مضامین ومقالات

آر ایس ایس مُکت بھارت !

عالم نقوی
دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا !
جیوتی با پھولے اور با با صاحب امبیڈکر کے بعد ایک بار پھر مہاراشٹر ہی نے بھارت کے مول نواسیوں (اصلی باشندوں )اور تمام ۔۔غیر ہندوؤں ۔۔کوبرہمنی فسطائیت اور سامراجیت سے نجات کا ایک راستہ دکھایا ہے ۔ اتوارکے روز پونے میں دلتوں نے ۔آر ایس ایس مُکت بھارت کے نام سے ایک ریلی نکالی اور بتایا کہ ۔۔دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا !
امت کے بڑوں کے ایک حالیہ اجلاس میں یہ تا ثر ابھر کر سامنے آیا تھا کہ مسلمانوں کا رد عمل بیشتر رجعی اور reactionary ہو کر رہ گیا ہے اسے بہر قیمت مقاومتی ،عملی ،دعوتی اور اقدامی ہو نا چاہیے ۔حالات خواہ کچھ بھی ہوں ،ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا اُمت کا شعار نہیں ۔اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ ہمارے دشمن ،با لخصوص وہ دائمی اور عمودی دشمن جن کی واضح نشان دہی خود قرآن کریم میں موجود ہے (المائدہ82)،مشرکانہ مذہبی و تہذیبی یلغار اور دہشت گردانہ گوریلا حملوں پر اُتر آئے ہیں ،تو یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ ہم ترجیحی بنیادوں پر ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ دشمنانِ دین و اُمت اِقدامی جارحیت سے دفاعی انفعالیت کی پوزیشن لینے پر مجبور ہو جائیں ۔ گزشتہ اتوار کو دیش بچاؤاگھاڑی مہاراشٹر ۔کے زیراہتمام پونے کی ریلی میں دلتوں کے ساتھ مسلمانوں نے بھی بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ ریلی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں اور دیگر دلت لیڈروں نے اعلان کیا کہ اگر ا ب بھی بھارت کو فاشسٹ اور انسان دشمن تنظیم آر ایس ایس سے مُکت کرانے کی متحدہ اور منظم تحریک نہ چلائی گئی تو ملک تباہ ہو جائے گا ۔ رَیلی کی تزویری اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سرکار دربار اور یرقانی و قارونی پریواروں سے وابستہ و پیوستہ میڈیا نے اس کا مکمل بائیکاٹ کیا ۔ایک نیوز پورٹل punemirrorپونے مرر نے لکھا ہے کہ ریلی میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس پی بی ساونت اور ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس بی جی کولسے پاٹل کے علاوہ این سی پی لیڈر جیتندر اَہواڈاور سری منت کو کاٹے ،سابق آئی پی ایس افسر اور سابق آئی جی پولیس مہاراشٹر ایس ایم مُشرِف ،اور مسلم مول نواسی منچ کے سر براہ انجم انعامدار نے خطاب کرتے ہوئے ’آر ایس ایس مُکت بھارت ‘ مہم کا آغاز کیا ۔
این سی پی لیڈر سریمنت کوکاٹے نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور با لکل صحیح کہا کہ دلتوں ،آدیواسیوں اور مسلمانوں کے اتحاد کے بغیر بھارت میں انسانیت کا تحفظ ممکن نہیں ۔ ہم اس میں صرف اتنی ترمیم کریں گے کہ اس دیش میں امن اور انسانیت کی بقا اور تحفظ کے لیے سبھی 70فی صد غیر ہندوؤں کا اتحاد لازمی ہے ۔ دلت آدیواسی حتی کہ او بی سی بھی ہندو نہیں ۔برہمنوں ،چھتریوں اور بنیوں کے علاوہ دیش
میںکوئی ہندو نہیں ۔بودھ ،جینی،سکھ ،دلت ،آدیباسی مول نواسی اور او بی سی کی اکثریت سبھی غیر ہندو ہیں ۔مفسد انگریزوں نے محض اپنی انتظامی آسانی کے لیے اور سب سے بڑھ کے مسلمانوں اور اسلام کی دشمنی میں سبھی غیر مسلم بھارت واسیوں کو ایک لفظ ۔ہندو ۔ سے تعبیر کرنا شروع کر دیا تھا اور انتقال اقتدار کے بعد برہمن حکمرانوں نے اپنے مفاد کی خاطر اُسے جاری رکھا ۔اور اسی لیے وہ تو اب ہر بھارتی کو ہندو
کہنے پر مُصر ہیں ۔ہمارے بڑوں نے طے کیا ہے کہ تمام بھارت واسیوں کو چاہیے کہ اپنے ملک کے لیے بھارت اور خود اپنے لیے بھارتی یا بھارت واسی کی اصطلاحوں کا استعمال کریں ۔ کیونکہ سنگھ پریوار کے چانکیوں نے ہندستان کو ہندو استھان کر لیا ہے اور اسی سے یہ بے جا تاویل کرنے لگے ہیں کہ ہر بھارت واسی ہندو ہے ۔ اس جگہ ایک اور حقیقت کی نشاندہی ضروری ہے کہ لفظ ہندو اور اسکے دیگر مشتقات ہندستان اور ہندستانی وغیرہ ہم مسلمانوں کی دین ہیں مسلمانوں کے بھارت آنے سے قبل بھارت کی کسی زبان میں ان الفاظ کا وجود نہیں تھا ۔ہندو فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی سیاہ کے ہیں ۔حافظ شیرازی کا مشہور مصرع ہے کہ۔میں تو اپنے محبوب کے کالے تل پر سمر قند و بخارا تک نچھاور کر سکتا ہوں
بہ خال ِ ہند و وش بخشم سمر قند و بُخارا را !
اور لفظ ہندتوا کی عمر طبعی نے تو ابھی تین ہندسوں کا منہ بھی نہیں دیکھا ہے ۔بھارت کے برہمنی دھرم کے لیے خود برہمنی شاستروں میں جو اصطلاح آپ کو ملے گی وہ سناتن دھرم یا ویدک دھرم ہے ۔ دکشن بھارت کے عظیم دلت مفکر اور دانشور راما سوامی پیریاراور سوامی دھرم تیرتھ پرمیشورا مینن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ۔۔یہ دعوی کرنا بذات ِ خود ایک بہت بڑا دھوکہ ہے کہ بھارت کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو چھوڑ کر سبھی 80یا 85 فیصد لوگ ۔۔ہندو دھرمــ۔۔ کے ماننے والے ہیں ۔سوامی دھرم تیرتھ پرمیشورا مینن نے اپنی مشہور کتاب ۔ہسٹری آف ہندو امپیریل ازم ۔ میں(جو انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی ہندو سامراجیت کی تاریخ کے نام سے شایع ہو چکی ہے )لکھا ہے کہ ملک میں سورنوں (یعنی برہمنوں ٹھاکروں اور بنیوں ) کی مجموعی تعداد 15 فیصد سے زائد نہیں ہے اور 85فیصد آبادی ۔۔غیرہندو۔۔ ہے اور بد قسمتی سے یہی 15 فیصد اقلیت بھارت کے آزاد ہونے کے بعد 85فیصد اکثریت کو اپنے برہمنی شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے ۔ ۔!آر ایس ایس مُکت بھارت کے معنی یہی ہیں کہ ملک کو سنگھ پریوار کے چنگل سے چھڑا کر بھارت کے مول نِوَاسیوں اور غیر ہندو اکثریت کو نئی اور حقیقی آزادی سے ہم کنار کیا جائے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker