تاریخ و آثارشعر و ادبمضامین ومقالات

اسپین کی تہذیبی تاریخ کے دنیا پر نقوش

ڈاکٹر محمد سلمان خان ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر ممتاز پی جی کالج لکھنؤ
اندلسی مسلمانوں نے یورپ کو ایک نئی تہذیب سے متعارف کروایا۔ اِسلام کی آمد سے قبل یورپ میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر ختم نہ ہوتے تھے، سیوریج کا گندہ پانی گلیوں اور بازاروں میں ہر سُو بکھرا رہتا تھا، عموماً لوگ مہینہ بھر نہاتے نہ تھے اور کوئی ہفتے میں ایک آدھ بار نہا لے تو اُس کے مسلمان ہونے کا شک کیا جاتا تھا۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہ تھا۔ پورے یورپ میں ہسپتالوں کا وُجود ہی نہ تھا۔ خطرناک بیماریوں کا علاج جادُو، ٹونے اور عملیات کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ لوگ توہمات کے اِس قدر رسیا تھے کہ معالج کی بجائے عامل کی طرف رُجوع کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔ کھانے اور پہناوے میں نفاست کا فقدان تھا۔ علمی حالت سب سے بڑھ کر قابلِ رحم تھی۔ لاکھوں کی آبادی کے شہروں میں گنتی کے چند پادریوں کے سوا کوئی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا اور وہ پادری چمڑے پر لکھی پرانی کتابوں کو کھرچ کر اُنہی کے اُوپر نئی تحریریں لکھنا شروع کر دیتے تھے جس سے اُن کا بچا کھچا علمی سرمایہ بھی ضائع ہوتا چلا جا رہا تھا۔ تعلیم، علاج اور تہذیب و ثقافت غرض عملی زندگی کا ہر شعبہ قابلِ رحم حالت کو پہنچا ہوا تھا۔
مسلمانوں نے یورپ کو ایک فکرِ تازہ سے رُوشناس کیا۔ زندگی کے نئے اَسالیب عملی طور پر اُن کے سامنے رکھے اور دیکھتے ہی دیکھتے سپین کی زندگی کی کایا ہی پلٹ دی۔ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اِسلامی سپین یورپ بھر کے لئے رشکِ فلک بنا۔ دُنیا سپین کی ترقی اور تہذیب کی مثالیں دینے لگی۔ سپین نے جہاں علوم و فنون، صنعت و حرفت اور تجارت میں خوب ترقی کی وہاں تہذیب و ثقافت میں بھی قرونِ وُسطیٰ میں ہر طرف اُسی کا طوطی بولتا تھا۔
اِسلامی سپین کا کلچر عرب مسلمانوں ہی کا مرہونِ منّت تھا، جو ترکِ سکُونت کر کے یورپ میں جا آباد ہوئے تھے۔ وہ اِسلامی تہذیب کی خوشنما روایات بھی اپنے ساتھ یورپ لے گئے تھے، جس سے سپین کی سرزمین تہذیبی کمال کے عروج کو پہنچی۔
اِسلامی سپین کے دارُ الحکومت قرطبہ (Cordoba) کی آبادکاری کچھ اِس حسین انداز سے تھی کہ اُس کی سڑکوں، پلوں اور دیگر تعمیرات نے اُسے چار چاند لگا دیئے تھے۔ قرطبہ اپنی علمی و فنی سرگرمیوں اور صنعتی و تجارتی اہمیت کے باعث دُنیا میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ اندلس کے مسلمانوں نے خلفائے عباسیہ کی شان و شوکت اور پُرتکلف مہذّب زندگی کو بھی ماند کر دیا تھا۔ اندلس تہذیب و ثقافت اور فیشن میں دُنیا بھر میں ایک معیار کی حیثیت اِختیار کر چکا تھا اور دُنیا اُس کی مثالیں دیتے نہ تھکتی تھی۔ بڑے بڑے عالیشان محلات اور بنگلوں کے علاوہ بڑے شہروں میں میلوں تک پھلوں اور پھولوں کے باغات اُسے جنتِ ارضی کی صورت دے چکے تھے۔
مسلمانوں نے جہاں سپین کو تعمیرات سے آراستہ کیا وہاں اُسے تہذیبی اِرتقاء سے بھی منوّر کیا۔ سپین جہاں معاشرہ اَمن و امان کی ناقابلِ مثال صورت میں چین سے زندگی بسر کر رہا تھا، وہاں صنعت و حرفت اور تجارت کے فروغ نے شہریوں کو آسودہ حال کر دیا تھا۔ لوگ زیادہ سے زیادہ سرمایہ نئی صنعتوں میں لگانے لگے تھے۔ لوگوں کی قوتِ خرید بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ اعلیٰ لباس اور بہترین اَشیائے خورد و نوش پر بے دریغ رقم خرچ کرتے تھے۔ تہذیبی تکلّفات اُن کی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ آرائش و زیبائش پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ گھروں کے باہر لان بنانے اور اُن میں دُور دراز ممالک سے نایاب درخت منگوا کر لگانے کا رواج عام تھا۔ اکثر گھروں میں فوّارے اور حوض بھی بنائے جاتے تھے۔
عبدالرحمن الداخل کے دورِ حکومت میں جب سپین میں اِسلامی سلطنت کو اِستحکام نصیب ہوا تو اُس نے ملک کی تعمیر و تزئین کی طرف خاص توجہ دی۔ اُس نے تقریباً تمام بڑے شہروں میں جا بجا باغات، فوّاروں، پختہ گلیوں، سڑکوں اور دیدہ زیب عمارات کا جال بچھا دیا۔ گلی کوچے پختہ ہوتے اور اُن میں روشنی کا بخوبی اِنتظام حکومت کے خرچ سے ہوتا۔ شہروں میں سیورِیج کا بھی بہت اعلیٰ اِنتظام تھا۔ بلنسیہ (Valencia) کے بڑے گندے نالے پر پکی چھت تھی اور وہ اِتنا چوڑا تھا کہ ایک چھکڑا بآسانی اُس کے اُوپر چل سکتا تھا۔ عبدالرحمن اوّل ہی نے دریائے وادئ کبیر (Guadalimor River) اور دریائے شنیل (Genil River) کے کنارے آباد اکثر شہروں کو متعدّد نہریں کاٹ کر پانی بہم پہنچایا۔ غرناطہ کے باہر ایک عظیمُ الشان محل بنایا اور اُس کے اَطراف میں وسیع و عریض باغ لگایا ، جس کا نام ’رصّافہ‘ رکھا۔
عرب سے درخت منگوا کر اندلس کی سرزمین میں لگانے کا سلسلہ بھی عبدالرحمن اوّل ہی کے دَور سے جاری تھا۔ اُسی محل کے پائیں باغ میں اُس نے اپنے وطن دمشق سے کھجور کا ایک درخت منگوا کر لگایا جو اُسے اُس کے وطن کی یاد دِلاتا تھا۔ ایک روز کھجور کے اُس درخت کو دیکھ کر اُسے اپنا وطن اور اپنی بے سر و سامانی کی حالت یاد آ گئی جس پر اُس نے بڑے ہی پُر سوز اَشعار کہے۔ ’تاریخِ مقرّی‘ میں اُس کے وہ اَشعار محفوظ ہیں۔
حکیمُ الاُمت علامہ محمد اِقبالؒ نے بالِ جبریل میں اُن اَشعار کا مفہوم اور اپنے اِحساسات ایک نظم کی صورت میں یوں پیش کئے ہیں:
میری آنکھوں کا نور ہے تو
میرے دل کا سرُور ہے تو
اپنی وادی سے دُور ہوں میں
میرے لئے نخلِ طور ہے تو
مغرب کی ہوا نے تجھ کو پالا
صحرائے عرب کی حور ہے تو
پردیس میں ناصبور ہوں میں
پردیس میں ناصبور ہے تو
غربت کی ہوا میں بار وَر ہو
ساقی تیرا نمِ سحر ہو
عالم کا عجیب ہے نظارہ
دامانِ نگہ ہے پارہ پارہ
ہمت کو شناوری مبارک
پیدا نہیں بحر کا کنارہ
ہے سوزِ درُوں سے زندگانی
اُٹھتا نہیں خاک سے شرارہ
صبحِ غربت میں اور چمکا
ٹوٹا ہوا شام کا ستارہ
مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
اِسلامی سپین کے دُوسرے بہت سے مسلمان حکمرانوں نے بھی خطۂ عرب سے بہت سے نئے پھلدار درخت سپین میں متعارف کروائے اور جا بجا اُن کے باغات لگوائے۔ اُن میں سے کچھ باغات کی باقیات ابھی تک موجود ہیں۔
عبدالرحمن دوم کے دورِ حکومت میں ملک تہذیب کے عروجِ کمال کو جا پہنچا تھا۔ مشرقی و مغربی تہذیب کے سنگم سے ایک نئے اِمتزاج نے جنم لیا۔ موسیقی سے عبدالرحمن دوم کو خاص لگاؤ تھا ۔ اُس کے عہد میں اندلس میں موسیقی کے بڑے با کمال اساتذہ پیدا ہوئے جنہوں نے مشرق و مغرب کے دُور دراز ممالک سے بھی صاحبانِ ذوق سے خراجِ تحسین حاصل کیا۔ اِسلامی عہد کی صوفیانہ موسیقی اُس عہد میں اپنے کمال کو جا پہنچی اور بعد اَزاں اُس نے یورپ کی موسیقی پر بھی گہرے اَثرات مرتب کئے۔
(بصیرت فیچرس)
* پروگرام آرگنائزر اڑان ایکسپریس یوپی حلقہ
* ڈائرکٹر شخصیت سازی سینٹر لکھنؤ

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker