مضامین ومقالات

سر سید کا نظریۂ تعلیم اور ہماری ذمہ داری

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی
(شعبۂ دینیات سنّی اے، ایم یو، علی گڑھ(
جب میرا مختصر سا مضمون آپ کے ہاتھوں میں ہوگا تو اس دن معمار قوم سر سید کا ۱۹۹ واں یوم پیدائش دنیا کے بیشتر حصے میں بنایا جارہا ہوگا۔ اور ان کے افکارو خیالات سے نئی نسل کو آشنا کیا جا رہا ہوگا کیونکہ آپ نے علم و حکمت کی ایسی قندیل جلائی جس سے تمام ملک اور بیرون ملک مستفید ہو رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بیجا نہ ہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسید کے حسین خوابوں کی تعبیر ہے اور قوم و ملت کا قیمتی اثاثہ ہے۔ تاریخ کے اوراق پر نگاہ تدبر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سر سید نے قوم کی رہنمائی اور جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لئے دینی اور عصری علوم میں توازن پیدا کیا اور ملت اسلامیہ کو ان سے متعارف کرانے کے لئے مدرسۃ العلوم مسلمانان ہند قائم کیا جو پھل پھول کر الحمداللہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں موجود ہے او ر پوری دنیا اس سے تعلیمی، معاشی، سیاسی ،سماجی اور مذہبی ،تشنگی دور کر رہی ہے اور تا قیامت اس سے بہرہ مند ہوتی رہے گی میں بلا جھجھک یہ کہ سکتا ہوں کہ سر سید کا ملک وقوم پر احسان عظیم ہے اور ان کے اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ شیٔ ہے جو نوع انسانیت کو فہم و فراست، عقل و شعور اور حکمت و دانائی کے جوہر سے مالا مال کرتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے جو قومیں، خاندان، سماج اور معاشرہ تعلیم جیسے عظیم زیور سے مزین ہوتے ہیں وہ ہردور میںکامیاب ترین اقوام کی فہرست میں شمار کئے جاتے ہیں ۔
اس لئے میںاس مضمون کے ذریعہ سر سید کے یوم پیدائش پر یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کے تعلیم کو اوڑھنا بیچھونا بنائیں یہی سر سید کا مشن تھااور ان کو سچا خراج عقیدت بھی یہی ہے کے قوم کا ہر فرد عقل و خرد اور تعلیم و تربیت حاصل کر کے خد مستحکم ہو اور اپنی ملت کو بھی تقویت پہنچائے مگر افسوس آج سب سے بنیادی خامی ہمارے درمیان تعلیم کا فقدان ہیں اسی وجہ سے امت مسلمہ ہر محاض پر پسپا ہے اور اس کی یکجائیت و مرکزیت، اتحاد و اتفاق، جذبۂ خیر سگالی، اعتدال و میانہ روی اور حکمت ومصلحت جیسی تعلیمات چرمرا رہی ہیں سر سید نے ذلت و رسوائی کے گہرے گار سے نکالنے کی پر زور سعی کی تھی راقم سطور ذیل میں سر سید کے افکار کا تجزیہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ کیونکہ ان کے نظریات ہر زمانے کے لئے اور ہرمسٔلہ میں مینارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں دراصل
سر سید احمد خاں کا شمار ایسی انقلاب آفرین شخصیت میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فکر و عمل کے دریعہ اپنی قوم کے فرسودہ خیالات اور جمود میں طغیانی پیدا کر دی۔ان کا یہ کارنامہ صدیو ں یاد کیا جائے گا۔ ان کی دور رس نگاہوں نے شاہراہِ زندگی پر مشعل کا کام انجام دیا۔ ہندوستان کی نشاۃالثانیہ میں ان کی شخصیت گوہر سب تاب ثابت ہوئی۔
۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی حکومت کے ظلم وبربریت کے شکار ہزاروں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی بے کسی اور مظلومی کے عینی گواہ سر سید کا دل اس خونیں منظر کو دیکھ کر رو اٹھا اور وہ اپنی زندگی کے تمام منصوبوں اور ارادوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک تحریک کے ساتھ سامنے آئے۔
اس تحریک نے سر سید کی زندگی کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا۔ ۱۸۵۷ کے تاریخی اور معاشرتی حالات نے سر سید کی ناصحانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھایا ور ان کے خیالات کا دہار اہی بدل دیا۔
سرسید نے اپنی تحریک کے ذریعہ سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے کے لیے کوئی کسراٹھا نہیں رکھی تھی۔ ان کی نیک نیتی اور تعمیری سوچ کے پیش نظر بہت سے ہمدرد اورحامی و مددگار رفقاء اس تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ یہی نہیں سرسید کو ایسے رفقائے تحریک بھی ملے جن میں تخلیقی قوت کی بھی کوئی کمی نہیں تھی اور جنھوں نے اپنی ذہانت اور فطانت سے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جو ملک وقوم کی پسماندگی دور کرنے اور تعمیری ترقی کی راہیں استوار کرنے میں معاون ثابت ہوا۔
علی گڑھ تحریک ایک سرگرم عمل تحریک تھی اور اس کا ایک نصب العین تعلیم و تربیت،فکر و شعور، قومی یکجہتی اور انسان دوستی تھا۔ اس لیے کچھ لوگوں کے لیے یہ تحریک کانٹا بن گئی۔ ایک بڑے حلقے نے اس کی موافقت کی تو ایک حلقے کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا۔ مخالفت کا یہ سلسلہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر چلا۔ داخلی طور پر جومخالفت کی گئی اس میں شائستگی اور تہذیب برقرار رہی لیکن خارجی سطح پرہونے والی مخالفت میں متشدد رویہ اختیار کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے معاشرتی، تہذیبی، سیاسی، تعلیمی اور علمی نظریات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا الغرض یہ سب کچھ اس پروان چڑھا کے سر سید نے اپنی دور رس نگاہوں سے مشاہدہ کر لیا تھا کے مسلمانوں کی تعلیم و ترقی حصول علم میں مضمر ہے انہوں نے ایک موقع پر کہا ہے۔
غدر کے بعد نہ مجھ کو اپنا گھر لٹنے کا رنج تھا ، نہ مال واسباب کے تلف ہونے کاکچھ رنج تھا ، اپنی قوم کی بربادی کا اور ہندوستانیوں کے ہاتھ سے جو کچھ انگریزوں پر گزرا اس کا رنج تھا۔ میں اس وقت ہرگزنہیں سمجھتا تھا کہ قوم پھر پنپے گی اور عزت پائے گی اور جو حال اس وقت قوم کا تھا وہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتاتھا۔ چند روز میں اس خیال اور اس غم میں رہا۔ آپ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بڈھا کر دیا۔
بلا شبہ یہ ملک وقوم کا غم ہی تھا کہ سرسید 1857ء کے بعد انگریزی حکومت کے قریب ہوئے اور ان کے سیاسی تصورات میں قدرے تبدیلی واقع ہوئی لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ انگریزوں کی قربت کی وجہ سے سرسید کے تصورِ وطن ، تصورِ قوم یا حب الوطنی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو۔سچائی یہ ہے کہ انگریزوں سے دوستی کے پیچھے بھی قومی مفاد پوشیدہ تھے۔’’ اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘کے اوراق شواہد پیش کرتے ہیںکہ 1857ء کے بعد سرسید کے افکار ونظریات کے محور اور مرکز کیا تھے۔سرسید نے ہندومسلم اتحاد کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ اہلِ علم لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انگریزوں کی سازشوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے جگہ بہ جگہ جلسوں سے بھی خطاب کیا اور لوگوں کو اپنی فکر سے آگاہ کیا۔اکثر جلسوں میں انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی ہوا میں سانس لیتے ہیں، ایک ہی گنگا جمنا کا پانی پیتے ہیں اور ایک ہی زمین کی پیداوار کھاتے ہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے ایک ہی خطہ یعنی ہندوستان میں جیتے اور مرتے ہیں پھر ہم دونوں کے درمیان یہ دوریاں کیوں کر ہیں؟ ہمارے درمیان نفرت کیوں ہے ؟سرسید کے اس طرح کے سوالوں نے ہندوستان کے دانشور طبقے کو سوچنے پر مجبور کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی جماعت تیار ہوئی جو انگریزوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی مہم میں لگ گئی ۔ اس کے با وجودکچھ تنگ نظر لوگ سرسید احمد پر یہ الزام تراشتے ہیں کہ انہو ںنے صرف مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی بدحالی کا رونا رویا ہے اور انہیں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کی اور ان کے مخاطب صرف مسلمان رہے ہیں۔ان کی تقاریر اور مضامین اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ان کی فکر ونظر کا محور کبھی بھی صرف مسلمان نہیں رہے۔ ان کی سانسوں میں اس وقت کا ہندوستان بستا تھا اوروہ اپنے ملک وقوم کی دردناک صورتحال کو دیکھ کر مضطرب تھے اور اس دردمندی نے ان کی تقریروں اور تحریروں میں سوز وگداز بھر دیا تھا۔
پس اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو اور میری قوم کے بچو اپنی قوم کی بھلائی پرکوشش کرو تاکہ آخر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتائو۔ ہمارا زمانہ تو اخیر ہے اب خدا سے یہ دعاء ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی کی کوشش کرے۔
اس اقتباس میں ’’ہم وطنو‘‘اور ’’قوم کے بچوں‘‘ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں کہا گیا ہے مگر کیا کیجئے جب ذہن کسی تعصب کا شکا رہو جاتا ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ بھی محدود ہو جاتا ہے اور ویسے ہی محدود ذہنیت کے لوگ سرسید جیسے رہنمائے قوم کے افکار واعمال کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں مگر وقت انصاف پسند ہوتا ہے وہ کسی نا انصافی کو کب قبول کرتا ہے۔ آج ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا کے بڑے سے بڑے دانشور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر سرسید اس وقت ملک میں تعلیمی وسماجی تحریک کا آغاز نہیں کرتے تو آج ہندوستان تعلیمی شعبے میں سو سال اور پیچھے ہوتا۔
سرسید کے تصورِ تعلیم پر جب کبھی گفتگو ہوتی ہے تو بعض مبصرین یہ کہتے ہیں کہ سرسید کی تحریک تعلیمِ نسواں کی روح سے عاری نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کی رائے قائم کر لینا سرسید کی مکمل تعلیمی وسماجی تحریک کا سرسری مطالعہ اور اس وقت کے ہندوستان کے سماجی وسیاسی حالات ، مذہبی معاملات ومسائل اور معاشرتی حقائق سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔اگر سرسید کی اصلاحی و تعلیمی تحریک کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود عیاں ہو جائے گی کہ سرسید کا ماننا تھا کہ عورت کی اصلاح اور تعلیم کے بغیر نہ گھر کا نظام درست ہو سکتا ہے اور نہ ہی انسانی معاشرے کا توازن برقرار رہ سکتا ہے۔ہاں !یہ سچ ہے کہ سرسید نے لڑکیوں کی تعلیم کے مقابلے لڑکوں کی تعلیم کو اولیت دی اور ایسا انہوں نے کیوں کر کیا اس کی وضاحت بھی کی تھی۔خواتین کے حوالے سے ایک جگہ و اپنا موقف یوں بیان کرتے ہیں۔
’’میں نے تمہارے لڑکوں کی تعلیم پر جو کوشش کی ہے اسے تم یہ نہ سمجھو کہ میں اپنی پیاری بیٹیوں کو بھول گیا ہوں۔بلکہ میرا یقین ہے کہ لڑکوں کی تعلیم پر کوشش کرنا لڑکیوں کی تعلیم کی جڑ ہے۔پس جو خدمت میں تمہارے لڑکوں کے لئے کرتا ہوں ، لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے ہیں‘‘۔
دوسری جگہ انہوں نے تعلیم نسواں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔
کوئی دنیا کی تاریخ اس وقت تک نہیںمل سکی کہ جس خاندان کے مردوں نے تعلیم پائی ہو ،مردوں کے اخلاق درست ہو گئے ہوں ، مردوں نے علم وفضل حاصل کر لئے ہوں اور عورتیں تعلیم سے محروم رہی ہوں۔ہماری منشا یہی ہے کہ یہ تعلیم جو ہم دلا رہے ہیں لڑکوں کی نہیں ہے بلکہ لڑکیوں کی ہے جن کے وہ باپ ہوں گے۔ہم کو ولی ہونے کا دعویٰ نہیں ہے ، پیشنگوئی نہیں کر سکتے بلکہ ہم کو پچھلے واقعات دیکھ کر نصیحت لینی چاہئے۔ اس وقت ہم تمام یوروپ کی اور تعلیم یافتہ ملکوں کی ہسٹری دیکھتے ہیں اور پاتے ہیں کہ جب مرد لائق ہو جاتے ہیں ، عورتیں لائق ہو جاتی ہیں۔ جب تک مرد لائق نہ ہو عورتیں بھی لائق نہیں ہو سکتیں۔
انہوں نے ایسی تعلیم کی وکالت کی تھی جو حسبِ احتیاجِ وقت ہو یعنی عصری تقاضوں کو پورا کرتی ہو۔انہوں نے کہا تھا کہ :’’جو تعلیم حسبِ احتیاجِ وقت نہ ہو ،وہ غیر مفید ہوتی ہے اور جیسا کہ ایک عقل مند کا قول ہے کہ اگر حسبِ احتیاج لوگوں کی تعلیم وتربیت نہ ہو تو اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ لوگ اول مفلس اور محتاج اورپھر نالائق اور کاہل، اور پھر ذلیل وخوار اور پھر چور وبدمعاش ہو جاتے۔
متذکرہ بالا سطور کی روشنی میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ملت کا ورثہ ہے اس کی حفاظت ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے اس کے اقامتی کردار اور اقلیتی کردار کی بحالی کے لئے ہم سب کو آگے آنا ہوگا کیونکہ علی گڑھ تہذیب و تربیت ہمارے سامنے دم توڑتی ہوئی نظر آرہی ہے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتادوں کے موجودہ شیخ الجامعہ و نائب شیخ الجامعہ نے امن و امان کی بحالی تعلیمی سر گرمیوں کے فروغ میں سنجیدہ کاوش کی ہے کیونکہ یونیورسٹی کو NAAC ٹیم کا ‘A’ گریڈ دینا اس کا بین ثبوت ہے اگر ہم مزید ا س کے تعلیمی معیار کو بلندو بالا کرنا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ اور نائب شیخ الجامعہ کا بھرپور تعاون کریں۔ اور اپنے اندر دوبارہ سر سید جیسا جذبہ ،خلوص،ہمدردی، وفا داری ،دوربینی کو زندہ کرنے کی از حد ضرورت ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker