جہان بصیرتخبردرخبرمضامین ومقالات

ادیب صاحب ،ضمیرکی آوازکوسنئے!

خبردرخبر:محمدشارب ضیاء رحمانی
فیچر ایڈیٹر بصیرت میڈیاگروپ
آج کے ایک کالم میں راجیہ سبھا کے سابق ایم پی محمدادیب صاحب نے بعنوان ’’نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن ‘‘لکھاہے کہ ’’جب ہم سیکولرسیاسی پارٹیوں کاجائزہ لیتے ہیں تو صرف دوہی پارٹیاں ہمیں ایسی دکھائی دیتی ہیں جنہوں نے کسی بھی حال میں فرقہ پرست پارٹیوں سے اقتدارحاصل کرنے کیلئے سمجھوتہ نہیں کیاہے۔ایک لالوپرسادیادکی پارٹی واوردوسرے ملائم سنگھ یادوکی پارٹی‘‘۔انہوں نے آگے دانشوران کوسرجوڑکربیٹھنے کی دعوت دی ہے جوبظاہرایک اچھامشورہ ہے لیکن بین السطوراورعبارت کے سیاق وسباق نیزوضاحت کے ساتھ ملائم کی چمچہ گیری سے صاف سمجھ میں آتاہے کہ وہ کس کی دلالی کررہے ہیں اورکس کے حق میں مشورہ دے رہے ہیں۔ان کااعتراف ہے کہ انہوں نے زندگی بھرمسلم پارٹی بنانے کی مخالفت کی۔ بلکہ یہی ادیب صاحب ہیں جنہوں نے بہارالیکشن کے وقت اویسی کے محدودسیٹوں پرالیکشن لڑنے کے اعلان کے باوجودانہیں خط لکھاتھا۔اوربہارالیکشن سے بازرہنے کامشورہ دیاتھا۔حیرت ہے کہ اس وقت بھی یہ بہی خواہ ملت اپنے سیاسی آقاملائم سنگھ یادوکوپورے بہارمیں الیکشن لڑنے سے روکنے کیلئے سامنے نہیں آئے۔اویسی کوخط لکھناان کی مجبوری رہی ہوگی اسی طرح ممکن ہے ملائم کومشورہ نہ دیناان کی ضرورت ہو۔ادیب صاحب کیایہ بتائیں گے کہ بہارالیکشن میں مہاگٹھ بندھن کوعین موقع پردھوکہ دینے والے اورپورے بہارمیں الیکشن لڑکراسے جزوی نقصان پہونچانے کی کوشش کرنے والے ملائم نے فرقہ پرستوں سے سمجھوتہ نہیں کیاتھا؟۔کیایہی سیکولرزم کی علمبرداری ہے۔ملائم کا’سیکولرزم‘ بہت کھل کرسامنے ہے ۔69برسوں سے اسی سیکولرزم بچانے کی فکرنے آج ہمیں اس حال پرچھوڑدیاہے کہ’’ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن ’’۔آپ سیکولرزم بچاتے رہئے،آپ کاکیاہے ،راجیہ سبھاکی لذت سے لطف اندوزبھی ہوچکے اوراب قبرمیں پائوں لٹک رہے ہیں لیکن نئی نسل کوگمراہ مت کیجئے!۔خدشہ اس بات کاتھاکہ یوپی الیکشن کے وقت کچھ چمچے سامنے آئیں گے اورمظفرنگرکے مجرم،خالدکی موت کے ملزم،ضیاء الحق اورتنزیل احمدکے قتل پرآنکھ بندکرنے والے اوردادری پردوہرے رویہ اپنانے والے ،گذشتہ اسمبلی الیکشن میں ریزرویشن کاوعدہ کرکے پھرجانے والے ملائم کی قصیدہ خوانی کرنے لگیں گے۔کیاآپ بتائیں گے کہ انہوں نے مسلمانوں سے کیاگیاکون ساوعدہ پوراکرلیا۔بلکہ وعدہ خلافی بھی کی۔ ابھی ایسے کئی اورلوگوں کاسامنے آناباقی ہے۔ضمیرفروشی کی حدہوگئی ۔خداراراجیہ سبھاکی ایک سیٹ یااپنے سیاسی مفادکیلئے ملت کواس طرح گمراہ مت کیجئے اورہمدردی کی آڑمیں چھپ کراس طرح سودامت کیجئے۔خداکے پاس جاکرحساب دیناہے۔کچھ توخیال کیجئے اوراپنے ضمیرکی آوزکوسنئے اگرضمیرہوتو۔
(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker