مضامین ومقالات

کشمیرپرچین کاجرات مندانہ موقف اورعالمی سطح پرعالمی چین کاکردار

عبدالرافع رسول (کشمیر)
دنیاحالات کاجومنظرنامہ پیش کرتاہے وہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ماضی کی دو سپرطاقتیں، جنہوں نے دنیا کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں تقسیم کر رکھا تھا، اب یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہی ہیں کہ طاقتوں کی موجودہ صورتحال میں کیا پوزیشن اختیار کی جائے؟ چین کے سوا کوئی طاقت ایسی نہیں ،جس کے سامنے آنے والے دور کے باہمی تعلقات کا خاکہ واضح ہو؟عالمی امور کے ماہر جوناتھن مارکس نے، ابتدائی طور پر روس اور امریکہ کی موجودہ پالیسیوں میں مضمر امکانات کی جھلک دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ فی الحال سب کے سامنے یہی کچھ ہے۔ ملاحظہ ہو۔
’’روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات جس قدر خراب آج کل ہیں، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد شاید ہی کبھی ہوئے ہوں۔حالت یہ ہو چکی ہے کہ امریکی افسران ،حلب پر روس اور شامی فوجوں کے حملوں کو”بربریت کہہ رہے ہیں اور روس کو خبردار کر چکے ہیںکہ شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے۔دوسری جانب روسی صدر بھی واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات کی خرابی کا اظہار واضح الفاظ میں کر چکے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اوباما انتظامیہ ، روس سے برابری کی سطح پر بات کرنے کی بجائے اس پر’’حکم ‘‘چلانا چاہتی ہے۔اس کے باوجود شام کے معاملے میں روس اور امریکہ، ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ تندوتیز جملوں کے تبادلے اور الزامات کے باوجود، دونوں یہ جانتے ہیں کہ شام میں جاری ڈرامے کا جو بھی اختتام ہو گا، اس میں دونوں ممالک کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ماسکو جانتا ہے کہ شام کی مستقل جنگ نہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی خود روس کے مفاد میں۔جب تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا نہیں ہوتا اور دونوں ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھتے، اس وقت تک ،شام کے معاملے میں دونوں کے درمیان مذاکرات کی بنیادیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔کسی کو یہ توقع نہ تھی کہ روس اور امریکہ کے تعلقات اتنے بگڑ جائیں گے، بلکہ اکثر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سرد جنگ کے خاتمے سے ،دونوں کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو جائیں گے۔کچھ عرصے کے لئے روس نے خود کو، عالمی معاملات سے پیچھے کر لیا تھا، لیکن اب وہ پورے زور شور سے عالمی سٹیج پر واپس آ چکا ہے۔ اس کی شدید خواہش ہے کہ ارد گرد کے ممالک میں ،اپنے کردار کو مستحکم کر لے اور اس تاثر کو غلط ثابت کرے کہ مغرب کے ہاتھوں اس کی سبکی ہوتی رہے گی۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالات اس نہج تک پہنچے کس طرح؟ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد، روس اور مغرب ایک نئی قسم کے تعلقات قائم کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا امریکہ نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور روس کے جذبات کی پروا نہیں کی، یا روس ابھی تک سوویت دور کی عظمت کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے؟ روس اور امریکہ کے معاملات اتنے خراب کیوں ہو گئے ہیں؟ اور کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ دونوں میں، ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے؟میں یہاں ان سوالوں کے کوئی مفصل جواب نہیں دوں گا کیونکہ امریکہ اور روس کے تعلقات کی کہانی اتنی پرپیچ ہے کہ اس موضوع سے انصاف کرنے کے لئے مجھے ٹالسٹائی کے ناول ’’وار اینڈ پِیس‘‘ جتنی ضخیم کتاب لکھنا پڑے گی‘‘
روس اورامریکہ جس طرح باہم الجھے ہوئے نظرآرہے ہیں اس کے نتیجے میںچین ابھرتانظرآرہاہے ۔چین اپنی جن پالیسیوں کوفالوکررہاہے اس کے نتیجے میں پوری دنیاکے ساتھ اسکی کوئی رقابت نظرنہیں آتی ۔اسی تناظرمیں جنوبی ایشامیں ’’پاک چین دوستی‘‘ کوایک شہکارکے طورپردیکھاجاتاہے ۔سرزمین کشمیرپرکشمیریوں کونیست ونابودکرکے کلی طورپرکشمیرہڑپ کرنے کی بھارتی خواہش ہویادہشت گردی کے موضوع پر بھارتی تشریح وتفہیم یاپھرپاکستان کے مقابلے میں بھارت کانیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) میں شمولیت کاخواب، چین سینہ تان کاپاکستان کے ساتھ کھڑاہے اوربھارتی اقدامات کی متواتر مخالفت کرتا ہے۔ ان اہم ایشوز پر چین کے دو ٹوک موقف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں کہیں پاکستان کے اہم مفادات کا سوال اٹھے گا چین پوری قوت اور ثابت قدمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گا۔ موجودہ اور 1970-60 کی دہائیوں کے چین میں بہت فرق ہے۔ آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے چین ایک پسماندہ ملک تھا۔ بین الاقوامی سیاسی اور معاشی نظام پر دو سپر پاورز یعنی روس اور امریکہ کی اجارہ داری تھی۔ دنیا پر بالادستی قائم کرنے کے لیے یہ دونوں سپر پاورز آپس میں حریف تھیں لیکن چین کی مخالفت میں ایک دوسرے کے حلیف تھیں امریکہ کی سرکردگی میں صنعتی طور پر ترقی یافتہ مغربی ممالک نے چین کا تجارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ مشرق بعید اور جنوب مشرقی ایشیا میں درجنوں فوجی اڈوں پر جدید ترین اور ایٹمی ہتھیاروں سے امریکی افواج چند منٹ کے نوٹس پر چین پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھیں۔ سب سے سنگین اشتعال انگیزی ویت نام کی جنگ تھی جس میں پانچ لاکھ سے زائد فوج امریکہ نے جھونک رکھی تھی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود چین باقی ماندہ دنیا خصوصا ترقی یافتہ ممالک سے کٹا ہوا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والے عالمی مالیاتی نظام جن کی نمائندگی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کرتے ہیں کے ساتھ چین کا کوئی سروکار نہ تھا لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکی۔ چین کے نئے لیڈر چن یائو پنگ نے ملک کے دروازے دنیا کے لیے کھول دیئے نہ صرف چینیوں کو دنیا کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملا بلکہ باہر کی دنیا خصوصا لاکھوں اوورسیز چینیوں کو مین لینڈ چائنا آنے اور یہاں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملی، بس یہاں سے وہ سفر شروع ہوتا ہے کہ جسے طے کر کے چین آج دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔ چین ایک موجودہ عالمی اقتصادی نظام کا مخالف نہیں رہا بلکہ اس کا ایک اہم حصہ ہے چین اس نظام کو منصفانہ بنانے کے لیے اس میں
اصلاحات کا حامی ہے لیکن اسے عدم استحکام سے دوچار نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ اب وہ خود اس کا ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے اور اس سے اپنی وابستگی کو جاری رکھنا چاہتا ہے کیونکہ قومی ترقی کے لیے اس نے اس راہ کا انتخاب کیا ہے۔ اسی کی ایک نمایاں مثال جنوب مشرق ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم آسیان(Asean)کو پیش کیا جا سکتا ہے 1967 میں جب اس تنظیم کو رکن ممالک کے مابین تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا تو چین نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے سامراجی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیا تھا۔ آج چین اس تنظیم کا نہ صرف ڈائیلاگ رکن بلکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔1962 کی چین بھارت سرحدی جنگ اور امریکہ، پاکستان تعلقات میں سرد مہری نے دراصل پاک چین دوستی کی بنیاد رکھی جو وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر چلی آ رہی ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ چین جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بشمول بھارت کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ اس کے برعکس حالیہ برسوں میں بھارت کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک مثلا نیپال بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ بھی چین نے گہرے دو طرفہ تعلقات قائم کررکھے ہیں۔
بھارت کے ساتھ چین کی دو طرفہ تجارت کا حجم70ارب ڈالر کے قریب ہے۔ نیپال کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے چین تبت اور نیپال کے درمیان ایسے نئے ریل روڈ رابطے تعمیر کر رہا ہے جو سخت سردی اور برف باری کے دنوں میں بھی کھلے ہیں۔ سری لنکا میں چین کولمبو کے قریب ایک نئی بندرگاہ اور اہم شاہراہوں کی تعمیر میں تکنیکی اور مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ بھارت کے ناک بھوں چڑانے کے باوجود بنگلہ دیش اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی ماہ چینی صدر ژی بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں جو تیس برس میں کسی چینی صدر کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔ بنگلہ دیشی ذرائع کے مطابق صدر ژی اپنے دورہ کے دوران میں بنگلہ دیش میں 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور جس کے تحت پاکستان کے راستے گوادر اور کاشغر کو ملانے کے لیے ریلوے لائنوں اور سڑکوں کا ایک جال بچھایا جائے گا اور ان کمے ساتھ ساتھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ یہ ملک سے باہر چین کا سب سے بڑا سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ بنیادی طور پر اگرچہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک دو طرفہ معاہدہ ہے۔ لیکن اس کے علاقائی بلکہ عالمی پہلو بھی ہیں۔ اس کے ثمرات سے جنوبی ایشیا اوروسط ایشیائی ممالک کے علاوہ مغربی ایشیا بلکہ شمالی افریقہ کے ممالک بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف امن کے حالات میں ہی ممکن ہے اور دنیا کے ان حصوں میں امن کو لاحق پا ک بھارت تصادم سے بڑھ کرکوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کو تشویش پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ہے حالانکہ کشمیر میں عوامی احتجاج چوتھے ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور بھارتی افواج کی فائرنگ سے 110سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں مگر بھارت اور پاکستان میں انتہا پسندوں نے اسے دو ملکوں کی لڑائی میں تبدیل کر دیا ہے جس کے امکان کو روکنا عالمی برادری کی نظر میں اس لیے اولین ترجیح ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ چینی عہدے دار کی طرف سے پاکستان اور بھارت کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
دنیا کی 44 فیصد آبادی’’ برکس ممالک‘‘ میں بستی ہے۔ دنیا کی 30 فیصد جی ڈی پی انھیں ممالک سے آتی ہے اورعالمی سطح پر تجارت میں ان کا تقریبا 18 فیصد حصہ ہے۔برازیل، روس، بھارت، جنوبی افریقہ اور چین پر مشتمل ’’برکس کانفرنس‘‘15 اور 16 اکتوبر کے درمیان بھارتی شہر’’گوا‘‘ میںمنعقد ہوئی یہ کانفرنس ایک ایسے وقت پر ہوئی کہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیرکے حوالے سے تشویش ناک حدتک کشیدیگی برقرارہے۔بھارت کا خیال تھا کہ وہ ’’برکس ‘‘کااستعمال کرکے پاکستان کابرکس نکال دے گا ۔ بھارت نے اس حوالے سے بساط بھرکوشش کی لیکن وہ اس میں اس وقت بری طرح ناکام رہاکہ جب چین نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مودی سرکار کو دوٹوک جواب دیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی ایک ملک یا مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا، عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی گراں قدر قربانیوں کا احترام کرے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوچو ینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کاگڑھ قرار دینے سے متعلق سوال پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے، بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا جو ردعمل ظاہر کیا گیا وہ چین کے پاکستان کا دوست اور خیر خواہ ہونے کا ایک اور واضح اظہار ہے اس امر کا ثبوت کہ چین ہر حال میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ چین نے بھارت کو جو جواب دیا وہ پاکستان کی جانب دارانہ حمایت سے زیادہ چین کااصولی موقف ہے۔
بھارت میں کوئی چھوٹا موٹا واقعہ بھی رونما ہو جائے تو فورا واویلا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستان نے کرایا ہے جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی فنڈنگ میں بھارت پیش پیش ہے اور اس سرمایہ کاری کا مقصد پاکستان کو کمزور کر کے اپنا دست نگر بنانے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو پیش کیے گئے لیکن افسوس کہ دونوں کی جانب سے اس پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ بھارتی سوچ کے برعکس چین نہیںچاہتا کہ اس خطے میں کشیدگی بڑھے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو کیونکہ وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ تصادم کا مطلب تباہی ہے اور کسی بھی نوعیت کا تصادم نہ صرف متحارب ممالک کو تباہی سے دوچار کر دیتا ہے بلکہ اس پورے خطے میں ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ چین کا بھارت کو جواب اسی تناظر میں ہے اور چند روز قبل چین نے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے ثالثی کی
جو پیش کش کی اس کا مقصد بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تنائو کو کم کرنا ہی تھا جو ایک بڑی اور ہولناک ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ چین کی جانب سے اس اخلاقی جرا ت کا مظاہرہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ اس معاملے میں ثالثی کا کردار قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر چکے تھے کہ دونوں ملک پاکستان اور بھارت اپنے معاملات اور مسائل باہمی بات چیت سے حل کریں۔
چین سمجھتاہے کہ بھارتی قیادت اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں تغافل جاری رکھے گی تو اس مسئلے کے حل کی ضرورت ختم نہیں ہو جائے بلکہ کسی روز یہ لاوا زیادہ شدت کے ساتھ پھٹے گا اور پورے خطے کا امن دائو پر لگ جائے گا۔ چین نے بھارت کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ پیغام محض بھارت کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی ہے کہ اگردنیاکی سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے دل میں تمناہوتوکشمیراورفلسطین کے ساتھ ساتھ شام ،عراق اورافغانستان کے مسائل حل کرنے پڑیں گے ۔
لیکن برصغیرکی جغرافیہ کایہ المیہ ہے کہ بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ الجھاہواہے ،بھارت پاکستان ،بھارت بنگلہ دیش ،بھارت چین ،بھارت سری لنکا،بھارت نیپال ،ان تمام ممالک کے ساتھ الجھائومیں بھارت ایک فریق ضرورہے ،اسی پس منظرمیں جب بات کرتے ہیں توچین اور بھارت کے درمیان ارونا چل پردیش پر تنازع چل رہا ہے، چین کادوٹوک موقف ہے کہ ارونا چل پردیش کا 84 ہزار سات سوتنتالیس مربع کلومیٹر کا علاقہ تبت کا حصہ ہے۔اروناچل پردیش بھارت کے شمال مشرق میں واقع ہے۔اس کی سرحدیں جنوب میںبھارت کی دو ریاستوں آسام اور ناگالینڈ سے ملتی ہیں، جبکہ مغرب میں بھوٹان، مشرق میں میانمار اور شمال میں عوامی جمہوریہ چین سے جاملتی ہیں۔بھارت نے اس متازعہ علاقے کو 20 فروری 1987میں سلطنت بھارت میں شامل کردیاہے۔2011کوکرائی جانے والی مردم شماری کے مطابق اروناچل پردیش کی آبادی 1,382,611نفوس پرمشتمل ہے۔ یہاںمسلمانوں کی تعداد 20,000 ہے،جبکہ اکثریت ہندووں کی ہے جن کی تعداد3,70,000 ہے۔ مسیحیوں کی تعداد دولاکھ بتائی جاتی ہے۔ بدھ مت کے ماننے والے ڈیڑھ لاکھ ہیں۔ اروناچل پردیش کے قدیم مذہب ڈونیو پولو کے ماننے والوں کی تعداد 3,30,000 ہے۔ یہ تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے کیوں کہ اس مذہب کے ماننے والے تیزی سے دیگرمذاہب قبول کررہے ہیں۔60نشستوں پرمشتمل اروناچل پردیش میں ایک قانون ساز اسمبلی ہے،جبکہ بھارتی پارلیمان کیلئے یہاں دونشستیں رکھی گئیں ہیں۔ایٹانگر اروناچل پردیش کادارالحکومت ہے۔لغت میںاروناچل پردیش کے معنی ’’شفق صبح‘‘ والے پہاڑ کی سرزمین کے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم مودی گذشتہ دنوں ارونا چل پردیش کے بھارتی ریاست بننے کے 28 سال مکمل ہونے پراروناچل پردیش گئے اوروہاں ریلوے لائن کا افتتاح کیا اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ لگانے کا اعلان کیا تھا۔جس پرچین نے سخت برہمی کااظہارکیا،چین کی وزارتِ خارجہ نے14فروری 2015 سنیچر کی شام کوبھارتی سفیر اشوک کنتھا کو طلب کیااور مودی کے اس دورے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دورے چین کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔بیجنگ نے نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہ کرے جو طرفہ تعلقات کو پیچیدہ بنا دے۔چین اور بھارت کے درمیان 1962 میں ایک مختصر مگر خونی لڑائی ہو چکی ہے۔دونوں ممالک نے 1996 میں لائن آف ایکچول کنٹرول کو تسلیم کرتے ہوئے اس تنازعے پر مذاکرات شروع کیے تھے۔1996 میں، دونوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں دونوں ممالک نے فوجی علاقے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے ایل اے سی کے تعین کے عمل کو تیز کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔اس معاہدے میں کہا گیا تھا، بھارت اور چین کو ایل اے سی کے تعین کے پہلے مرحلے میں ان حصوں پر کام کرنا ہے، جس میں دونوں کی مختلف رائے ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو اپنا اپنا نقشہ دینے پر بھی اتفاق کیا تھا۔لیکن ایسا ہوا نہیں 2003 میں بات چیت کرنے اور فیصلہ لینے کی ذمہ داری خصوصی نمائندوں کے حوالے کی گئی 11 سال اور 17 رائونڈ کی بات چیت کے بات بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔اس کے برعکس چین نے جموںوکشمیراوراروناچل پردیش کے شہریوں کوبھارتی باشندگان نہ مانتے ہوئے انہیں چین جانے کے لئے مروجہ ویزاکے طریقہ کارسے ہٹ کرایک سادہ سی پرچی پر،پرمٹ جاری کردئے تھے ،جس پربھارت نے واویلامچائی تھی جبکہ بھارت آزادکشمیرمیں چینی انجینئرزاورورکرزکوچین کی لبریشن آرمی سمجھتے ہوئے بھی چین سے شکوہ کنان ہے۔
ستمبر2014 میں نریندر مودی چینی صدر شی جی پنگ کو بھارت میں خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔ ماضی قریب میں بھارت اور چین کے تعلقات میں آنے والے اتار چڑہا کو مدنظر رکھیں تو بادی النظرمیںچینی صدر کے بھارتی دورے کی اہمیت دو چندنظرآرہی تھی ۔لیکن چینی صدر کے دورے کے دوران تقسیم کیے گئے ایک مبینہ نقشے میں اروناچل پردیش اور جموں کشمیر کو متنازع علاقے دیکھانے پر حکومت سے احتجاج کیا ہے۔یہ نقشہ مبینہ طور پر ریاست گجرات کی بی جے پی حکومت نے چین کے صدر شی جی پنگ اور وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں احمد آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کے وقت تقسیم کیا تھا۔واضح رہے کہ 23ستمبر 2014چین کے صدر شی جی پنگ کے بھارت کے دورے کے دوران بھی چینی فوجی جموں وکشمیرکے متنازع علاقے لداخ کی سرحد میں گھس آئے تھے۔اس پراس وقت کچھ اسٹریٹجک ماہرین کی رائے تھی کہ یہ دراندازی چین کے صدر شی جی پنگ کی خود کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ بھی سو سکتی ہے، تاکہ وہ بھارت کو اس کی حیثیت بتا سکیں اور یہ یاد دلا سکیں کہ بھارت اور چین کا تنازع برقرار ہے۔خیال رہے کہ چین اور بھارت کی تقریبا چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد کا واضح طور پر تعین نہیں ہوا ہے اور سرحدی تنازعات نے ان1962 میں جنگ کی شکل بھی اختیار کر لی تھی۔
چین بھارت کااصل تنازع اروناچل پردیش اور جموں وکشمیر کے لداخ علاقے پر ہے۔ چین کا موقف ہے کہ اروناچل پردیش پر ہندوستان نے قبضہ کر رکھا ہے۔جبکہ لداخ ک حوالے سے چین کاموقف ہے کہ بھارت نے اس پربھی جبری قبضہ کیاہواہے۔چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور یہ تجارت اتنی زیادہ ہے کہ اس سے بھارت کو 40 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو کم کرنے کے لیے بھارت کوششیںکررہاہے اور اب دونوں ممالک نے 2015 تک اپنی سالانہ تجارت کو ایک سو ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔گذشتہ برس صدرچین مسٹر شی کے ہمراہ ایک سو سے زائد چینی کاروباری شخصیات بھی بھارت پہنچے تھے ، جس سے صاف مطلب تھا کہ چینی وزیر اعظم کے دورے کا مرکزی نکتہ تجارت ہی تھا۔ اپنے دورہ بھارت کے دورا ن صدرچین کے ہاتھوں کئی نئے صنعتی پارکوں کا افتتاح کرنے کے بعدبھارت کاخیال تھاکہ چینی تاجر براہ راست سرمایہ کاری کی جانب راغب ہو جائیں گے۔مگراب مسئلہ اروناچل پردیش ایک بارپھر کھڑاہوگیا۔ چین سے ویتنام، لاس ، تھائی لینڈ اور برما سے ملانے والی سڑکوں اور ریلوے کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کیا جا رہا ہے اوراسی پس منظرمیں چین سٹلویل روڈ کو دوبارہ کھولنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں چین کو سپلائی اسی سڑک سے ہوتی تھی، یہ سڑک بھارت کی ریاست آسام سے شروع ہوتی ہے اور ارونا چل پردیش سے ہوتی ہوئی برما کے بالائی علاقے کاچن سے ہوتے ہوئے چین کے صوبے یوننن جا پہنچتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاجغرافیائی تنازعے کی موجودگی میں چین بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اس طرح استواررکھنے کی پوزیشن میں ہے کہ جس طرح بھارت چاہتاہے اوریہ کہ کیا بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کا کوئی حل ہے۔ایک طرف تو بھارت چین کے ساتھ باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کی بات کر رہاہے اور دوسری طرف سرحد پر فوج آمنے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker