ہندوستان

چنئی میں SDPIقومی ورکنگ کمیٹی اجلا س کا انعقاد

ملک کے اہم مسائل پر تبالہ خیال
چنئی،۲۴؍نومبر:(پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی قومی ورکنگ کمیٹی اجلاس چنئی میں 23نومبر کو ہوٹل میٹرو مینار میں منعقد کی گئی جس میں پارٹی سے متعلق مسائل پر غور کرنے کے ساتھ عوامی اہمیت کے مسائل پر غور کیا گیا۔پارٹی قومی صدر اے سعید کی صدارت میں ہوئے اس اجلاس میں ، قومی نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین، محترمہ پروفیسر نازنین بیگم، قومی جنرل سکریٹریان افسر پاشاہ، الیاس تمبے، تمل ناڈو ریاستی صدر تہلان باقوی ، ریاستی نائب صدر نیلائی مبارک ، ریاستی جنرل سکریٹریان نظام محی الدین، عبدالحمید، ریاستی سکریٹری عبدالستارسمیت قومی ورکنگ کمیٹی اراکین شریک رہے۔ ورکنگ کمیٹی اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی قومی صدر اے سعید نے کہاکہ پارٹی قومی ورکنگ کمیٹی اجلاس میں مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ 8نومبر کو 86.4%فیصد کرنسی کو منسوخ کرکے عام لوگوں میںبے مثال خوف وہراس اور عدم تحفظ کاماحول پیدا کیا گیا تھا اس پرچرچاکیا گیا۔ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ سنکی اورآمرانہ تھا جس سے ملک بھر کے عوام کو بے مثال تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے ملک کے جمہوری نظام کو زک پہنچا ہے۔ Capitalism کی حمایت کی حد ہوگئی کہ چند کروڑ پتیوں کے 7,104 کروڑ روپئے کو Bad Loansقرار دیکر معاف کردیا گیا ہے جبکہ بدقسمتی سے دوسری طرف چھوٹے زرعی کسان چھوٹے موٹے قرضہ کی وجہ سے خود کشی کا ارتکاب کرنے پر مجبور ہیں۔مرکزی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں ، منصوبوں اور عوام پر جعلی مسائل تھوپ کر اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش سے ملک ناپسندیدہ حالات سے دوچار ہے۔ یکساں سول کوڈ ان میں ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ملک کے ثفاقتی، علاقائی اور مذہبی تنوع کو نشانہ بنا کر ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ یکساں سول کوڈ معاملے میں مرکزی حکومت کے اقدامات سے ملک کی آبادی کی اکثریت میں ایک ہل چل پیداہوئی ہے۔ حراستی ہلاکتیںاور فرضی انکاوئنٹرانصاف کی فراہمی کے آسان اور متبادل ذریعہ بن گئے ہیں۔حالیہ دنوں میں ملکانگری میں 39افراد اوربھوپال سینٹرل جیل کے 8انڈر ٹرائل کا جو قتل ہوا ہے وہ قانون کی حکمرانی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اختلافی فرقوں اور ان کے آوازوں کے خلاف بے شرمی سے حملے کئے جارہے ہیں۔ اسلامک ریسرچ فائونڈیشن اور اس کے سربراہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر UAPAقانون کے تحت کارروائی کرنا اور دوسری طرف سری رام سینا، ہندو یوا واہنی،سناتھن سمستھا، وغیرہ جو نفرت اور تشدد کے کھلے ایجنڈے پر عمل در آمد کررہے ہیں ان کے معاملے میں خاموشی اختیار کرلیا گیا ہے اور آرایس ایس۔ بی جے پی کے کارکنوں اور ان کے رہنمائوں کو اشتعال انگیزی ، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور ملک کی سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ NDAحکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کا کام انجام دیا جارہا ہے لیکن اب اس کو مجوزہ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2016کی طرف سے اسے ادارہ جاتی شکل دی جارہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی اپنے قیام کے شروع دن سے ہی بھارت میں فرقہ وارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے گٹھ جوڑ کی طرف سے پیدا لعنت کے خلاف لڑتی آرہی ہے تاکہ قانون کی حکمرانی اور سماجی جمہوریت قائم کی جاسکے اورعوام کو متحد کرکے آئین اور جمہوری اقدار کوملک میں صد فیصد لاگو کیا جاسکے۔ قومی ورکنگ کمیٹی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بھارت کو ایک منصفانہ جمہوری ملک بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker