مضامین ومقالاتنوائے خلق

ایک خط اروند کیجریوال کے نام

اروند کیجریوال سے درخواست کہ وہ ادیبوں کے احتجاج میں کھل کر اپنا کردار ادا کریں
فرقہ واریت سے سلگتے ملک میں احتجاج کے لئے ریاستی حکومت
اور سیکولرپارٹیوں پر بھی دباؤ بڑھا یاجائے
محترم وزیراعلیٰ،
آپ اس ملک کے شہری ہیں اور اس لئے صرف دہلی حکومت تک آپ کی سیاسی حصہ داری کو محدود نہیں کیا جا سکتا— حکومت بنانے سے قبل آپ کے سیکولر کردار کی ایک دنیا گواہ رہی ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مرکزی حکومت نے ہر قدم پر آپ کو کام کرنے سے روکا۔ اور ایک ایسا دبائو بنانے کی کوشش کی کہ عوام کے درمیان عآپ کا منفی کردار سامنے آئے، در اصل مودی حکومت کے خطرناک رتھ کو روکنے کا جو کام آپ نے کیا، اُس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اور اسی لئے تلملائی ہوئی حکومت نے بہار انتخابات میں گائے سے فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ فسادات تک کا مہرہ چل دیا۔
محترم وزیر اعلیٰ، موجودہ ملک کی صورت حال کو دیکھیں تو سیکولر اقدار کو پامال کرنے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔ ہندوتو کے نام پر مودی حکومت نے سترہ مہینوں میں جو وحشیانہ کارڈ کھیلا، تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہندوستان کی تمام زبان اور ان زبانوں کے ادیبوں کے لئے اس ماحول میں جینا مشکل ہوگیا ہے۔ سلمان رشدی تک نے ادیبوں کے احتجاج کا خیر مقدم کیا ہے۔ مرکزی وزیر مہیش شرما کہتے ہیں کہ ادیب لکھنا چھوڑ دیں۔ ہم پھر غور کریں گے۔ ادیب سچ پر بھی قائم رہیں گے اور لکھنا بھی جاری رکھیں گے۔ بہتر ہوگا کہ مہیش شرما ہندوتو کی سیاست چھوڑ دیں اور ناپاک بیان بازی کا سلسلہ بند کریں۔ آزادی اظہار پر جو حملہ ہندو فاشسٹوں کی طرف سے اب ہو رہا ہے، وہ ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔
بہار انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ملک کہاں جا رہا ہے۔ ملک کے تمام ریاستوں پر قبضہ کر، آئین میں ترمیم کرکے مودی، ہندو راشٹر کے راستے کو آسان بنا دیں گے۔ میڈیا مودی کے پرچار میں کھڑا ہے۔ الیکشن کمیشن، بہار میں انتخابات کے دن بھی مودی کی ریلی کو ہری جھنڈی دکھا رہا ہے۔ ٹی وی چینلز’ ادبھت مودی‘جیسے پروگرام دکھا کر الیکشن کمیشن کے وقار کو تار تار کر رہا ہے۔ جب میڈیا سے الیکشن کمیشن تک مودی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، تو بھلا ادیب اور عام آدمی کی رائے سے کیا اثر پڑے گا؟ فرقہ واریت سے پھوٹے غصہ کے درمیان ایک دلچسپ خبر آج کے اخباروں میں شائع ہوئی کہ مرکزی حکومت کو ہندو لفظ کی تعریف کا بھی پتہ نہیں۔ مدھیہ پردیش کے سماجی کارکن چند شیکھر گور نے آرٹی آئی ڈال کر مرکزی حکومت سے پوچھا کہ بھارتی آئین اور قانون میں ہندو لفظ کی تعریف کیا ہے۔ اور کس بنیاد پر کمیونٹی کو ہندو سمجھا جاتا ہے۔ یا اکثریت کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ اس کا جواب مرکزی حکومت کے پاس نہیں تھا۔
گائے کے بہانے اکثریت میں فرقہ واریت کا بیج ڈالنے والی حکومت ہندو لفظ کا مطلب بھی نہیں جانتی۔ لیکن ایک معنی ہمیں معلوم ہے— ملک کا 95 فیصد ہندو فرقہ واریت ، بغض اور تشدد میں یقین نہیں رکھتا۔ اور شاید اسی لیے دادری کے زخم نے ہندوستان کی تمام زبان اور ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب ریاستی حکومت پر بھی دباؤ بنایا جانا ضروری ہے کہ وہ فرقہ واریت کی آگ میں جل رہے ملک کے لئے اپنا موقف صاف کریں۔ اور اس جنگ میں سامنے آئیں۔
محترم وزیراعلیٰ، ادیبوں کے احتجاج کو لے کر میرا شروعاتی تبصرہ تھا کہ اس سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ اچانک دس پندرہ دنوں کے اندر فرقہ واریت کے کاربن منو آکسائیڈ سے ایسی گھٹن اور ماحول پیدا ہوگا کہ گجراتی، کنٹر، اردو، ملیالم، ہندی کے ایک ایک کرکے سارے ادیب جمہوریت اور سیکولرزم کی حفاظت کے لئے ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں غلط تھا اور ادب نے اپنی ذمہ داری احتجاج کے طور پر قبول کی۔ اب یہ انقلاب نہیں رُکے گا۔
محترم وزیر اعلیٰ، یہ ملک جیسے ہمارا ہے، ویسے آپ کا بھی ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ صرف دادری جاکر، متاثرین سے ملنا ایک فار میلٹی ہے۔ یہ موقع ہے، جب ہم آپ کو کھل کر فرقہ واریت کی مخالفت میںسامنے آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہندوتو کے نام پر فاشسٹ تنظیموں اور حکومت نے ملک کی بولی لگا دی ہے۔ مودی کے سیاسی غیر ممالک دوروں کے باوجود انویسنمنٹ کرنے والے سرمایہ دار ملک کی حالت کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اور اس سے گھبرا کر ارون جیٹلی کو دادری حادثے کی مذمت کرنی پڑی۔ لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ جیٹلی کا یہ بیان محض سیاسی ہے۔
محترم، اگر آپ ہماری حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آئے تو ہمارے پاس ایک راستہ بچتا ہے۔ ساہتیہ اکادمی کے بعد اب دہلی اکادمی کی باری ہے۔ ہم تمام ادیب اپنے ادبی ایوارڈ کو واپس کرنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔ خوفناک اندھیروں سے بھی ایک راستہ اجالے کی طرف نکلتا ہے۔ ابھی ہم صرف احتجاج کر رہے ہیں۔ ضرورت پڑی تو ہم سڑکوں پر بھی آجائیں گے۔ یہ ادب کا احتجاج ہے اور اسے روک پانے میں بڑے بڑے تاناشاہ بھی ناکام رہے ہیں۔
آپ کا— مشرف عالم ذوقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker