اسلامیاتفقہ وفتاویٰمضامین ومقالات

تین طلاق کے نفاذکی مخالفت!

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
جاہلیت کا قانون دوبارہ لاگو کرنے کی کوشش
مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری
مفتی واُستاذِ حدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد!
اسلام کی آمد سے قبل عورت نہایت مظلوم ومقہور تھی، جاہلیت کے معاشرے میں اس کی زندگی غلاموں سے بدتر تھی، اسے جاہلیت جدیدہ کی طرح صرف شہوت رانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اس کی حددرجہ بے وقعتی کی وجہ سے ہی کسی کے یہاں اگر لڑکی کی پیدائش کی خبر ملتی، تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا اورپورا گھر غم و اندوہ کے ماحول میں ڈوب جاتا تھا، اور اپنی فرضی عار منانے کے لئے اس کا سگا باپ بسا اوقات انتہائی شقاوت کا ثبوت دیتے ہوئے اسے زندہ در گور کردیتا تھا، اسی طرح کمزور لڑکیوں کی وراثت کے ہڑپنے کا رواج عام تھا اور معاشرہ میں اسے برا بھی نہ سمجھاجاتا تھا۔
استحصال کے اس شرم ناک دور میں ’’اسلام‘‘ صنف نازک کے لئے سایۂ رحمت بن کر نمودار ہوا اورپیغمبر اسلام، رحمت عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرہ کے اس کمزور طبقہ کو ظلم و جبر سے نجات دلوانے کے لئے جو عظیم انقلابی اقدامات فرمائے، مذاہب عالم کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے؛ چنانچہ :
 اسلام نے بچیوں کی خوش دلی سے پرورش کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں اخروی بشارتوں سے نوازا۔
 اسلام نے خواتین کی عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے صرف زبانی جمع خرچ نہیں کیا، (جیسا کہ آج کل کے نام نہاد مہذب لوگوں کا وطیرہ ہے) بلکہ اس کے لئے ایسے پختہ انتظامات کئے کہ آج اگر ان پر عمل ہوجائے تو کسی عورت کی عزت پرادنیٰ سی آنچ بھی نہ آنے پائے، یہ نظام اتنا مؤثر ہے کہ اسلام کے دشمن بھی اس پختہ نظام کا اعتراف کرنے پر مجبور رہیں؛ حتی کہ ہمارے ملک میں بھی غیروں کی طرف سے عورتوں کی حفاظت کے حوالہ سے اسلام کے تعزیری نظام کے نفاذ کی باتیں اٹھتی رہتی ہیں۔
 اسلام نے بالغہ عورت کی اجازت اور مرضی کے بغیر نکاح کو ممنوع قرار دیا۔
 اسلام نے نکاح میںمہر کو ضروری قرار دیا، جو سراسر عورت کا حق ہے۔
 اسلام نے بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے کو سب سے اچھا انسان قرار دیا۔
 اسلام نے متعدد بیویوں کے درمیان مکمل عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا اور ناانصافی کرنے والوں کے لئے سخت وعیدیں سنائیں اور جو لوگ عدل پر قدرت نہ رکھیںان کے لئے صرف ایک بیوی رکھنے کی تلقین کی۔
 اسلام نے بلا وجہ طلاق دینے کو نہایت ناپسند قرار دیا، اور بدرجۂ مجبوری طلاق دینے کے لئے ایسا تدریجی نظام مقرر کیا، جس کو اپنا نے سے بگڑی ہوئی معاشرتی زندگی بآسانی سنور سکتی ہے۔
 اسلام نے ضرورت کے وقت عورت کو خلع لینے کی اجازت عطا کی۔
 اسلام نے زمانۂ جاہلیت میں رائج ہر ایسے ریت ورواج کو منسوخ کردیا، جس سے عورت معلقہ بن رہ جاتی تھی اور ایلاء اور ظہار کے مروجہ تصورات میں ایسی مناسب اصلاحات کیں، جن سے عورتوں پر ظلم کا دروازہ بند کردیا گیا۔
 اسلام نے سات سال تک چھوٹے بچوں اور بالغ ہونے تک بچیوں کی پرورش کا حق ماں کو دیا تاکہ ماں کی ممتا کو سکون ملے۔
 اسلام نے عورت کو وراثت میں باقاعدہ حصہ داری عطا کی اور ہر طرح کے متروکہ مال میں خواہ وہ نقد کی صورت میں ہو یا جائداد (سکنائی و صحرائی) کی شکل میں ہو، ان سب میں ماں، بیٹی، بہن اوربیوی کے لئے معقول حصے متعین کئے، جن کی نظیر اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔
یہ چند اشارات ہیں جن سے صنف نازک کے بارے میں اسلام کی عادلانہ سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
نکاح محض وقتی معاہدہ نہیں
اسلام کی نظر میں نکاح کوئی وقتی اور محدود معاہدہ کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایسا پختہ عقد ہے جس کا تا دیر قائم رکھنا شریعت میں مطلوب اور پسندیدہ ہے؛ اسی لئے رشتہ ناطہ میں کفاء ت یعنی دونوں خاندانوں میں برابری کو پیش نظر رکھا گیا ہے، تاکہ آپس میں نبھاؤ کے امکانات زیادہ سے زیادہ پائے جاسکیں، گویاکہ اسلام کی نظر میں منکوحہ بیوی محض خادمہ یا باندی کی حیثیت سے نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ شریک زندگی قرار پاتی ہے، اِسی لئے قرآنِ پاک میں بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد خداوندی ہے:
{وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} [النساء، جزء آیت: ۲۲۸]
(ان بیویوں کے ساتھ اچھی طرح معاشرت اختیار کرو) نیز ارشاد باری ہے:
{وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۲۸]
(اور بیویوں کا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح بیویوں پر شوہروں کا حق ہے معروف طریقہ پر)
نیز احادیثِ شریفہ میں بھی جا بجا بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اُن کے حقوق ادا کرنے کی تاکید ووصیت کی گئی ہے، اِن آیات واَحادیث کے ہوتے ہوئے کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ اسلامی قوانین عورتوں کے حقوق کی پامالی پر مشتمل ہیں۔
طلاق کی ضرورت
اِسلام کی نظر میں طلاق اگرچہ ایک ناگوار اور ناپسندیدہ عمل ہے؛ لیکن کبھی کبھی متعدد اسباب کی وجہ سے طلاق معاشرہ کی ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ مثلاً:
الف:- بدخلقی کی وجہ سے آپس میں نبھاؤ نہ ہوپانا۔
ب:- مالی تنگی کی وجہ سے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی پیش آنا۔
ج:- یا زوجین میں کسی اور وجہ سے بے اعتمادی پیدا ہوجانا۔
اب اگر طلاق کی بالکل ممانعت کردی جاتی تو یہ نکاح دونوں کے لئے سخت فتنہ اور پریشانی کا سبب بن جاتا، اس لئے شریعت اسلامی نے ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے بوقت ضرورت طلاق کی گنجائش دی ہے؛ لیکن بلاضرورت طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے؛ بلکہ اسے ناپسند قرار دیا گیا ہے۔ چناںچہ ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ کے نزدیک حلال باتوں میں سب سے زیادہ ناپسند بات طلاق ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ شریف حدیث: ۳۲۸۰)
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو عورت بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘۔ (ابوداؤد شریف ۱؍۳۰۳، تفسیر ابن کثیر مکمل ۱۸۳، سنن ابی داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶،مشکاۃ المصابیح رقم: ۳۲۸۰، حجۃ اللّٰہ البالغۃ مع رحمۃ اللّٰہ الواسعۃ ۵؍۱۴۰)
طلاق کو تین میں محدود رکھنے کی حکمت
زمانۂ جاہلیت میں اور اسلام کے شروع زمانہ میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دسیوں طلاق دے دیتا تو بھی عدت کے اندر اندر اسے بہرحال رجعت کا حق حاصل رہتا تھا، جس کی وجہ سے بسا اَوقات عورت کی زندگی اجیرن بن جاتی تھی۔ چناںچہ ایک واقعہ اِس طرح کا پیش آیا کہ ایک صاحب اپنی بیوی پر ناراض ہوگئے اور اُس سے یہ کہہ دیا کہ ’’نہ تو میں تجھے رکھوںگا اور نہ ہی تجھے الگ ہونے دوںگا‘‘، بیوی نے پوچھا کہ ’’وہ کس طرح؟‘‘ تو اُن صاحب نے کہا کہ تجھے طلاق دوںگا اور جب تیری عدت پوری ہونے لگے گی تو رجوع کرلوںگا اور بار بار ایسا ہی کرتا رہوںگا، تو اُس عورت نے آکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی بات کا ذکر کیا، اِس پر قرآنِ کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: {اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ} (طلاقِ رجعی دو بار تک ہے، اُس کے بعد دستور کے موافق رکھ لینا ہے یا خوش اُسلوبی سے چھوڑدینا ہے) (تفسیر ابن کثیر مکمل ۱۸۲)
اِس آیت نے عورت کے استحصال کے ایک دروازے کو بند کردیا، اور تاکید کردی گئی کہ شوہر کو چاہئے کہ یا تو اچھی طرح بیوی کو رکھے یا پھر خوش اُسلوبی سے اسے چھوڑدے، اَدھر میں لٹکاکر رکھنا اور تنگ کرکے اُس کی عمر کو برباد کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے؛ البتہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجعت کا حق دیا گیا؛ تاکہ آدمی اگر چاہے تو اپنے نقصان کی تلافی کرسکے، اورتین کے بعد رجعت بغیر حلالہ کے ممنوع قرار دی گئی؛ تاکہ لوگ طلاق کو مذاق نہ بنالیں۔ (حجۃ اللہ البالغۃ مع شرحہ رحمۃ اللّٰہ الواسعۃ ۵؍۱۴۷)
طلاق کا اختیار مرد کو کیوں دیا گیا؟
شریعت اسلامی میں اگر چہ معاشرت کے اعتبار سے مرد وعورت کے حقوق برابر ہیں؛ لیکن ان کے درمیان چونکہ فطری ساخت کے اعتبار سے فرق ہے؛اِسی لئے شریعت نے نہ تو عورتوں پر کمانے کا بوجھ ڈالاہے اور نہ اُن کو طلاق کے اختیار میں مرد کے ساتھ برابر کا شریک بنایاہے؛ کیوںکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر عورت کو طلاق کا کلی اختیار مل جائے تو اکثر نکاح پائے دار نہیں رہ پائیںگے؛ اس لئے کہ جہاں بھی تھوڑی بہت ناچاقی ہوگی بیوی طلاق دے کر گھر چھوڑ کر چلی جائے گی۔
اسی طرح اگر طلاق کے وقوع کے لئے بیوی کی رضا مندی کو شرط قرار دیا جائے گا تو طلاق کا منشا ہی فوت ہوجائے گا؛ کیوںکہ طلاق کا منشا یہ ہے کہ دل نہ ملنے کی وجہ سے تنگ زندگی سے نجات حاصل کی جائے، اب اگر بہرصورت بیوی کی اجازت طلاق میں مشروط ہوگی تو بسا اوقات شوہر حالات کی وجہ سے طلاق دینا چاہے گا اورعورت طلاق پر آمادہ نہ ہوگی، توایسی صورت میں شوہر کو جس ضیق کی کیفیت سے گزرنا ہوگا اُس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا؛ اس لئے شریعت نے کامل دور اندیشی اور مرد وعورت میں فطری فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس معاملہ میں مرد کو عورت پر ایک گونہ فوقیت عطا کی ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: {وَلِلرِّجَالِ عَلَیٖہِنَّ دَرَجَۃٌ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۲۸] یعنی مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔
غور کیا جائے تو یہاںعقلاً تین صورتیں ہوسکتی ہیں:
(۱) میاں بیوی کے اختیارات میں برابری:- تو ایسی صورت میں نظام ہی قائم نہیں رہ سکتا؛ کیوںکہ یکساں اختیارات کی دو متوازی شخصیتیں کسی نظام کو خوبی کے ساتھ چلا نہیں سکتیں، یہ فطرت کے خلاف ہے۔
(۲) عورت کے اختیارات کا زیادہ ہونا:- تو عورت کی طرف سے صنفی کمزوری کی وجہ سے اختیارات کے غلط استعمال کا امکان زیادہ رہتا ہے، جو بالکل واقعی ہے، اس کے لئے کسی الگ دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
(۳) مردوں کو عورتوں پر فوقیت:- یعنی اِنتظامی اعتبار سے مرد کو عورت پر فوقیت دی جائے اور اُسے ’’قوام‘‘ یعنی ذمہ دار بنایا جائے۔ اِسی کی تائید قرآنِ کریم میں اِن اَلفاظ میں کی گئی ہے: {اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَا اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ} [النساء، جزء آیت: ۳۴] (مرد عورتوں پر حاکم ہیں اِس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی ہے، اور اِس لئے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں) گویاکہ کفیل ہونے کے اعتبار سے بھی اُن کا درجہ بڑھا ہوا ہے، جو بالکل معقول ہے۔
غور کیا جائے تو یہی آخری صورت عملاً قابل عمل اور انجام کے اعتبار سے خیر اور بہتر ہے؛ اِس لئے کہ مرد بالعموم عورت کے مقابلہ میں بہرحال زیاہ سوجھ بوجھ رکھتا ہے، اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے۔
اور بعض مردوں کے غلط فیصلوں کی بنا پر یہ اصول ٹوٹ نہیں سکتا، اس لئے کہ اصل اعتبار غالب اوراکثر کا ہوتا ہے۔ اور واقعۃً صنفی حیثیت سے مردوں میں صبر وتحمل اور بصیرت کی استعداد عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ رکھی گئی ہے، اور اس قدرتی اختلاف میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمت بالغہ کی کاریگری کار فرما ہے۔
لیکن ساتھ میں مردوں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ طلاق حلال باتوں میں اﷲ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے؛ اس لئے مردوں کو ذمہ داری ہے کہ صبر وتحمل سے کام لیں اور طلاق کے اختیار کو صرف ناگزیر حالات ہی میں شریعت کے بنائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہی استعمال کریں؛ کیوںکہ بلاوجہ اور غیرشرعی طریقہ پر طلاق دینے کے جو مفاسد ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔
یہاں یہ واضح رہنا چاہئے کہ بعض ناواقف لوگ ایسا تأثر دیتے ہیں کہ طلاق دینے میں ہمیشہ مرد ہی قصور وار ہوتا ہے؛ حالاںکہ یہ بات حقیقت اور مشاہدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے سامنے دارالافتاء اور محکمہ شرعیہ میں بہت سے ایسے مسائل آتے رہتے ہیں، جن میں شوہر طلاق دینا نہیں چاہتا جب کہ لڑکی والے طلاق لینے پر مصر رہتے ہیں، اور بعض مرتبہ قصور بھی لڑکی اور اُس کے گھر والوں کی طرف سے ہوتا ہے؛ اِس لئے اِس پہلو کو نظر انداز کرکے سارا قصور مردوں پر ڈالنا انصاف کے خلاف ہے۔
بعض مضامین اور بیانات میں طلاق پر سزا دینے کا قانون بنانے کی تجویزیں سامنے آئی ہیں؛ لیکن غور کیا جائے تو یہ تجویزیںنا قابلِ عمل ہیں؛کیوں کہ ہر طلاق دینے والا ناحق نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ جو ناحق طلاق دے اُس پر سزا جاری ہوگی، تو نا حق ہونے کا فیصلہ کرنا سخت مشکل ہے؛ اِس لئے کہ ہر طلاق دینے والا ایسے اعذار پیش کرسکتا ہے جو اُسے ناحق کے بجائے حق ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں۔
غلط فہمی کا ازالہ
ہمارے بہت سے عوام و خواص (جن میں سو ء اتفاق وزیر اعظم صاحب بھی شامل ہیں) کویہ غلط فہمی ہورہی ہے کہ طلاق ہر حالت میں عورت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے؛ حالاںکہ یہ مفروضہ قطعاً غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلاق کے بارے میں کئی طرح کی صورتِ حال پیش آتی ہے، مثلاً:
(۱) کبھی مردوعورت دونوں طلاق چاہتے ہیں۔
(۲) کبھی مرد طلاق دے کر عورت کو الگ کرنا چاہتا ہے، مگر عورت نہیں چاہتی۔
(۳) کبھی عورت طلاق لینا چاہتی ہیں، مگر مرد طلاق پر راضی نہیں ہوتا۔
اِس میں پہلی صورت تو بحث سے خارج ہے؛ کیوںکہ اِس میں نزاع ہی نہیں۔ اَب اگر دوسری صورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بالفرض تین طلاق کو کا لعدم قرار دینے کا قانون بنادیا جائے، تو مذکورہ بالا تیسری صورت میں طلاق چاہنے والی عورتوں پر اس کے کیا منفی اثرات پڑیں گے، اس کا ان خواتین کے نام نہاد ہمدردوں کو شاید اندازہ نہیں ہے؛ کیوں کہ جب قانون بنے گا تو وہ عام ہوگا، اور ظالم مرد بار بار طلاق دینے کے باوجود ایسی بیوی کو چھوڑ نے پر تیار نہ ہوگا اور بالکل زمانۂ جاہلیت والی صورت لوٹ آئے گی، جس کو قرآن کریم نے آکر ختم کیا تھا، جسے مسلمان ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔
میڈیا کے ذریعہ تصویر کا صرف ایک رخ دیکھ کر مسلمان ماؤں اور بہنوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچانے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ ایسی عورتوں کی مشکلات کا آپ کے پاس کیا حل ہے؟ کیا آپ تین طلاق کو کالعدم کرنے کا قانون بناکر طلاق کے باوجود ایسی عورتوں کو زبردستی نالائق شوہروں کے ساتھ رہنے پر قانوناً مجبور کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ صریح ظلم نہیں ہے؟
اور رہ گئی یہ بات کہ جو نادان شوہر فون یا واٹس اَیپ کے ذریعہ تین طلاق دے کر فوراً رشتہ ختم کردیتے ہیں، اُن پر روک ٹوک کیسے ہو؟ تو اِس مشکل کا واحد حل یہی ہے کہ مسلم معاشرے میں دینی بیداری پیدا کی جائے اور معاشرے سے تین طلاق کے چلن کو ختم کرنے پر بھرپور محنت کی جائے۔ اِس سلسلہ میں علماء، ائمہ مساجد، برادری کے معزز افراد اور وکلاء حضرات مؤثر کردار اَدا کرسکتے ہیں۔ اِس وقت ملی اتحاد کے ساتھ اِس موضوع پر جس طرح بحثیں چل رہی ہیں، اُن میں اِس پہلو کو خوب اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے؛ تاکہ تین طلاق دینے کی جسارت نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تازندگی دین پر استقامت عطا فرمائیں، اور آزمائشوں سے محفوظ رکھیں، آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔
(بصیرت فیچرس)
[email protected]

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker