خواتین واطفالگوشہ خواتینمضامین ومقالات

مجھے فخر ہے کہ میری ماں زندہ ہے

شرف الدین عبدالرحمن

اس روئے زمین پر اگر کوء ذات ہے جسے میں پیار،الفت،شوق،حسرت اور محبت بھری نگاہ سے دیکھنے کا ہمیشہ متمنی اور خواہاں ہوتا ہوں تو وہ ذات میری “ماں”. ہے۔ماں کے ساتھ وہ رشتہ ہوتا ہے جسکے ٹوٹ جانے کے بعد ایک انسان ہمیشہ اپنے آپ کو ادھورا تصور کرتا ہے،زندگی اس کے بغیر اجڑی اجڑی سی معلوم پڑتی ہے،یہ وہ رشتے ہوتے ہیں کہ اگر یہ ہاتھوں سے چھوٹ جائیں تو خوشیوں سے بھرا آنگن سونا سونا سا لگنے لگتا ہے،اس کی محبت و الفت ہمیشہ زندگی کا احساس دلاتی ہے.یہ وہ رشتہ ہے جسکے بارے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”جو شخص اس ذات کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھے گا تو اللہ اسے ایک حج کے برابر ثواب عطا فرمائے گا” یہی نہیں بلکہ اللہ رب العالمین نے بھی اپنے حقوق کے معا بعد جسکے حقوق کے ادائیگی کا حکم صادر فرمایا وہ یہی ماں باپ ہیں فرمایا”وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا”.
دوستو! ماں کی شفقت اور محبت کی ایک چھوٹی سی مثال سناتا ہوں جو کاتب سطور کی ذات سے تعلق رکھتی ہے. پچھلے دنوں جامعہ امام ابن تیمیہ میں عیدالاضحی کی چھٹی ہوئی تھی بڑی فرحت و شادمانی کے ساتھ ڈھیر سارے ارمانوں کو لئے گھر کی طرف رواں دواں ہوگیا گھر پہونچنے کے دو تین دن بعد ہی بیمار پڑ گیا،تقریبا ہفتوں بخار اور سردی کے سایے تلے زندگی گذارتا رہا اچانک ایک دن بہت ہی تیز جاڑا،بخار اور الٹی کا شکار ہوگیا بستر سے الگ ہوکر جب میں چارپائی پہ بیٹھا الٹی کر رہا تھا تو قسم واللہ ماں کی محبت فرط جذبات میں بیدار ہوئی اور کلیجے سے لگائے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی بابو کیا ہوا؟کیا پریشانی ہے؟میں جب تک الٹی کرتا رہا ماں میرے کلیجے کو تھامے کھڑی رہی اور جب میں پرسکون ہوا تو ماں نے سر میں تیل مل کر اس وقت تک میرے بستر سے الگ نہیں ہوئیں جب تک میں نیند کی آغوش میں نہ چلا گیا.اللہ اکبر.اس روئے زمین پر ماں کے علاوہ ایسی کوء ذات ہی نہیں ہے جو اس طرح کی محبت کا نذرانہ پیش کرسکے.
قارئین کرام! افسوس ہوتا ہے جب ہم اپنے معاشرے کے اوپر نگاہ دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جینے والی سو میں سے دو تین مائیں ہی ایسی ہوں گی جن کے ساتھ انکی اولادیں حسن سلوک اورنرمی کا برتاو کرتی ہو. اس وقت بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے جب یہ منظر کبھی اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ لیتا ہوں کہ ایک اولاد اس ہستی کو جس نے اسے نو مہینے تک اپنے شکم میں رکھ کر طرح طرح کی پریشانیوں کو جھیل کر اسے جنم دیا پھر دو سالوں تک اپنے پستان سے دودھ کی شکل میں خون پلاتی رہی باوجود یہ کہ یہ اولاد اسے بڑا ہوکر گالیاں دیتا ہے،مارتا اور پیٹتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے گھر کے باہر کر دیا جاتا ہے.جب اس حادثے سے دوچار ہوتا ہوں تو اپنے آپ سے ہی یہ سوال کرنے لگتا ہوں کہ کیسی ہے یہ اولاد جو اپنے والدین کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتی ہے؟کیسی ہے یہ اولاد جو ماں کے احترام سے نا آشنا اور اسکے مقام سے نا بلد ہے؟ کیا اسی لئے ماں نے اسے نو مہینے کی مشقت برداشت کر کے جنم دیا تھا؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں..ایسے پراگندہ ماحول میں جب میں اپنا محاسبہ کرتا ہوں تو بڑے ہی فخر کے ساتھ یہ کہنے میں گریز نہیں کرتا کہ”مجھے فخر ہے کہ میری ماں زندہ ہے” ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کا ہر مسلم نوجوان اپنے ذہن و دماغ میں اس تصور کو رچا اور بسا کر اپنی والدہ کی خدمت کو وظیفہ حیات بنا لیں!! کیوں کہ یہ وہ ذات ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے،یہ وہ ذات ہے کہ اگر کوء اسے دن میں ایک بار محبت بھری نگاہ سے دیکھ لے تو وہ ایک حج کے برابر ثواب کا حقدار ہوجاتا ہے.یہ وہ ذات ہے جس کے سایہ میں نیکیوں کی برسات ہوتی ہے دنیا کی تمام مائیں ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے بے لوث محبت اور پیارو ممتا کی پھول نچھاور کرتی ہے جس کا کوئی حق ادا نہیں کر سکتا. ۔
اللہ ہمارے والدین کا سایہ ہم پر تادیر باقی رکھ اور انکے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق دے اور ماں کی عظمت اور محبت دنیا کی تمام اولادوں میں پیدا کردے تاکہ کوئی ماں دنیا میں کسی اولاد کے ذریعہ ذلیل و رسوا نہ ہو. آمین!!(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker