Baseerat Online News Portal

شہر بند کرنے کی اجازت نہیں، عمران خان عدالت میں طلب

اسلام آباد ،27اکتوبر(آئی این ایس انڈیا)
پاکستان کی ایک عدالت نے انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات کے طور پر اور حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کو احتجاجی دھرنوں کے ذریعے اسلام آباد کو بند کرنے سے روک دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ دو نومبر کو حکومت مخالف احتجاج کے لیے اپنے لاکھوں حامیوں کے ساتھ اسلام آباد کو بند کر دیں گے۔شہر کو بند کرنے کے اعلان کے خلاف عام شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم سنایا۔سماعت کرنے والے جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ دو نومبر کو احتجاج کے دوران انتظامیہ کنٹینرز لگا کر شہر کو بند نہیں کرے گی اور حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے مخصوص جگہ تک ہی محدود رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن احتجاج کے نام پر عام شہریوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جج نے کہا کہ سیاسی جماعت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق ہے لیکن کسی بھی شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالتی حکم میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ شہر میں کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند نہ کی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام اسپتال، تعلیمی ادارے اور معمولات زندگی معمول کے مطابق رہیں۔جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس حکمنامے کے بارے میں عمران خان کو بھی آگاہ کرے۔
عدالت نے عمران خان 31اکتوبر طلب کرتے ہوئے کہا الیکٹرانک میڈیا کا نگران ادارہ ’’پیمرا‘‘پی ٹی آئی کے سربراہ کی تقاریر کا ریکارڈ پیش کرے جو عمران خان کی موجودگی میں سنی جائیں گی اور شہر کو بند کرنے کے ان کے بیان پر وضاحت طلب کی جائے گی۔وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے’’سی ڈی اے‘‘نے سیاسی جلسوں کے لیے فیض آباد سے داخل ہوتے ہی ایک جگہ مخصوص کر رکھی ہے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے پارلیمنٹ ہاؤس کا ہی رخ کرتے رہے ہیں جس سے اکثر اوقات شہر میں معمولات زندگی متاثر ہونے کے علاوہ امن و امان سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔اس عدالتی فیصلے سے قبل عمران خان یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ کسی صورت اپنا احتجاج ملتوی نہیں کریں گے جب کہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔

You might also like