ہندوستان

’حکومت کی پالیسیوں سے عوام پریشان،ہندو،مسلمان مسئلہ نہیں،فرقہ پرستی ملکی ترقی میں رکاوٹ‘

صدیوں سے ہندومسلمان ساتھ رہتے ہیں،انہیں لڑانے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی
مولاناارشدمدنی نے مذہبی امورمیں مداخلت کی کوششوں پرخبردارکیا،عوام سے اتحادکی فضاقائم کرنے کی اپیل
قومی یکجہتی کانفرنس میں گنگاجمنی تہذیب کے فروغ کااظہارِعزم،مختلف مذاہب ومسالک کے نمائندوں کی شرکت
سلطان پور12نومبر 
کئی دہائیوں کے بعدآج سلطان پورکے خورشیدکلب میدان میں جمیعۃ علماء کے زیرانتظام ایک کامیاب قومی یکجہتی کانفرنس کاانعقادہواجس میں مختلف مذاہب ومسالک کے نمائندوں ،مختلف اداروں کے ذمہ داران ،دانشوران ،وکلاء اورعوام کی بڑی تعدادنے شرکت کی اورفرقہ پرستی کے پنپ رہے ماحول کے خلاف متحدہوکررہنے کااظہارِعزم کیا۔انہوں نے اس عزم کااعادہ کیاکہ ہمیں مذہب وقوم اورمسلک کے نام پرلڑانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔ہم امن واتحادکی فضاقائم کریں گے اورمل جل کرملک کی تعمیروترقی میں حصہ داربنیں گے۔شرکاء نے قومی یکجہتی کانفرنس کے پیغام کوگھرگھرپہونچانے کی بھی اپیل کی ،انہوں نے فرقہ پرستی کی مسموم فضاکوختم کرکے اتحادویکجہتی جوملک کی خوبصورتی ہے ،کوبرقراررکھنے اوریگانگت کاماحول پیداکرنے پربھی زورددیا۔مقررین نے عوام کوخبردار کیاکہ کچھ لوگ الیکشن اوراپنے سیاسی مفادکیلئے مذہب کی بنیادپرلوگوں کوتقسیم کررہے ہیں ہرشہری کوعزم کرناچاہئے کہ ہم ان کوششوں کوناکام بنائیں گے اورمل جل کرگنگاجمنی تہذیب کوفروغ دیں گے۔کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے صدرجمیعۃ علمائے ہندمولاناسیدارشدمدنی نے جہاں مسلمانوں سے مسلم پرسنل لاء پرچلنے اوراپنی زندگی میں اسے داخل کرنے کی اپیل کی وہیں حکومت کوبھی خبردارکیاکہ وہ ہرگزمسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش نہ کرے۔اسلامی قانون قرآن وحدیث پرمبنی ہے۔دوسرے قوانین پرانہیں قیاس نہیں کیاجاسکتامسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن دین وشریعت میں مداخلت اورترمیم کی جوکوششیں ہورہی ہیں،ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔مولاناارشدمدنی نے مودی حکومت کے ذریعہ نوٹوں کی پابندی پربھی تنقیدکرتے ہوئے اسے نادرشاہی فرمان بتایااورواضح کیاکہ ملک بھرمیں عوام اس سے خاصاپریشان ہیں۔امیروں کوتوزیادہ فرق نہیں پڑرہاہے غریبوں کے چولہے نہیں جل رہے ہیں۔دن بھرمزدوری کرنے والے بینک کے چکرکاٹ رہے ہیں۔سرکارنے دودن میں اے ٹی ایم میں روپئے فراہم کرنے کابھی وعدہ کیاتھالیکن اے ٹی ایم خالی ہونے کی وجہ سے ایک ایک پیسہ کی مشکل ہورہی ہے۔مزدوراورکسان طبقہ رورہاہے۔دیہاتوں کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔شہروں کے دکان ٹھپ پڑے رہے ہیں۔مودی سرکارکوفیصلہ کرتے وقت عوامی مفادکوبھی ذہن میں رکھناچاہئے تھا۔مولانامدنی نے اپنے خطاب میں آپسی بھائی چارگی کے فروغ پرزوردیتے ہوئے اسے ملک کی ضرورت بتایا۔انہوں نے کہاکہ صدیوں سے ہندومسلمان آپس میں ایک ساتھ رہتے ہیں ،اورسب ایک ہی ماں باپ کی اولادہیں،سب بھائی بھائی ہیں،انہیں لڑایانہیں جاسکتا۔ملک میں ہندومسلمان کوئی مسئلہ نہیں ،اصل مسئلہ فرقہ پرستی ہے ۔پورے ملک میں فرقہ پرستی کی آگ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مرکزمیں برسرِاقتدارحکومت کی پالیسیوں سے پوراملک پریشان ہے۔انہیں مسلم خواتین کے حقوق کی خوب فکرہے لیکن جہاں طلاق اورعورتوں کوچھوڑدینے کی شرح سب سے زیادہ ہے وہاں کی ان کوفکرنہیں ہے۔یہ لوگ مسلم خواتین کے کبھی ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ان کی بدنیتی واضح ہے۔یہ ساراڈرامہ کچھ محض یوپی الیکشن کیلئے ہورہاہے اوراسلامی تعلیمات کوبدنام کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔مولانامدنی نے کہاکہ اسلام نے توچودہ سوسال قبل ہی عورتوں کووہ حقوق دیئے ہیں جوکسی بھی کلچراورمذہب میں نہیں ہیں۔جوحقوق مذہب اسلام نے دیئے ہیں اورجوعزت وقاراسلام نے بخشاہے ،پوری تاریخ وتہذیب اس سے خالی ہے۔اسلام سے زیادہ حقوق کوئی قانون نہیں دے سکتایہی وجہ کہ ملک کی ننانوے فیصدخواتین مسلم پرسنل لاء پرمطمئن ہیں۔یہ سراسرجھوٹ ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی چاہتی ہیں،بلکہ صرف چندخواتین کے ذریعہ اسلام کوبدنام کرنے کی راہ ڈھونڈھی گئی ہے۔صدرجمیعۃ علمائے ہندنے فرقہ پرست عناصرکوملک کی ترقی میں رکاوٹ بتایااورکہاکہ اگرحکومت ملک کی ترقی کے تئیں نیک نیت ہے تواسے سب سے پہلے ان عناصرپرپابندی لگانی چاہئے اورملک میں پنپ رہے فرقہ وارانہ ماحول کوختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔جمیعۃ علماء اترپردیش کے صدرمولانااشہدرشیدی نے اپنے خطاب میں مذہبی رواداری پرزوردیتے ہوئے اپیل کی کہ ہم اپنے اپنے علاقوں میں یکجہتی کی فضاقائم کریں۔تاکہ فسطائی طاقتوں کے ذریعہ جوماحول بنایاجارہاہے،اس پرقدغن لگ سکے۔یہ ملک کی سالمیت کیلئے ضروری ہے۔دھنی راؤبدھسٹ رہنمانے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ مودی کی پالیسی وطن کیلئے نقصاندہ ہے۔ مولاناحلیم اللہ قاسمی جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء مہاراشٹرنے ہندومسلم اتحادپرزوردیتے ہوئے کہاکہ بھائی چارگی کی فضاقائم کرکے ہم سب کومل جل کرملک کی ترقی کی کوشش کرنی چاہئے۔جمعیۃ کے ضلع جنرل سکریٹری مولاناسراج ہاشمی نے اپنے کلمات تشکرمیں علاقہ کی عوام اورمختلف مذاہب ومسالک کے نمائندوں کاشکریہ اداکیااورآئندہ بھی ساتھ رہ کراتحادویکجہتی کے فروغ کی کوشش جاری رکھنے کی اپیل کی۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جس طرح قومی یکجہتی کانفرنس کے انعقاداوراسے کامیاب بنانے میں تمام لوگوں کاتعاون رہا،اسی طرح آئندہ بھی ہم سب متحدہوکرملک کوتوڑنے والی طاقتوں کامقابلہ کریں گے اورامن وامان اورگنگاجمنی تہذیب کی روایت جوملک کے مفادمیں ہے،کوآگے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء کاتحفظ آئینی اورایمانی فریضہ ہے ،قرآن مجیداللہ کاقانون ہے جس میں کبھی بھی کوئی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔مولانانے فرقہ پرستی کے خاتمہ ،مسلم پرسنل لاء کے تحفظ اورقومی یکجہتی کے فروغ پرمختلف تجاویزبھی پیش کیں۔مولاناسراج ہاشمی نے مولانامحمدآصف اعظمی نے مشترکہ طورپرکانفرنس کی نظامت کی ۔کانفرنس کے دیگراہم شرکاء میں مولانامحمدصالح قاسمی،مولاناعبدالرب قاسمی،مولاناعثمان قاسمی،مولانامحمداکبر،حافظ اشرف،مولانامقبول قاسمی،مولاناقسیم قاسمی،حافظ عرفان فیض آباد،مفتی محبوب الرحمٰن ،حافظ برکت اللہ،انجینئرمحمداحمدفاروقی،مولاناابرارالحق فہمی،حاجی محرم علی،تقی خاں،مولانامرادقاسمی،مولاناطفیل قاسمی،مولاناسہیل احمد،مولاناالف فہمی،مولاناراشدسعیدقاسمی،مولاناعبدالرحمٰن،مولاناعبدالحق،مفتی عبدالرشید،مفتی ضمیراحمدنیزشہرکے عمائدین،وکلاء ،ڈاکٹرز،عصری واسلامی درسگاہوں کے ذمہ داران شریک رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker