ہندوستان

’مودی جی مسلم خواتین کی نہیں اپنی بیوی جسودا بین کی فکر کریں ‘

مولانا عبیداللہ خان اعظمی کا کانگریس میں شمولیت کے بعد وزیر اعظم پر سخت حملہ
نئی دہلی ۔۱۷؍اکتوبر:(بی این ایس)  سابق جنتا دل کے رکن عبید اللہ خاں اعظمی آج کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں غلام نبی آزاد اور سنجے سنگھ کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کانگریس میں شمولیت کے فوراً بعد مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے کہا کہ ’’میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عہدیدار رہا ہوں، مرکزی سرکار مسلم پرسنل لاء کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے اپنے فرائض کا غلط استعمال کرے گی تو میں انفرادی طور پر اس کی سخت مخالفت کروں گا‘‘۔ مولانا اعظمی نے وزیراعظم پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی کو مسلم خواتین کی فکر کرنے کی بجائے اپنی بیوی کی فکر کرنی چاہئے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’طلاق پر اسلام کا موقف واضح ہے جس پر کسی بھی طرح کے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے، حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ مرد اس کا غلط استعمال کرتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ ہم اسلامی قوانین ہی کو بدل دیں ‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’مودی جی کو مسلم خواتین کا بہانہ لے کر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے بلکہ انہیں اپنی بیوی جسودا بین کی فکر کرنی چاہئے، میں نے ابھی حال ہی میں سنا ہے کہ نریندر مودی کی بیوی کو اپنا پاسپورٹ بنوانے میں دقت آرہی ہے‘‘۔ یوپی میںکانگریس کی کیا صورتحال ہے، اس تعلق سے انہوں نے کہاکہ ’’صفر سے چوٹی پر پہنچنا کانگریس کی تاریخ رہی ہے اور کانگریس کو خوب پتہ ہے کہ کیسے زیرو سے ہیرو بنا جاتا ہے او رہمیں امید ہے کہ یوپی چنائو میں یہی ہوگا‘‘۔ واضح رہے کہ مولانا اعظمی 18 سال تک پارلیامنٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے جنتادل کی طرف سے 1990-96 کے دوران اترپردیش اور 1996 اور 2002 کے دوران جھارکھنڈ کی نمائندگی کی ۔ اور 1992-96 کے دوران وہ جنتادل کے سکریٹری تھے اور بعد میں اس کے سینئر نائب صدر بنے۔اردو اور عربی کے عالم مولانا اعظمی 11 مارچ 1949 کو اترپردیش کے خالص پور گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ وہ ایک اچھے مقرر ہیں اور اپنی شعلہ بیان سیاسی اور مذہبی تقاریر کے لئے مشہور ہیں۔ ملک کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی کا رکن بننے کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے مولانااعظمی نے کہا کہ’’ کانگریس ایک مثالی پارٹی ہے سیکولرازم اس کی شناخت ہے اور اس کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ الیکشن میں خواہ کامیابی ملے یا ناکامی مگر اس کی اقدار اور اصولوں کو کبھی ترک نہ کیا جائے۔‘‘کانگریس میں مولانا اعظمی کی شمولیت پر مسٹر آزاد نے کہا کہ مولانا اعظمی ایک سیکولر رہنما ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ ایسے ایماندار سیاست دانوں کی تلاش رہی ہے اور پارٹی کوان کی شمولیت سے یقینی طور پر فائدہ پہنچے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker