Baseerat Online News Portal

حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے خلاف سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں عظیم الشان احتجاجی جلسہ

ریاض میں مقیم ہندوستانیوں نے حکومت سے شرعی قوانین میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کی پر زور اپیل کی
ریاض:22 اکتوبر
منصورعالم قاسمی
مدیراعزازی برائے سعودی عرب
اپنی ملی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے شہر ریاض کی معروف سماجی وادبی تنظیم ’’ہم ہندوستانی‘‘ نے نیاگرا ریستوران کے فنکشن ہال میں مسلم پرسنل کے ساتھ حکومت کی بیجا رخنہ اندازی خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ بعنوان ’’یکساں سول کوڈ نا منظور۔۔۔مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی نا قابل قبول۔۔۔ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی ہمارا حق‘‘ منعقد کیا۔ پروگرام کا آغاز مولانا امتیازاحمد ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کا فریضہ سینیر ان۔آر۔آئی۔ جناب میر تقی میر نے بحسن وخوبی انجام دیا۔ اس جلسہ کی خاص بات یہ رہی کی ریاض کی تقریبا تمام سماجی تنظیموں کی نماندگی دیکھنے کو ملی۔ اپنی افتتاحیہ تقریر میں بزم اردو کے صدر آرکیٹیکٹ عبد الرحمن سلیم نے منتظمین جلسہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے پر زور دیا، بعد ازاں ڈاکٹر سعیدنواز نے بڑی تفصیل سے مسلم پرسنل بورڈ کی تاسیس، اسکی اہمیت وافادیت اور کار کردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے عام مسلمانوں سی اپیل کی کہ اپنے عائلی قوانین کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہوجائیں اور اپنی زندگیوں میں شریعت کو نافذ کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں۔ تنظیم طلبائے قدیم علی گڈھ کی نمائندگی کرتے اسکے صدر انجینیر سہیل احمد نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ پرسنل در اصل ہمارے مذہبی تشخص کا معاملہ ہے جس میں ہم کسی طرح کی کوئی ترمیم برداشت نہیں کریں گے، اور یہ یقین دلایا کی ان کی تنظیم اس احتجاجی مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہر طرح کا تعاون پیش کرنے کو تیار ہے۔ بسواس کے جنرل سیکریٹری جناب اختر الاسلام ندوی نے کہا کہ اگر ایک طرف ہمیں حکومت کی چالبابازیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ہماری ملی قیادت کو بھی بڑی ہی ہوشمندی اور زیرکی کے ساتھ نکاح وطلاق جیسے اختلافی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا اور ساتھ ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ میں نوجوان نسل کو بھی شامل کرنا ہوگا تاکہ بزرگوں کے تجربات اور نوجوانوں کا جوش دونوں ملکر ملت کے قافلہ کو صحیح سمت میں رواں دواں کرسکیں۔ شہر ریاض کی معروف سماجی شخصیت جناب سالم زبیدی نے مسلم پرسنل کے قانونی پہلؤں پر تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان فنی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی وتہذیبی ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں مانع ہیں، اور باور کرایا کے اسکے نفاذ سے مسلمانوں کی شریعت پر کیا زد پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنے عائلی قوانین کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ہندووں کے پرسنل لا کی منفی شقوں کو بھی موضوع بحث بنانا چاہئے۔ ذاکر اعظمی ندوی نے اپنی تقریر میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاریخی سفر، یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے پیچھے حکومت کی بد نیتی، لا کمیشن کے سوالنامے کی لا قانونیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طلاق ثلاثہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور اپیل کہ اس احتجاجی مہم کو کامیاب بنانا ، اپنی قیادت پر اعتماد کرنا ہم سب کی ملی ذمہ داری ہے۔ ممتاز گروپ آف ہوٹلس کے چیرمیں محمد رفیق نے مہمانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس طرح کے ملی پروگروموں کے لئے وہ ہرطرح کے تعاون دینے میں اپنی سعادت سمجھیں گے۔ اخیر میں پروگرام کے روح رواں اور صدر جلسہ وصدر ’’تنظیم ہم ہندوستانی‘‘ جناب محمد قیصر نے مندر جہ ذیل قرار داد پیش کی:
تنظیم ہم ہندوستانی سعودی عرب کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام مورخہ 20 اکتوبر 2016 میں حسب ذیل قرار داد متفقہ آراء سےمنظور کی گئی:
1- تنظیم ہم ہندوستانی اور تمام غیر مقیم ہندوستانی مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا مداخلت کی شدت سے مذمت کرتے ہیں، اور کسی بھی فورم کے ذریعہ ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
2- یہ جلسہ عام مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دستور ہند کے دفعہ 44 کو پارلیمنٹ میں دستور سازی کے ذریعہ بے اثر کردیا جائے، تاکہ یکساں سول کوڈ کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
3- یہ جلسہ ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کسی بھی کوشش یا وجوہ کو نامنظور کرتا ہے۔
جسے حاضرین نے بیک زبان منظور کیا اور یہ طے پایا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے شروع کی گئی دستخطی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اور حکومت ہند، لا کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو ریاض میں مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کیا جائے۔ جلسہ کے اختتام پر تنظیم ہم ہندوستانی کے سکریٹری عظمت بیگ نے حاضرین شکریہ ادا کیا۔

You might also like