مسلم دنیا

یونیسکو میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں تاریخی قرارداد کی حتمی منظوری

صہیونی ریاست انتقامی پالیسی پر اتر آئی
مقبوضہ بیت المقدس ،19اکتوبر(بی این ایس؍ایجنسی)
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے گذشتہ روز اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حتمی طور پر اس بات کا تعین کردیا ہے کہ بیت المقدس کے قدیم شہر بالخصوص مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا تاریخی مذہبی مقام ہے جس پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔ اگرچہ اس فیصلے پر اسرائیلی حکومت انگاروں پر لوٹ رہی ہے اور اس نے جوابی اقدامات کے لیے بھی مکروہ حربے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کا حق مسلمہ ہے اور اقوام متحدہ سمیت کسی ادارے کی قراردادوں کی منظوری کے بغیر بھی مسجد اقصیٰ مسلمانوں ہی کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مقامی فلسطینی شہریوں نے کہا کہ یہ ہمارے پروردگار رب العالمین کا فیصلہ ہے کہ مسجد اقصیٰ تاقیامت مسلمانوں کی ہے۔ ہمیں کسی یونیسکو کیفیصلوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ یونیسکو اگر اس کی تصدیق نہ بھی کرے تب بھی مسلمان اور فلسطینی قوم قبلہ اول سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ رہا اسرائیل تو وہ ایک قابض اور غاصب ریاست ہے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل مسجد اقصیٰ کی مذہبی ملکیتی حیثیت کے تعین کیلئے یونیسکو میں عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر رائے شماری کی گئی تھی۔ رائے شماری میں قرارداد کی حمایت میں 24ممالک نے رائے دی۔ کل منگل کو میکسیکوکی درخواست پر دوبارہ رائے شماری کی گئی قبلہ اول کو حتمی طورپر مسلمانوں کا مذہبی مقام قرار دیا گیا ہے۔میڈٰیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے جب یونیسکو میں مسجد اقصٰی کو مسلمانوں کا مذہبی تاریخی مقام قرار دے کر یہودیوں کا اس پر دعویٰ باطل قرار دیا گیا تو میکسیکو کے مندوب انڈرس رومر اسٹیج سے احتجاج اٹھ کر چلے گئے تھے۔ اس واقعے نے یہودیوں کو مزید احتجاج کا حوصلہ دیا۔
کل منگل کے روز ہونے والی رائے شماری سے قبل ہی صہیونی لابی اور اسرائیل کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ سابقہ قرارداد کو تبدیل کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ان کی مایوسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ بعد میں ایسا ہی ہوا۔ تازہ رائے شماری میں میکسیکو نے یہ کہہ کر حصہ لینے سے انکار کردیا کہ یہودیوں کے ساتھ اس قرارداد میں نا انصافی ہوئی ہے جب کہ 23ممالک نے قرارداد کی حمایت میں پہلے ہی رائے دے دی تھی۔گذشتہ جمعرات کے روز ہونے والی رائے شماری میں 24ممالک نے مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا تاریخی مذہبی مقام قرار دیا۔ چھ ممالک نے مخالفت کی اور 26ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ دو رکن ملک غیر حاضر رہے۔
فلسطینی قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالنے والوں میں برازیل، چین، مصر،جنوبی افریقا، بنگلہ دیش، ویت نام، روس، ایران، لبنان، ملائیشیا، مراکش، مارشیس، میکسیکو، موزمبیق، نیکارا گوا، نائیجیریا، عمان، پاکستان، قطر، جمہوریہ دومینکان، سینیگال، سوڈان شامل ہیں۔ امریکا، برطانیہ، لاتفیا، ہالینڈ، استونیا اورجرمنی نے قرارداد کی مخالفت کی۔یورپی ممالک بالخصوص فرانس، سویڈن، سلووینیا، بھارت، ارجنٹائن، توگو نے قرارداد کی حمایت کا تاثر دیا تھا مگر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ یونیسکو کے رکن ممالک جموریہ ترکمانستان اور سربیا کے مندوبین غیر حاضر رہے۔
یونیسکو کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیوار براق پر یہودیوں کا حق منسوخ کیے جانے کے رد عمل میں اسرائیلی حکومت نے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کردیا ہے۔ صہیونی حکومت نے فورا ہی اعلان کیا ہے کہ وہ یونیسکو کے فیصلے پر بہ طور احتجاج اس کیساتھ تعاون کا سلسلہ معطل کررہا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آئی بائیں شائیں کررہے تھے۔ انہوں نے یہودیوں کی دیوار براق اور مسجد اقصیٰ سے اپنے تعلق کو ثابت کرنے کے لیے عجیب مثالیں دیں اور کہا کہ مسجد اقصیٰ سے یہودیوں کا تعلق ایسا ہی جیسے اہل چین کا دیوار چین اور مصریوں کا اہرام مصر سے ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یونیسکو کی قرارداد مبہم نوعیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد میں جن مقدس مقامات کو مسلمانوں کی ملکیت قرار دیا گیا ہے ان کے بارے میں اس بات کی نفی نہیں کی گئی کہ وہ تینوں آسمانی مذاہب کے مشترکہ مقدس مقامات ہیں۔ تاہم اس قرارداد کے ذریعے یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر بلووں کی مخالفت کی گئی ہے اور مسجد اقصیٰ کے اور اس کے گردو پیش میں اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کیے گئے اقدمات کو بھی باطل قرار دیا گیا ہے۔قرارداد میں واضح کردیا گیا ہے کہ دیوار براق جسے یہودی دیوار گریہ قرار دیتے ہیں کو مسجد اقصیٰ کا جزو لاینفک قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے اسے عالم اسلام کی غیرمعمولی فتح قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ حرم قدسی پر مسلمانوں کا حق ثابت ہونے کے بعد اب اس مقام کو یہودیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بھی اقدامات کرے۔
فلسطینی تجزیہ نگار اور ماہر آثار قدیمہ خلیل تفکجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے یونیسکو کی قرارداد کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یونیسکو کی طرف سے قبلہ اول اور دیوار براق کومسلمانوں کے مذہبی تاریخی مقامات قرار دینے کی قرارداد اپنی نوعیت کی پہلی کوشش نہیں۔ سنہ 1532میں یہودی حرم قدسی کے مشرقی حصے میں آکر مذہبی رسومات اداکرتے تھے۔ اس کے بعد خلاف عثمانیہ کا آغاز ہوا تو یہودیوں کو مغربی سمت میں منتقل کردیا گیا۔ سنہ 1931ء میں برطانوی پارلیمنٹ کی ایک ذیلی کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ دیوار براق اسلامی اوقاف کا حصہ ہے۔ اس باب میں اردن اور اسرائیل کے درمیان طے پائے وادی عربہ سمجھوتے میں بھی وضاحت موجود ہے۔ وادی عربہ معاہے کے تحت اسرائیل نے تسلیم کیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کا 144 دونم کا رقبہ اسلامی اوقاف کی حیثیت سے اردن کی زیرنگرانی رہے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی قرار داد سیجہاں مسلمانوں کی تاریخی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی ہیوہیں صہیونیوں اور یہودی لابی کو سیخ پا کردیا ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ صہیونی ریاست اس قرارداد کو غیر موثر بنانے اور اس کے عملی نفاذ کو روکنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے گی کیونکہ یونیسکو کی رکن امریکا اور برطانیہ جیسی ریاستیں بھی قرارداد کی مخالف اور اسرائیل کے موقف کی حامی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس یونیسکو کی قرارداد کے ثمرات سمیٹنے کا بہترین موقع ہے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker