اسلامیاتفقہ وفتاویٰمضامین ومقالات

حلالہ کا انکار کفر ہے

زورِ قلم : مولانا فضیل احمد ناصری القاسمی
استاذ حدیث: جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند
حلالہ کا مسئلہ بڑا عجیب مسئلہ ہے، اس مسئلے پر اغیار تو اغیار، اپنوں کے طعنے بھی سننے میں آتے ہیں جس کی وجہ کج فہمی، کم علمی اور کور مغزی کے سوا کچھ نہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ “حلالہ “کی بعض شکلیں حرام ہیں، مگر ایسا بھی نہیں کہ ساری شکلیں حرام ہوں، اس سلسلے میں تفصیل آگے آرہی ہے۔
سب سے پہلے تو حلالہ کی حقیقت سمجھیے: اگر مرد اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے یا متفرق اوقات میں تین طلاقیں دے، تو ایسی صورت میں یہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، دونوں کا سیدھا سادہ نکاح اب ممکن نہیں، نکاح کا بس ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے …. یہ راستہ بڑا پیچ دار، صبر آزما، غیرت انگیز اور تکلیف دہ ہے …. وہ یہ کہ یہ عورت اپنی عدت گذار کر کسی مرد سے شادی کر لے اور وہ مرد اس سے جسمانی تعلق قائم کرنے کے بعد طلاق دے دے، یا اسے موت آجاے، تو عدت گذار کر اب یہ عورت اپنے سابق شوہر کے لیے برائے نکاح ’’حلال ‘‘ہو جاتی ہے…..یہاں یہ بھی خیال رکھیے کہ “حلالہ “کے سلسلے میں ایک حدیث بڑی سخت قسم کی ہے، اسی کے پیشِ نظر لوگ “حلالہ “کے عمل کو گناہِ عظیم باور کرتے ہیں…. وہ حدیث یہ ہے: عن علی قال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعن المحلل والمحلل لہ؛ یہ حدیث ترمذی میں ہے اور نمبر ہے ۱۱۰۱ / اسی قسم کی حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المحلل والمحلل لہ ؛ یہ حدیث بھی ترمذی میں ہے اور نمبر ۱۱۰۲ ہے: ان دونوں حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ “حلالہ کرنے والے مرد “اور “جس کے لیے عورت کو حلال کیا جاے “دونوں پر رسول اللہ نے لعنت فرمائی ہے….. اس حدیث سے بعض علما نے یہ سمجھا ہے کہ “حلالہ “کا عمل حرام ہے اور اس نیت سے جو نکاح ہوتا ہے، وہ درست ہی نہیں ہوتا، نتیجتاً عورت اپنے سابق شوہر کے لیے حلال نہیں ہوپاتی… احناف کے یہاں حلالہ کی نیت سے جو بھی نکاح ہو، اس سے عورت حلال ہوجاتی ہے، لیکن حلال ہونے کے لیے نئے شوہر سے جسمانی تعلق (جماع) شرط ہے اس کے بغیر عورت حلال نہیں ہوگی۔
یہاں تفریح طبع کے لیے ایک لطیفہ سنانا دل چسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ ایک مرد نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ۔ پھر پریشان ہوا ۔ اپنے کسی جان کار دوست سے مسئلہ معلوم کیا تو دوست نے کہا: حلالہ کرانا پڑے گا۔اس کے علاوہ کوئی شکل نہیں۔تو وہ کہتا ہے کہ: کوئی بات نہیں، بکرا آٹھ دس ہزار سے زیادہ کا تھوڑی آئے گا!! میں تیار ہوں! دوست کو ہنسی چھوٹ گئی۔۔پھر اسے حقیقت بتائی گئی تو کانپ گیا۔
اب دیکھیے! حلالہ کی چار شکلیں ہیں: پہلی شکل:- کوئی شخص مطلقہ مغلظہ ( وہ عورت، جسے تین طلاقیں پڑ چکی ہوں ) کو، یا اس کے شوہر کو، یا دونوں کو پریشان دیکھ کر ذہن میں پلان بنائے، جس سے نہ پہلا شوہر واقف ہو، نہ عورت اور وہ اس عورت سے نکاح کرے، پھر جماع کرنے کے بعد طلاق دے دے تاکہ وہ عدت کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے، یہ صورت نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ بعض اکابر سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
دوسری شکل:- کسی مرد نے خالی الذہن ہوکر مطلقہ مغلظہ سے نکاح کیا ۔ اتفاق سے میاں بیوی میں نباہ نہ ہوسکا۔ مرد نے صحبت کرنے کے بعد طلاق دے دی، یا اس کا انتقال ہوگیا، تو عورت عدت کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہے اور اس صورت میں بھی کوئی قباحت نہیں ۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی بھی لعنت کا مستحق نہیں ہوگا، نہ محلل اور نہ محلل لہ۔
تیسری شکل:- زیر زمین اسکیم تیار کی گئی، جس کے مطابق صحبت کر کے طلاق دے دی، تاکہ وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے ۔ حدیث میں اس صورت کا ذکر ہے ۔ نبی کریم علیہ السلام نے دونوں شوہروں پر لعنت بھیجی ہے۔ ایک حدیث میں دوسرے شوہر کو’’مستعار بکرا ‘‘کہا گیا ہے۔ یہ صورت نہایت مکروہ اور گناہ کبیرہ ہے۔ لیکن یہ طریقہ حرام ہونے کے باوجود عورت اپنے سابق شوہر کے لیے حلال ہوجائےگی ۔ چاروں ائمہ یہی کہتے ہیں۔ غیرمقلدین کے نزدیک اس صورت میں عورت حلال نہیں ہو سکتی۔
چوتھی شکل:- تحلیل کی شرط کے ساتھ ایجاب و قبول کیا جائے، مثلاً: یہ کہا جائے کہ یہ عورت تحلیل کے لیے تمہارے نکاح میں دی جاتی ہے، یا یہ عورت تمہارے نکاح میں اس شرط کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ صحبت کرکے تم اس کو طلاق دے دو ۔ مرد نے قبول کیا اور اس طرح شادی کر کے طلاق دے دی۔ اس صورت میں اختلاف ہے کہ عورت حلال ہوگی یا نہیں؟ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ شرط باطل ہے اور نکاح ہمیشہ کے لیے ہوگیا، لہذا طلاق کے بعد عورت حلال ہوجائےگی۔ البتہ یہ عمل گناہِ کبیرہ ہے، ازروئے حدیث دونوں شوہر، عورت اور شرکائے مجلس لعنت کے مستحق ہوں گے۔ دوسرے اماموں کے نزدیک اس صورت میں چوں کہ نکاح ہی درست نہیں ہوا، اس لیے عورت حلال بھی نہیں ہوگی۔ ( یہ چاروں شکلیں حضرت الاستاذ مفتی سعید صاحب پالن پوری مدظلہ کی کتاب: تحفۃ الالمعی /ج ۳، ص ۵۴۷.۵۴۸ سے ماخوذ ہیں ) اس پوری تقریر سے یہ بات سامنے آئی کہ ’’لعنت والی حدیث ‘‘کا تعلق صرف آخری دو شکلوں سے ہے اور آج کل انہیں دو شکلوں میں سے ایک کو اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں شکلیں حرام اور ناجائز ہیں، مگر اس کے باوجود عورت حلال ہوجائے گی۔ ملک میں جتنے بھی ’’حلالہ سینٹر ‘‘قائم ہیں، سب کا تعلق انہی آخری دو شکلوں سے ہے۔ میں نے ممبئی کے بھنڈی بازار میں واقع ’’وزیربلڈنگ ‘‘ میں حلالہ سینٹر دیکھا ہے . اس سلسلے کا یہ واقعہ بھی پڑھے جانے کے قابل ہے۔ ایک عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں۔ وہ ایک’’مولی ساب‘‘ کے پاس گیا اور مسئلہ معلوم کیا تو یہی حلالہ کی صورت سامنے آئی۔ مرد نے کہا کہ حضرت! آپ ہی حلال کر دیجیے ۔’’مولی ساب‘‘ نے ہامی بھر لی۔ نکاح اس شرط کے ساتھ ہوگیا کہ کل صبح اسے طلاق دے دی جائے گی۔عورت خوب صورت تھی، مولی ساب نے دیکھا تو نیت بدل گئی۔ شب باشی ہوئی ۔صبح ہوئی تو شوہر آدھمکا کہ میری بیوی میرے حوالے کیجیے! مولی ساب نے کہا کہ یہ تیری بیوی کہاں سے ہوئی؟ یہ تو میری ہوگئی!! شرعی مسئلے کی رو سے میں اسے آخری زندگی تک اپنے پاس رکھنے کا مالک ہوں۔ میں طلاق نہیں دوں گا۔ تکرار ہوئی۔ بات بڑھی۔ شوہر’’ناکام و نامراد ‘‘چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد واپس آیا تو مولی ساب نے دیکھا کہ پانچ چھ کڑیل نوجوان بھی ساتھ ہیں اور سب لاٹھی شریف لیے ہوئے۔ پھروہی تکرار ہوئی۔ مولی ساب کی ایک ہی رٹ کہ طلاق نہیں دینی۔ شوہر سابق اور پانچوں نوجوانوں نے مولی ساب کی پھر جو مرمت کی، ساری شریعت بھول گئے اور طلاق دینی پڑگئی۔ یہ سچا واقعہ ہے، جس مولی ساب کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، میں اسے جانتا ہوں۔ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ حلالہ کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ۔ اگر شوہر نے تیسری طلاق بھی دے دی تو اب وہ اس شوہر کے لیے اسی وقت حلال ہوگی، جب عورت دوسرے مرد سے شادی کر لے۔ اور حدیث یہ ہے: عن عائشۃ قالت: جاءت امرأۃ رفاعۃ القرظی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالت:انی کنت عند رفاعۃ فطلقنی فبت طلاقی فتزوجت عبدالرحمن الزبیر وما معہ الا مثل ھدبۃ الثوب فقال: اتریدین ان ترجعی الی رفاعۃ؟ لا، حتی تذوقی عسیلتہ و یذوق عسیلتک(ترمذی شریف، حدیث نمبر ۱۱۰۰) مفہومِ حدیث: رفاعہ قرظی نامی صحابی نے اپنی عورت کو طلاق مغلظہ دی، بیوی نے دوسری جگہ نکاح کرلیا، مگر وہاں معاملہ ٹھیک نہیں تھا، چناں چہ اس نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں پہلے رفاعہ کے پاس تھی، اس نے میری طلاق کو قطعی کر دیا، یعنی مجھے تین طلاقیں دے دیں۔پھر میں نے عبدالرحمن بن الزبیر سے نکاح کیا، مگر اس کے پاس جو ہے کپڑے کے پھندنے کی مانند ہے۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ارادہ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم رفاعہ کی طرف لوٹنا چاہتی ہو؟ جب تک دوسرا شوہر تمہارا کچھ شہد نہ چکھے اور تم اس کا کچھ شہد نہ چکھو، پہلے شوہر کی طرف نہیں لوٹ سکتی۔ قرآن و حدیث میں حلالہ کا حکم موجود ہونے کے بعد حلالہ کی مشروعیت کا انکار کفر ہے۔ جو شخص یہ کہے کہ میں حلالہ کی کسی بھی صورت کو جائز نہیں مانتا، اس کے کفر میں شک نہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker