اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل؟

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

ٹرین میں بیٹھ کر نماز کی ادائیگی
سوال:- ٹرین میں بیٹھ کر بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے ، یا کھڑے ہوکر ہی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔
( شمیم اختر ، دہلی)
جواب :- اگر ٹرین کسی جگہ رُکی ہوئی ہو اور جگہ میں ایسی گنجائش ہو کہ رُکوع اور سجدہ معمول کے طریقہ پر کیا جاسکے تو کھڑے ہوکر ہی فرض نماز کا ادا کرنا ضروری ہوگا ، اگر ٹرین چل رہی ہو ؛ لیکن حرکت زیادہ نہ ہو ، کھڑے ہوکر نماز ادا کی جاسکتی ہو تو اس صورت میں بھی فرض نماز کھڑے ہوکر پڑھنا ضروری ہے ، اور اگر حرکت بہت زیادہ ہو ، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر بھی نماز ادا کرنا درست ہے ، جیساکہ کشتی میں نماز پڑھنے والوں کے لئے عمومی حالات کو دیکھتے ہوئے امام ابوحنیفہؒ نے مطلقاً اور صاحبین نے عذر کی بناپر اس کی اجازت دی ہے ، اگر ٹرین میں حرکت تو کم ہو ؛ لیکن اژدحام اتنا زیادہ ہو کہ رُکوع و سجدہ کرنا دشوار ہو اور اس بات کی بھی اُمید نہ ہو کہ قریب میں اسٹیشن آجائے گا اور نیچے اُتر کر نماز ادا کی جاسکے گی تو اس صورت میں بھی بیٹھ کر نماز ادا کی جاسکتی ہے ؛ کیوںکہ جب آدمی کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے قاصر ہو تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے : ’’ لو صلی فی فلک قاعدا بلا عذر صح ، وھذا عند أبی حنیفۃ وقالا : لا یصح إلا من عذر ؛ لأن القیام مقدور علیہ فلا یجوز ترکہ ، ولہ أن الغالب فیہ دوران الرأس ، وھو کالمتحقق لکن القیام أفضل ، لأنہ أبعد عن شبھۃ الخلاف ، والخروج افضل إن امکنہ ؛ لأنہ أسکن لقلبہ‘‘ ۔ (تبیین الحقائق : ۱؍۲۰۳)
جہاز ، ٹرین ، بس اور کار میں استقبال قبلہ
سوال:- ٹرین ، جہاز ، بس اور کار میں نماز پڑھتے ہوئے استقبال قبلہ کا کیا حکم ہوگا ؛ کیوںکہ ان سواریوں پر رُخ بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ ( فیض الباری ، یاقوت پورہ )
جواب :- نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط قبلہ کا استقبال ہے ، اگر استقبال نہ ہو تو نماز درست نہیں ہوتی ؛ البتہ شریعت کے عمومی مزاج کے مطابق عذر کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے ، اگر کسی وجہ سے استقبال قبلہ ممکن نہ ہو تو اس کے بغیر بھی نماز درست ہوجائے گی ، اسی اُصول کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے سواری میں استقبال قبلہ کا حکم متعین کیا ہے کہ اگر چوپائے پر سوار ہو تب تو استقبال قبلہ ضروری نہیں ہوگا ؛ کیوںکہ چوپایہ کا رُخ بدل جائے تو سوار کا اپنے آپ کو مخالف رُخ پر برقرار رکھنا دشوار ہوتا ہے ، بخلاف کشتی کے ، کہ اگر کشتی کا رُخ بدل جائے تو سوار کے لئے واجب ہوگا کہ وہ قبلہ کی طرف اپنا رُخ درست کرلے ، اس لئے کشتی میں رُخ درست کرنا ضروری ہوگا : ’’ ویدور إلی القبلۃ کیفما دارت السفینۃ بخلاف الدابۃ للتعذر ‘‘ ۔ (حاشیۃ شلبی علی تبیین الحقائق : ۲۰۳)
اس اُصول پر ٹرین وغیرہ کے احکام حسب ذیل ہوں گے :
(الف) ٹرین میں اکثر استقبال قبلہ کے ساتھ نماز پڑھنا دشوار نہیں ہوتا ، بالخصوص ایسے لوگوں کے لئے جو سلیپر یا اس سے اوپر کے کلاس میں ہوں ، ان کے لئے استقبال قبلہ ضروری ہے ، اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوگی ؛ البتہ اگر جنرل بوگی ہو اور اتنا شدید اژدحام ہو کہ اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکتے ، جہاں بیٹھے ہیں ، وہیں بیٹھے رہنے پر مجبور ہیں ، نماز کے وقت کے اندر اندر کوئی ایسا اسٹیشن بھی آنے والا نہیں ہے ، جہاں اتنا وقفہ ہوکہ اُتر نماز ادا کرلیں ، تو ایسی صورت میں استقبال قبلہ کے بغیر بھی نماز ادا کرنے کی گنجائش ہوگی ۔
(ب ) ہوائی جہاز میں اگر نماز کے لئے کوئی جگہ مخصوص ہو ، جیساکہ سعودی ایئرلائنز کے جہازوں میں ہوتا ہے اور اس میں قبلہ کی نشاندہی بھی ہوتی ہے ، اسی طرح نماز کے لئے باضابطہ جگہ تو نہ ہو ؛ لیکن آگے یا پیچھے کھلی ہوئی جگہ موجود ہو ، نیز جہاز کا عملہ اور پسنجروں کی طرف سے رُکاوٹ نہ ہو ، تو اس جگہ پر قبلہ رُخ نماز پڑھنا ضروری ہوگا ، اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں اور جہاز کا سفر قبلہ کی طرف بھی نہ ہو ؛ لیکن اُمید ہو کہ وقت نماز ختم ہونے سے پہلے ایئر پورٹ آجائے گا تو جہاز سے اُترنے کے بعد قبلہ رُخ ہوکر نماز ادا کرنی چاہئے ، اگر یہ تینوں سہولتیں نہ پائی جاتی ہوں تو استقبال قبلہ ضروری نہ ہوگا ، جس رُخ پر بھی نماز ادا کرسکتے ہوں ، نماز ادا کرلیں ۔
(ج) بسوں میں عام طورپر اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ آدمی سیٹ سے ہٹ کر نماز ادا کرسکے تو اگر نماز کے لئے بس رُکواسکتا ہو ، یا نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ایسا اسٹینڈ آجائے جہاں نماز کے بقدر توقف کی اُمید ہو تو بس رُکنے کے بعد قبلہ رُخ نماز ادا کرے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو جس رُخ پر بس جارہی ہے ، اسی رُخ پر نماز ادا کرلے ۔
(د) کار ایسی سواری ہے جو انسان کی اپنی قدرت میں ہوتی ہے ، وہ کسی مقام پر ٹھہرائی جاسکتی ہے اور اگر کوئی عذر کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر ہی نماز ادا کیا کرتا ہو تو اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ کار کو قبلہ کے رُخ پر کھڑا کردیا جائے اور وہ استقبال قبلہ کے ساتھ نماز ادا کرلے ۔
حاصل یہ ہے کہ قبلہ کا استقبال نماز کی ایک اہم شرط ہے ، جس کا قرآن مجید میں صریح حکم آیا ہے ؛ اس لئے ممکن حد تک اس حکم کی رعایت کرتے ہوئے ہی نماز ادا کرنی چاہئے ؛ البتہ اگر یہ ممکن نہ ہوتو نماز قضاء نہ کرے ؛ بلکہ جس رُخ پر سواری ہو ، اسی رُخ پر نماز ادا کرلے ۔ واللہ اعلم
ٹوائلٹ پیپر کا استعمال
سوال:- آج کل قضاء حاجت کے لئے ٹوائلٹ پیپر کا استعمال عام ہوگیا ہے ، بعض ملکوں میں سخت ٹھنڈک ہوتی ہے ، وہاں تو معمولاً اسی کا استعمال کرتے ہیں ، کیا استنجاء کے لئے اس پیپر کا استعمال درست ہے ؟ ( جمال الدین ، سنتوش نگر )
جواب :- ایک وہ ناپاکی ہے ، جس کو ’ نجاست حکمی ‘ کہتے ہیں ، جس سے پاک ہونے کے لئے وضوء اور غسل ضروری ہے ، اس صور ت میں پانی ہی استعمال کرنا ضروری ہوگا ، کسی اور چیز سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ، خواہ بہتی ہوئی چیز ہو ، سوائے اس کے کہ کوئی وضو اور غسل کرنے سے معذور ہو تو وہ تیمم کرسکتا ہے ، دوسری قسم کی ناپاکی وہ ہے ، جس کو ’ نجاست حقیقی ‘ کہتے ہیں اور جو محسوس کی جاسکتی ہے ، جیسے پیشاب ، پاخانہ اورخون ، اس سے پاکی حاصل کرنے کے لئے پانی کا استعمال ضروری نہیں ؛ بلکہ کوئی بھی ایسی چیز کافی ہے جو اس نجاست کو دُور کردے ، اسی لئے فقہاء نے استنجاء کا حکم لکھا ہے کہ اگر نجاست اپنے نکلنے کی جگہ کے بعد ہتھیلی کے گہرے حصہ کی مقدار پھیل جائے تو اب اس کا پانی سے دُھونا ضروری ہے ، ایسی کیفیت عام حالات میں پیدا نہیں ہوتی ، بیماری کی کیفیت ہی میں ہوتی ہے ؛ لہٰذا اگر نجاست میں اس قدر پھیلاؤ نہ ہو تو کسی بھی ایسی چیز سے پاکی حاصل ہوجائے گی ، جس میں نجاست کو دُور کرنے کی صلاحیت ہو ، جیساکہ حدیث میں پتھر سے استنجاء کرنے کا حکم آیا ہے ، فقہاء نے اسی حکم میں مٹی ، لکڑی ، کپڑا اور چمڑے وغیرہ کو رکھا ہے : ’’ یجوز الاستنجاء بنحو حجر منق کالمدروالتراب والعود والخرقۃ والجلد وما أشبھھا … ثم الاستنجاء بالأحجار إنما یجوز إذا اقتصرت النجاسۃ علی موضع الحدیث ، فأما إذا تعدت موضعھا بأن جاوزت الشرج أجمعوا علی أن ما جاوز موضع الشرج من النجاسۃ إذا کانت أکثر من قدر الدرھم یفترض غسلھا بالماء ‘‘ ( الفتاویٰ الہندیہ : ۱؍۴۸) — ٹوائیلٹ پیپر میں نجاست کو صاف کرنے کی صلاحیت بمقابلہ مٹی یا پتھر وغیرہ کے زیادہ ہوتی ہے ؛ اس لئے اس کا بھی وہی حکم ہو ہوگا ، جو پتھر وغیرہ کا ہے — فقہاء نے عام طورپر کاغذ سے استنجاء کو منع کیا ہے کہ وہ تعلیم و تعلم کا آلہ ہونے کی وجہ سے قابل احترام ہے ؛ لیکن ٹوائیلٹ پیپر خاص استنجاء کے لئے ہی بنایا جاتا ہے اور اس لائق نہیں ہوتا کہ اس پر لکھا جائے ؛ اِس لئے وہ اس ممانعت کے دائرہ میں نہیں آئے گا اور استنجاء کے لئے اس کا استعمال بلا کراہت درست ہوگا ۔
سی ڈی یا سافٹ ویر کے قفل کھولنا اور اس کی خرید و فروخت کرنا
سوال:- آج کل بہت سی سافٹ ویر کمپنیاں سافٹ ویر بناتی ہے اور اسے بیچتی ہیں اور سافٹ ویر کو انسٹال کرنے کے لئے کمپنی کوڈ دیتی ہیں کہ اس کے بغیر وہ پروگرام انسٹال نہیں ہوسکتا ؛ لیکن بعض اوقات لوگ اس کی کاپی کرلیتے ہیں ، یا اس کا لاک توڑ کر دوسروں سے فروخت کرتے ہیں تو کیا ایسا کرنا درست ہے اور دوسروں کے لئے اسے خریدے بغیر کاپی کرکے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ؟ (صبغت اللہ ندوی ، ممبئی )
جواب :- رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کا دوسرے شخص کو نہ ابتداء ًنقصان پہنچانا درست ہے اور نہ جواب اور ردعمل کے طورپر : ’’ لا ضرر ولا ضرار ، من ضار ضارہ اﷲ ، ومن شاق شاق اﷲ علیہ ‘‘ ( المستدرک علی الصحیحین ، حدیث نمبر : ۲۳۴۵) — فقہی اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ اس کو چوری شمار نہ کی جائے ؛ کیوںکہ چوری مال محفوظ کو چھپاکر لے لینے کا نام ہے اور احناف کے نزدیک مال کا اطلاق ٹھوس چیزوں پر ہوتا ہے ؛ لیکن یہ عمل اپنی روح ، مقصد ، ضرر رسانی کے جذبہ اور بلا اجازت دوسرے کی چیز لے لینے کی کوشش کے لحاظ سے ایک طرح کی چوری ہے ؛ اس لئے سی ڈی یا سافٹ ویر کا کوڈ توڑ کر اسے حاصل کرنا جائز نہیں ، اس کا بیچنا بھی جائز نہیں اور اس کی قیمت بھی اس کے لئے حلال نہیں ہے ؛ البتہ جس شخص نے اس سے خریدا ہے ، وہ اگر کسی اور سے فروخت کرتا ہے تو یہ خرید و فروخت جائز ہوجائے گی اور اس دوسرے خریدار کے لئے اس سے استفادہ کرنا جائز ہوگا ؛ کیوںکہ اگر کوئی چیز فقہی اصطلاح کے اعتبار سے ’ بیع فاسد ‘ کے ذریعہ خرید کی جائے اور خریدار اسے کسی اور سے بیچ دے تو یہ دوسری خرید و فروخت درست ہوجاتی ہے : ’’ بخلاف المشتری بشراء فاسد إذا باعہ من غیرہ بیعاً صحیحافإن الثانی لا یؤمر بالرد ، وإن کان البائع ماموراً بہ ؛ لأن الموجب للرد قد زال بیعہ ‘‘ (ردالمحتار : ۵؍۹۸ ، نیز دیکھئے : شرح السیر الکبیر : ۱؍۱۱۹ ، فقر نمبر : ۲۰۵۰) — لہٰذا جو سی ڈی یا سافٹ ویر کھول دیا گیا ہو اور بازار میں پھیل چکا ہو ، شرعاً اس کو خریدنے کی گنجائش ہے ؛ البتہ کراہت سے خالی نہیں ، بہتر یہ ے کہ جو اس کا اولین مالک ہے ، اسی سے خریدا جائے ۔

(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker