مسلم دنیا

فلسطین پر ناجائز قبضہ ختم کرنے کے مطالبے پر اسرائیلی تنظیم کو دھمکیاں

مقبوضہ بیت المقدس ۱۷؍ اکتوبر۔فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کے خاتمے کے لیے نہ صرف دنیا بھر میں آواز بلند ہو رہی ہے بلکہ اب اسرائیل کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسرائیل کے اندر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم ’’بتسلیم‘‘ نے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی عرب علاقوں پر اپنا تسلط ختم کرنے کا اعلان کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکے۔دوسری جانب اسرائیلی حکومت فلسطین پرناجائز تسلط ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم ’’بتسلیم‘‘ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوتے ہی ’بتسلیم‘ کے بیانات اور اقدامات کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور تنظیم کو حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی مراعات واپس لینے کا فیصلہ کریں گے۔حکمراں جماعت کے لیڈر ڈیوڈ بیٹان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ ہم کسی ایسی تنظیم کی مالی معاونت نہیں کرسکتے جوفلسطینی علاقوں میں یہودی کالونیوں کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔
بتسلیم کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے ناجائز قبضے کے خلاف آواز بلند کرنے پرصہیونی ریاست کے انتہا پسند حلقوں کی طرف سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں نے بھی بتسلیم کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پربھی بتسلیم کے خلاف صہیونی اشرار نے مہم شروع کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بتسلیم کے بیانات پر اس پر پابندیاں عاید کرے۔ یہودی شرپسندوں اور انتہا پسند لیڈروں کا کہنا ہے کہ بتسلیم جیسے گروپوں کا قبلہ درست کرنے کے لیے ان کے فنڈز بند کرنے اور انہیں اسرائیل میں سرگرمیوں کی اجازت واپس لی جانی چاہیے تاکہ وہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی مخالفت نہ کرسکیں۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker