بیوی سے اعراض کرے اوراس کی زندگی اجیرن بن جائے تو اس صورت میں بیوی کو حق ہے کہ شوہر کو کچھ رقم دے کر خلع کی شکل میں صلح صفائی کرلے۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:
’’وان امرأۃ خافت من بعلہا نشوزا او اعراضا فلا جناح علیہما ان یصلحا بینہما صلحا والصلح خیر‘‘۔(سورۃ النساء:۱۲۸)
اوراگرکسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی اور بے رغبتی کا خوف ہو تو دونوں میاں بیوی کو اس میں گناہ نہیں کہ وہ آپس میں صلح کرلیںاورصلح بہتر ہے۔
اگر یہ سارے طریقے ناکام ہوجائیں اور باہم یکجائی کی شکل باقی نہ رہے اور مصالح نکاح فوت ہونے لگیں تو شوہر کو حق ہے کہ بیوی کوطلاق دے کر الگ کردے ،لیکن طلاق کا استعمال آخری حالت میں کیاجائے۔ اس لیے کہ علماء کرام کااتفاق ہے کہ اچھے حالات میں طلاق دینامکروہ ہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے:
اچھے حالات میںطلاق دینا حرام ہے۔ (المیزان:۳؍۱۳۵)
اس لیے ناگزیر حالت میں جب طلاق دینا ہوتواس طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے اورایک طلاق دے کر بیوی کو گھر سے نہ نکالے۔بلکہ اپنے گھر میں رہنے دے تاکہ وہ تین حیض عدت گزارے اس دوران شوہر کو بھی اپنے اقدام پرنظرثانی کا موقع ملے گا اگر شوہر کویہ احساس ہوکہ ہم دونوں کو مل جانا چاہئے تو طلاق سے رجوع کرلے۔پھر اگر کبھی نااتفاقی ہوجائے ا ور نباہ مشکل نظرآئے تو ایک طلاق اسی طریقہ سے دے پھر اگر عدت کے اندر لوٹانے کی ضرورت محسوس ہوتو رجوع کرلے۔ اگر لوٹالیا اورپھر کبھی نوبت طلاق کی آگئی تودوسری طلاق دے پھراگرعدت کے اندرلوٹانے کی ضرورت محسوس ہوتورجوع کرلے،اگرلوٹالیااورپھرکبھی نوبت طلاق کی آگئی توتیسری طلاق دے دے مگر تیسری طلاق کے بعد لوٹا نہیں سکتے کیوں کہ بار بار تجربہ نے ثابت کردیا کہ ایک ساتھ رہنا اور زندگی گزارنا مشکل ہوچکا ہے۔ اس کے لوٹانے کی اب ایک ہی شکل ہے کہ وہ دوسرے کسی مرد سے نکاح کرلے اور وہ دوسرا شخص اس سے ہم بستری کے بعد کسی وجہ سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تویہ عورت دوبارہ عدت طلاق یاعدت وفات گذارے،اس کے بعد پہلا شوہر اس سے دوبارہ نکاح کرکے اس کو اپنی زوجیت میں لے آئے۔مگراس کے لیے حیلہ نہ کرے بلکہ فطری طورپراگراس طرح کاموقع ملے تونکاح کرسکتاہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ نے اس آیت میں تذکرہ کیاہے:
’’فاذا بلغن اجلہن فامسکوہن بمعروف او فارقوہن بمعروف واشہدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشہادۃ للہ‘‘۔(سورۃ الطلاق:۲)
پھر جب وہ اپنی(عدت کی) مدت کے خاتمہ پرپہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں)روک رکھو یا بھلے طریقے پران سے جدا ہوجاؤ اور دوایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اورگواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔
ایک دفعہ ہی میں اگر شوہر تین طلاقیں دیتاہے تووہ گناہ کرتاہے۔ آج معاشرہ میں اتنی خرابی آگئی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے مقرر کردہ طریقہ کوچھوڑ کر ظلم وجہالت کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ بیک وقت تین طلاق دینے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناپسند کیاہے۔
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا:
کیا میری موجودگی میں اللہ کی کتاب کا مذاق اڑایا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور کہاکہ اللہ کے رسول کیا میں اسے قتل نہ کردوں۔(نسائی کتاب الطلاق،الثلث الجموع ومابہ من التغیظ)
ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے کہاکہ میں نے اپنی بیوی کوسوطلاقیں دی ہیں آپ کے خیال میں مجھ پر کیا چیزعائد ہوتی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایاہے:
وہ تین طلاقوں کے ذریعہ تجھ سے آزاد ہوگئی اورستانوے طلاقوں کے ذریعہ تو نے اللہ کی آیتوں سے مذاق کیا۔(موطا امام مالک)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتاہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیتا تووہ اسے کوڑوں کی سزادیتے تھے۔
آج طلاق معاشرہ کا ناسور بن گیا ہے۔ طلاق سے فیملی بکھرجاتی ہے خاندان میں نا اتفاقیاں پیداہوتی ہیں اگرچھوٹے بچے ہوں توان کا مستقبل برباد ہوجاتا ہے اور غیروں کی نظر میں اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔ آج کنواری لڑکیوں کی ہی شادی بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ نادان لوگ طلاق دے کر مطلقہ عورت کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں، ان کی شادی تو اور بھی مشکل ہے۔ بعض مطلقہ عورتیں بھیک مانگنے اور دردر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہوجاتیں ہیں اس معاشرتی برائی کا سبب ایسے شوہر ہیں جواسلامی احکامات وہدایات کی لاج رکھے بغیر طلاق دیتے ہیں۔اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ علماء وسمجھ دارافراداس بارے میںلوگوںکوبتائیںاورسمجھائیںاوردعاکریں کہ اللہ جل شانہ ہم مسلمانوں کو ان معاشرتی برائیوں سے باز رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔(آمین)
(بصیرت فیچرس)

You might also like