Baseerat Online News Portal

سہارااردوکے گروپ ایڈیٹرسیدفیصل علی صاحب کی خدمت میں چندمعروضات

محمدشارب ضیاء رحمانی
فیچرایڈیٹربصیرت میڈیاگروپ
باسمہ تعالیٰ
محترم جناب سیدفیصل علی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امیدکہ مزاج گرامی بخیرہوں گے
بروزاتوارروزنامہ راشٹریہ سہارامیں آپ کامضمون بعنوان’اک آگ کادریاہے اورڈوب کے جاناہے‘پڑھا۔آپ نے بہت بہترراہنمائی فرمائی ہے اورکئی اہم امورکی طرف قائدین کی توجہ دلائی ہے۔مضمون بہت عمدہ اورقابلِ ستائش ہے تاہم اسی مضمون کے حوالہ سے چندامورکی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانے کی جسارت کررہاہوں۔چونکہ آ پ حضرات اہل نظرہیں،اورآپ کی تحریریں ملک بھرمیں پڑھی جاتی ہیں،کوئی ایسی بات نہ آجائے جس سے کہیں کوئی کنفیوژن ہو۔
آپ نے تحریرفرمایاہے’اگراسلام میں چارمسالک ہیں،اگرکہیں اتفاق نہیں ہے تواس اتفاق کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے‘۔
یقیناََآپ کامشورہ نہایت ہمدردانہ اورمخلصانہ ہے۔دراصل یہ کانسپٹ کلیئرنہیں ہوپارہاہے کہ طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں کہاں اورکس چیزمیں اورکن لوگوں کے درمیان اختلاف ہے۔
(۱)پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ
(الف)اسلام کے چاروں مسالک(احناف،شوافع،مالکیہ اورحنابلہ )کے یہاں متفق علیہ مسئلہ ہے کہ تین طلاق تین ہی طلاق ہوتی ہے۔بلکہ امام بخاری کے نزدیک بھی یہی ہے۔چھٹی صدی ہجری تک اہل تشیع کوچھوڑکرتمام محدثین وفقہاء کایہی مسلک رہاہے۔البتہ چھٹی صدی ہجری کے بعدعلامہ ابن تیمیہ ؒ نے یہ نظریہ پیش کیاکہ تین طلاق ایک طلاق ہوگی۔چنانچہ خودان کے شاگردعلامہ ابن قیمؒ نے اعتراض کیااوراہل تشیع کے ساتھ تلبیس کاالزام بھی لگا۔اس تفصیل سے واضح ہوتاہے کہ عہدخلافت راشدہ اوراس کے بعدچھٹی صدی ہجری تک محدثین وفقہاء کے نزدیک تین طلاق تین ہی ہوتی تھی۔جس کے دلائل احادیث رسول اللہ ﷺمیں بھی ہیں۔ اورعہدرسالت ﷺمیں بھی طلاق ثلاثہ نافذہوئی ہے۔حضرت عمرؓنے بھی تین طلاق کوتین مانتے ہوئے نافذفرمایاہے البتہ سزابھی دی ہے۔لہٰذایہ کانسپٹ کلیئرہوجاناچاہئے کہ چاروں ائمہ (جوچھٹی صدی ہجری سے بہت پہلے کے ہیں)کے نزدیک طلاق ثلاثہ کاوقوع ثابت ہے۔اوریہی ان کامسلک بھی ہے۔لہٰذاان کے درمیان کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔
(ب)اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ اکثرعلمائے سعودی عرب(جس کاحوالہ بارباردیاجارہاہے کہ وہاں طلاق ثلاثہ پرپابندی ہے)شوافع ہیں،یامالکیہ ہیں یاحنابلہ ہیں لہٰذاان کے یہاں بھی تین طلاق تین ہی ہوگی۔
(ج)نیزحکومت سعودی عرب نے اپنے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزابن بازکی سربراہی میں13علماء پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل کی تھی جس نے تمام دلائل کاجائزہ لینے کے بعدفیصلہ کیاکہ بیک وقت دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی ہوں گی(مجلہ بحوث الاسلامیہ ج ۱شمارہ ۳ صفحہ۱۴۵)
(د)اسی طرح جامعہ ازہرمصرنے چندماہ قبل ہندوستان کی صورتحال پراپنے موقف کوواضح کیاتھاکہ ہمارے یہاں تین طلاق تین ہوتی ہے۔
(ہ)لیکن اصولی بات تویہی ہے کہ مومن فقط احکام الٰہی کاہے پابند۔کس ملک نے کیاتبدیلی کی،یاکس ملک کاطرزعمل شرعی امورمیں کیاہے۔اس سے کوئی بحث نہیں ہے ۔اورکتنے ممالک شریعت اوردین کے پابندہیں۔اگرکسی اسلامی ملک نے پردہ کوختم کیاتواس کایہ عمل ہندوستانی مسلمانوں کے جوازکی وجہ نہیں ہوسکتا۔یااگرکوئی ملک غیراسلامی قانون نافذکرے توہندوستانی مسلمانوں پران کی نقالی ضروری نہیں۔صدرجمیعۃ مولاناسیدارشدمدنی دامت برکاتہم نے اس موقف کوواضح کردیاہے کہ ہم صرف شریعت کے پابندہیں،اسلامی ملکوں کے نہیں۔کیونکہ مصرکی حکومت کاغیراسلامی طرزعمل ہندوستانی مسلمان تودورہندوستان کیلئے آئیڈیل نہیں ہوسکتاہے ورنہ کہناپڑے گاکہ مصرمیں توایک منتخب اورآئینی حکومت کاتختہ پلٹ کرفوج نے جس طرح اقتدارپرقبضہ جمایا۔کیاہندوستانی فوج اس میں بھی مصرکی نقالی کرے گی۔
(و) امریکہ میں الگ الگ علاقوں اورکلچرکے لئے الگ الگ پرسنل لاء ہیں،سرکاراس کی نقالی کیوں نہیں کرتی۔
اس ضمن میں پاکستان کانام بھی لیاجاتاہے لیکن ہرچیزمیں توپاکستان کی مخالفت اوراس میں پاکستانی پریم کیوں؟ہماری حکومت پاکستانی قانون کو کیوں فالو کرناچاہتی ہے اگرایساہے توسرحدی علاقوں میں کرمنل کرائم پراسلامی حدودنافذہوتے ہیں کیاہماری حکومت ان حدودکونافذکرے گی۔پھر پاکستانی قانون بھی تین طلاق کو تین مانتاہے
(ز)یہ بھی المیہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کوختم کرنے والے کتنے ممالک ہیں ،میڈیامیں آکرچیخنے والے یاحکومت اب تک نام نہیں بتاسکی ہے۔اوران کے بیانات میں دن بدن ان ممالک کی تعدادکم ہوتی جارہی ہے ۔دراصل ساری عمارت جھوٹ پرکھڑی کی گئی ہے ۔
(ح)ہاں اہل تشیع اوراہل حدیث حضرات تین طلاق کوایک مانتے ہیں لیکن اس کے وقوع سے انکارنہیں کرتے جس پران کے پاس بھی دلائل ہیں جوفقہی مسئلہ ہے۔
(ط)ہندوستان کی ایک بڑی مسلم آبادی فقہ حنفی وشافعی کی ماننے والی ہے جبکہ طلاق ثلاثہ کوایک ماننے والی آبادی کم ہے۔
(۲)بنیادی پہلوتویہ ہے کہ
ملک میں زیربحث مسئلہ میں اہل حدیث حضرات سے کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔کیونکہ حکومت کاموقف یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے اثرکوختم کردیاجائے۔یعنی اگرکسی نے تین طلاق ایک بارمیں دی توکالعدم سمجھی جائے گی اورغیرموثرہوگی ۔جبکہ اہل حدیث حضرات تین کوایک مانتے ہیں اورعلمائے احنا ف وشوافع وحنابلہ ومالکیہ تین مانتے ہیں۔لیکن مانتے دونوں ہیں۔موثردونوں کے یہاں ہیں۔حکومت کے حلف نامہ اورنیت میں توطلاق ثلاثہ کے اثرکوختم کرناہے ۔اوریہ کسی بھی مسلک کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے ۔جوقرآن واحادیث اورمسلم پرسنل لاء سے سیدھاسیدھاٹکراؤہے ۔اسی لئے اہل حدیث کے نمائندہ علماء بورڈکے موقف کے ساتھ ہیں۔ظاہرہے کہ اس سے ایک حرام ہوگئی چیزکوحلال کرنالازم آئے گا۔ساتھ ہی یہ بھی سوال ہوگاکہ ایک طلاق اگرکسی نے دی تواس کے وقوع کوتوتسلیم کرلیاگیالیکن تین طلاق بالکل واقع نہیں ہوئی ۔یہ سراسرغیرمنطقی بات ہے ۔یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جن پرگول مول بحث میڈیامیں ہورہی ہے۔ اوراسے مسلمانوں کاایک اختلافی مسئلہ بتاکرالجھن پیداکی جارہی ہے۔نیزحلف نامہ میں بھی سمجھانے کی کوشش ہورہی ہے کہ طلاق ثلاثہ کاتعلق شریعت سے نہیں ہے اورنہ اس کی بنیادقرآن واحادیث میں ہے۔بلکہ یہ ایک جزوی اوراجتہادی مسئلہ ہے جس پرنظرثانی ہوسکتی ہے جس کا شکارہمارادانشورطبقہ بھی ہورہاہے ۔بورڈکے جنرل سکریٹری امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی دامت برکاتہم نے تحفظ شریعت کانفرنس میں اورایک چینل کوانٹرویومیں اس مسئلہ کوبہت صاف ستھرے اندازسے واضح کیاتھا۔جہاں ان غلط فہمیوں کودورکرنے کی ضرورت ہے وہیں یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ آج بھی مسلم معاشرہ میں خواتین کوجومقام ہے وہ کہیں اورنہیں ہے اورطلاق وتعددازدواج کی شرح تمام کمیونٹیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔
یہ چندمعروضات خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کردی۔تاکہ یہ کانسسیپٹ کلیئرہوکہ ائمہ اربعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔اورجن کااختلاف ہے بھی توتین طلاق کوایک کرنے کاہے ،جب کہ مطالبہ یہ ہے کہ تین طلاق کوکالعدم کردیاجائے ۔امیدہے کہ ان باتوں پرتوجہ فرمائیں گے۔ اگرکوئی تکلیف پہونچی ہوتومعذرت خواہ ہوں۔
والسلام
دعاؤں کاطالب
محمدشارب ضیاء رحمانی
موبائل نمبر8750258097
مقیم جامعہ نگردہلی
ای میل آئی ڈی[email protected]

You might also like