شعر و ادبمضامین ومقالات

مولاناسعیداحمداکبرآبادی ؛ماہ نامہ برھان کے اداریوں کے حوالے سے

محمد عامر مظہری قاسمی aamir-mazhari
استاذ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے
متعلم ایم اے ، مانو دربھنگہ
بیسویں صدی کے اوائل میں آسمانی علم و ادب پر جو عظیم ہستیاں نمودار ہوئیں اور جن کی علمی و ادبی صلاحیتوں نے اردو و ادب کو امتیازی شناخت سے روشناس کرایا، یوں تو ہمارے سامنے ان کی ایک لمبی فہرست ہے ، جن کو سرے سے نظر انداز کر دینا اردو ادب کی تاریخ کے ساتھ کھلی ہوئی ناانصافی کے مترادف ہوگا، لیکن ان سب میں جن لوگوں نے اردو ادب میں جگہ بنائی، یا جن کی وجہ سے اردو ادب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا، ان میں ایک نہایت معتبر اور قابل رشک نام مولاناسعیداحمداکبرآبادی کا بھی ہے ، مولاناسعیداحمداکبرآبادی کو بھلے ہی آج کی نسل ایک بہترین عالم دین، بزم قاسمی کے مایہ ناز سپوت، حلقہ علماء کا ایک امتیازی نام جانتی ہو، مگر اس حقیقت سے کم لوگ ہی جانتے ہو ں گے کہ مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے گوشۂ ادب کو سنوارنے اور اردو و ادب کے معیار کو بلند کرنے میں اپنی جن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور جس خود اعتمادی کے ساتھ انہوں نے اردووادب کی زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اس کی مثالیں تاریخ اردووادب میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ مولاناسعیداحمداکبرآبادی کی سب سے بڑی خوبی اس حوالے سے یہ تھی کہ انہوں نے قدیم و جدید کے منظر نامہ کو نہ صرف قریب سے دیکھا اور پرکھا تھا، بلکہ دونوں کے تقاضوں سے باخبر رہتے تھے ، مولاناسعیداحمداکبرآبادی کی زندگی سے جڑی تاریخی سچائیوں کے مطابق وہ 9 نومبر 1908 میں ایک ایسے خانوادے میں پیدا ہوئے جن کی علمی اور تہذیبی قدریں عام طور پر سند کی حیثیت رکھتی تھیں، ان کے والد ڈاکٹر محمد ابرار احمد حسین اور والدہ شمس النساء کی خصوصی توجہ اور ابتدائی رہنمائی نے نہ صرف مولاناسعیداحمداکبرآبادی کے اندر حصول علم کے لگن کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں ایسا علمی ماحول میسر آیا، جس سے انہیں علمی میدان میں آگے بڑھنے کے تمام مواقع فراہم کردیے ، گھریلو ماحول میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پہلے مدرسہ امدادیہ مرادآباد اور پھر دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں انہوں نے علامہ انور شاہ کشمیری ؒ، مولانا عزیز الرحمان عثمانی ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ، مولانا اعزاز علی ؒ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ، مولانا رسول خانؒ، مولانا عبد السمیع ؒ اور مولانا سراج رشید ؒ جیسے اصحابِ علم و فضل سے اکتساب فیض کیا، اور انہی برگزیدہ ہستیوں کی خصوصی توجہات نے مولاناسعیداحمداکبرآبادیؒ کو میدان علم و ادب کا ایک منفرد نام بنا دیا، مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا، یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ادب کے میدان میں قدم رکھا ماہ نامہ “البرہان” کی ذمہ داری نبھانے کا سفر شروع کیا تو ان علوم نے قدم قدم پر آپ کا ساتھ دیا ، پھر آپ نے دنیا ئے ادب کے سامنے برہان کے پلیٹ فارم سے ادب کے جو نمونے پیش کیے اس پر آج تک دنیائے ادب نازاں ہے ، مولاناسعیداحمداکبرآبادی کا ادبی ذوق اتنا نکھرا سا تھا کہ جب اور جس موضوع پر بھی چاہتے اپنی صلاحیتوں کے جوہر بکھیر سکتے تھے ، ان کا اپنا ایک انداز تحریر اور طرز فکر تھا جس کے وہ خو د موجد تھے اور عامل بھی، ادب کے میدان میں یوں تو ایک دوسرے کے پیچھے چلنے کی روایت عام ہوتی ہے ، مگر اس میدان میں مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے اپنے لیے جو راہ متعین کی وہ خو د ان کے اپنے بنائے ہوئے تھے ، تاہم شبلی کے اسلوب سے صرف فائدہ اٹھایا تھا، اور ادب کے میدان میں بے باکی اور برجستگی ان کی شناخت تھی، اور ان کے دیگر امتیازات میں سے ایک امتیازی پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنے قلم کو حالات کا شکار نہیں ہونے دیا، جن کی شہادتیں ماہ نامہ “البرہان” کے ادریے سے ملتی ہیں، جب ماہنامہ “برہان” کے اداریے کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا اداریہ محض اداریہ ہی نہیں بلکہ ان کی انقلابی فکر کا ایسا عکاس تھا جس کے ذریعے انہوں نے خوابیدہ قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی، آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد انہوں نے اپنی قلمی صلاحیتوں کے ذریعے جس انداز سے مسلم قوم کو ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ،وہ اپنی مثال آپ ہے ، مولانا کی انہی افکار و نظریات کی بنیاد پر ان کو جید علماء کی فہرست میں اہم مقام حاصل رہا ہے ، مذہبی تنگ نظری، اور تعصب ان کو کبھی نہیں بھائی بلکہ دور جدید کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھ کر اسلامی تعلیمات کے قالب میں ڈھلنے کے قائل رہے ، جس کی حقیقتوں کو ہم ان کے اداریے میں تلاش کر سکتے ہیں۔ مولاناسعیداحمداکبرآبادی اپنی زندگی میں تھک ہار کر بیٹھ جانے کے قائل نہیں تھے ، وہ اپنی بلند نگاہوں سے زمانے کے الٹ پھیر کو دیکھ کر گردش ایام کا مطالعہ کرکے زندگیوں کے حقیقتوں کو بھاپنے اور پھر اپنی قلمی صلاحیت سے ایسے نتیجے تک پہنچنے کا منصوبہ طئے کرتے ، جو قوم کو عزت و سربلندی کے اعلی مقام تک پہونچا سکے ، آپ نے اپنی زندگی کو کنویں کے اندر سے نہیں بلکہ کائنات کے وسعتوں میں رہ کر دیکھا، یہی وجہ ہے کہ سر سید اور مولانا قاسم نانوتھوی کو ایک ہی سکہ کے دو رخ کے طور پر دکھتے تھے ، اور ان دونوں کے فکروں میں مسلم قوم کیلئے امید کی نء کرن دکھائی پرتی تھی، شاید ان کا یہ احساس تھا کہ جس نے انہیں ایک موقع پر یہ لکھنے پر مجبور کر دیا تھا کہ ’’سرسیدؒ اور مولانا قاسم نانوتویؒ کے عہد میں اور ان کے بعد مسلمانوں میں متعدد مفید اور عہد آفرین اور مذہبی اور غیر مذہبی تحریکیں پیدا ہوئیں، لیکن غور کیجئے ان سب کا منبع اور سرچشمہ دیوبند اور علیگڑھ کی تحریک ہیں، افسوس ہے کہ یہ دونوں تحریکیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ اپنے اپنے ڈگر پر چلتی رہیں، اس لیے اس صورتحال سے نقصان بھی کچھ کم نہیں پہنچا، اگر دونوں ایک ساتھ د دوش بدوش ہو کر چلتیں تو آج پورے عالم اسلام میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا مشکل ہی سے کوئی جواب ہوسکتا تھا ‘‘۔(نظرات، جنوری 1970 شمارہ نمبر 1 ص 7 جلد 64 )
مولاناسعیداحمداکبرآبادی کو قدرت نے ادب کی جن باریکیوں سے سرفراز کیا تھا، اس نے اپنے وقت کے مایہ ناز ادیبوں کو بھی ان کی طرز نگارش کا قائل بنا دیا تھا، چنانچہ مولانا ابو الحسن علی میاں ندویؒ نے مولاناسعیداحمداکبرآبادی کے طرز نگارش پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’مولاناسعیداحمداکبرآبادی کو لکھنے کا بڑا سلیقہ تھا، انہوں نے مولانا شبلی کے اسلوب سے زیادہ فائدہ اٹھا یا اور ان کی تحریروں میں اس کا رنگ جھلکتا ہے ، جیسا کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’میری محسن کتابیں‘‘ میں اس کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے مولانا شبلی سے دینی مطالب کو ادا کرنے کا سلیقہ اور حوالہ دینے کا اعتماد سیکھا، اور اس کے ساتھ جب ندوۃ المصنفین کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے بڑے مصنفین میں سے تھے ‘‘( تعمیر حیات، جولائی 1985 مولانا علی میاں ندویؒ کاتعزیتی بیان)
مولانا سید صلاح الدین عبد الرحمن بھی مولاناسعیداحمداکبرآبادی کے اسلوب کے بارے میں کم و بیش ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے ،وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ’’وہ ایک ممتاز اہل قلم کی حیثیت سے بھی مشہور ہوئے ، ان کی زبانی بار ہا سنا ہے کہ وہ شروع سے مولانا شبلیؒ اور دار المصنفین کی تصانیف سے متاثر رہے ، دیوبند کے دور طالب علمی کے زمانے میں ان کے پاس ان کتابوں کو دیکھ کر وہاں کے طلباء اور اساتذہ کو تعجب ہوتا تھا، اور یہ کہنے میں یہ تامل نہیں ہے کہ ان کی ذات ان کی تحریروں پر دبستان شبلی کا بڑا اثر رہا ہے ، جس کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ بھی ہے کہ جب مولانا حفظ الرحمن اور مولانا عتیق الرحمن عثمانی نے مل کر ایک ادارہ قائم کیا اور اس کی تاسیس میں ان کو بھی شریک کیا گیا تو دار المصنفین ہی کی تقلید میں اس کا نام “ندوۃ المصنفین” رکھا گیا، اور پھر ان کی ادارت میں رسالہ’’برہان ‘‘ندوۃ المصنفین سے نکلنا شروع ہوا تو معارف ہی کی طرح خاص خاص عنوانات رکھے گئے ‘‘(تعمیر حیات جولائی 1985 ص ا98)
مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے ماہنامہ برہان میں زیادہ تر تاریخ اسلام کو موضوع بنایا، دینیات اور اسلامی موضوعات میں انہیں اختصاص کا درجہ حاصل تھا، وہ مسلمانوں کے سامنے ان کے اسلاف کی خوبیوں اور خرابیوں کو بتا کر ان کو صراط مستقیم پر لانا چاہتے تھے ، مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے اپنے اداریے بنام ’’نظرات‘‘میں ملت اسلامیہ کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس پر مولاناسعیداحمداکبرآبادی نے قلم نہ اٹھایا ہو، مہتم بالشان مسائل و معاملات پر فکر انگیز اداریے لکھتے جس کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، معاشی، علمی اور تمدنی پستی کا علاج و حل پیش کر نا تھا ، اور مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت کو سنوارنے اور ترقی کی جانب گامزن کرنے کی کوشش کی۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker