زبان وادبشعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

دل بڑی چیز ہے

تعارف و تبصرہ
نام کتاب : دل بڑی چیز ہے
مرتب : مفتی محمد تنویر عالم سبیلی
تبصرہ نگار : محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری (ایم، اے: اردو، عربی، 98490 85328)
…………………………………………………
’’دل بڑی چیز ہے‘‘۔ ہاں! یقینا دل بڑی چیز ہے، جسم انسانی پر اسی کی حکمرانی ہے، سارے اعضا میں اسی کو مرکزیت ہے، دیکھنے میں چھوٹا سا پرزہ ہے؛ لیکن اسی پر زندگی کا انحصار و دار و مدار ہے، وہ چوبیس گھنٹے حرکت میں رہتا ہے، اسے آبگینہ کی طرح سنبھال کر رکھنا ہوتا ہے، اس کے بغیر جسم ایک بے جان شئے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، تب ہی تو ڈاکٹر فاروق شکیل نے دل کی اہمیت کو اپنے ایک شعر میں یوں ظاہر کیا ہے:
بدن کی سلطنت قائم ہے د ل کی حکمرانی سے
بدن ورنہ کھنڈر ہوتا اگر ایک دل نہیں ہوتا
اور کلیم عاجز نے یوں کہا:
دل بڑی چیز ہے، دل کو کریں جھک کر سلام
یہ خدا کے سوا ہے، ساری خدائی کا امام
’’دل‘‘کے موضوع پر علما، حکما، ادبا اور شعرا نے نثر و نظم میں بہت کچھ لکھا ہے، خاص طور پر شعر و سخن کی دنیا کے لیے ’’دل‘‘تو شاعری کا دل ہے۔ قدیم و جدید ہر شاعر نے ’’دل‘‘ کو موضوع سخن بنایا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ ترین کتاب ’’دل بڑی چیز ہے‘‘ہے، جو ’’دل‘‘ کے موضوع پر کہے گئے اشعار کا بہترین مجموعہ ہے، جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے قدیم و جدید شعرا کے معتدبہ اشعار جمع کیے گئے ہیں، جن کی تعداد:۱۲۶۲ہے، اس بات کا بھی تقریباً پورا خیال رکھاگیا ہے کہ ہر منتخب شعر میں لفظ ’’دل‘‘بھی مذکور ہو۔
کتاب کے مرتب مفتی محمد تنویر عالم سبیلی ہیں، جن کے نام کے سابقہ و لاحقہ سے ان کی علمی صلاحیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، مزید برآں موصوف نے اردو و عربی زبان میں ایم، اے کیا ہے، اور بی ایڈ کورس کی بھی تکمیل کی ہے۔ مزید کورسز کی تکمیل اور ڈگریوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اپنی دیگر متنوع سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، بنیادی طور پر جنوبی ہند کے مشہور و معروف ادارہ جامعہ اسلامیہ دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد میں درس و تدریس سے منسلک ہیں، دیکھنے میں انتہائی سیدھے سادے؛ لیکن تصنیفی و تالیفی ذوق رکھتے ہیں اور علمی افادہ و استفادہ کا مزاج بھی ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب موصوف کی پہلی علمی کاوش ہے، جو زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے، جسے انہوں نے ’’علمی نقوش:۱‘‘کے تحت شائع کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے کے تحت جلد ہی مزید کتابیں آنے والی ہیں، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔
کتاب کی سنہ اشاعت۲۰۱۶ء مطابق ۱۴۳۷ھ ہے، کل صفحات:۱۵۲ ہیں، اور کل اشعار۱۲۶۲، جو نمبر شمار اور حروف تہجی کی ترتیب سے درج کیے گئے ہیں۔ کس حرف کے تحت کتنے اشعار مذکور ہیں، اس کی بھی وضاحت فہرست میں کردی گئی ہے۔ چند اشعار کو مستثنیٰ کر کے ، تقریباً تمام ہی اشعار کے شعرا کے نام بھی مذکور ہیں۔ جن میں قدیم و جدید ہر طرح کے شعرا کے اشعا ر ہیں۔ کسی چیز کا انتخاب انسان کے ذوق کا پتہ دیتا ہے اور یہ ایک دشوار گزار کام ہے، تاہم ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرتب کتاب اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب ہیں اور انہوں نے اپنے عمدہ ذوق کا ثبوت دیا ہے۔ صفحہ:۹ سے اشعار کا آغاز ہے، اس سے پہلے سب ٹائٹل، جملہ حقوق محفوظ،انتساب، فہرست عناوین اور مرتب کتاب کے علاوہ چار دیگر اہل علم کی ایک ایک صفحہ کی تحریریں ہیں، جو کتاب کی اہمیت و افادیت کو بتاتی ہیں۔ یہ کتاب بیت بازی کے لیے زیادہ مفید ہے، غالباً مرتب کے پیش نظر بھی اصلاً یہی بات ہے، تب ہی تو انہوں نے ٹائٹل اور سب ٹائٹل پیج پر’’آسان بیت بازی‘‘لکھا ہے۔ سر ورق عمدہ ہے، آخری صفحہ کے نصف اول میں علامہ اقبال کی نظم ’’قصہ دار ورسن بازیٔ طفلانۂ دل‘‘مذکور ہے اورنصف ثانی میں محمد عبد المنان صدیقی سبیلی صاحب کی تین کتا بوں کا اشتہار ہے۔ کتاب کا کاغذ بھی اچھا استعمال کیا گیا ہے، پروف کی غلطیاں بھی نہیں کے درجے میں ہیں، ایسا لگتا ہے کہ متعدد بار سنجیدگی سے پروف کیا گیا ہے۔
کتاب کے مزید تعارف کے لیے کتاب ہی سے دو تحریریں پیش کرنا نہایت ہی موزوں معلوم ہوتا ہے۔ مرتب کتاب سب ٹائٹل پر کتا ب کے نام کے بعد یوں رقم طراز ہیں: ’’دل سے متعلق ایک ہزار سے زائد نادر، نایاب اور کم یاب اشعار کا حسین گلدستہ اصحاب علم و قلم اور تشنگان علم و ادب کے لیے قیمتی اور بیش بہا تحفہ‘‘(ص:۱)۔ ایک دوسری جگہ ’’دل کی بات‘‘ کے تحت یوں لکھتے ہیں: ’’واضح رہے کہ یہ دل آویز اشعار کا دستاویزی مجموعہ دل سے متعلق اشعار پرمشتمل ہے، اس میں ممتاز شعرا کے اشعار مجموعی طور پر پر لطف ہونے کے ساتھ معنی خیز اور فکر انگیز ہیں، ان اشعار میں دل کی شمع ہر رنگ میں جلتی نظر آتی ہے، یہ اشعار حروف تہجی کی ترتیب پر جمع کیے گئے ہیں، جس سے ا س مجموعہ کی دل کشی اور رعنائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے، وہ تمام اصحاب ذوق جو دل کی کیفیات، الٹ پھیر اور اس کے مختلف جلووں سے آشنا ہیں اور اپنے دل کی حفاظت تعلق مع اللہ، نیز اپنی زبان میں سلاست و روانی اور زور گفتار پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان تمام احباب کے لیے اہم سوغات ہے‘‘(ص:۸)۔
بطور نمونہ اس کتاب سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ، جن میں انسان پر تعجب بھی ہے کہ اس نے دل میں کیا کیا سما رکھا ہے اور آخرت کی تذکیر بھی، دل کو یاد الہی سے معمور رکھنے کی تعلیم بھی ہے اور اس کی نیرنگیٔ کیفیات کا ذکر بھی ،اور ایک اچھوتے انداز میں دل کی بے حسی کا بیان بھی ۔ شعر سے پہلے نمبر شمار ہے، اور شعر کے بعد شاعر کا نام ہے:
(۱۴۲) بد ظنی دل میں، حسد دل میں، تمنا دل میں٭ بے وقوف شوق سے بھر لیتے ہیں کیا کیا دل میں(صفی اورنگ آبادی)
(۴۳۶) دل کو سکون روح کو آرام آگیا٭ موت آگئی کہ دوست کا پیغام آگیا (جگر مرادآبادی)
(۴۸۴) دل میں خدا کا خوف نہیں ہے تو کچھ نہیں ٭یہ بات ہر کسی کو بتاتے ہوئے چلو (ماہر القادری)
(۷۶۷) عاشق ہوا، اسیر ہوا، مبتلا ہوا٭کیا جانیے کہ دیکھتے ہی دل کو کیا ہوا (میر سوز)
(۱۰۷۷) نہ حوصلہ، نہ تمنا، نہ ولولہ، نہ امنگ٭یہ بے حسی نہیں اے دل! تو بے حسی کیا ہے؟ (اثر لکھنوی)
کتاب مجموعی اعتبار سے خصوصاًطلبہ و طالبات کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے، دیگر افراد کو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ د ل تو ہر انسان کے پاس ہے، اپنے دل و دماغ کو حاضر رکھتے ہوئے، د ل کے موضوع پر جمع کیے گئے دل چسپ اشعار کو پڑھیے اور دل کی دنیا میں دلی کیفیات کی تبدیلی کے ساتھ سیر کیجیے، پھر آپ خود محسوس کریں گے کہ اشعار پڑھتے اور گنگناتے ہوئے کبھی دل پھڑکتا ہے تو کبھی دل روشن ہوتا ہے، کبھی دل کے اندر ساز کی کیفیت ہوتی ہے تو کبھی سوز کی اور نہ جانے د ل کے ساتھ ذہن و دماغ بھی تخیلات کی کس کس وادی میں سیر کرتے ہوئے نظر آئیں گے، پڑھیے، استفادہ کیجیے اور لطف اندوز ہوئیے ۔ اس پہلی تالیفی علمی کاوش پر برادرم مفتی محمد تنویر عالم سبیلی کو دل کی گہرائیوں سے بھر پور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
کتاب کی قیمت/۹۹روپے ہے، ناشر : دار العلوم سبیل السلام، حیدرآبادہے۔ملنے کے مختلف پتے دیے گئے ہیں؛ جن میں حیدر آباد کے مشہور و معروف مکتبوں میں ہندوستان پیپر ایمپوریم، چار مینار، دکن ٹریڈرس، چار میناراور سنابل بکڈپو، مغل پورہ، کے نام ہیں۔ مرتب کتاب سے بھی اس نمبر پر ربط کیا جاسکتا ہے:9000215059۔
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker