مضامین ومقالات

اکیسویں صدی اور فکری انقلاب

حسن مدنی ندوی (مدینہ منورہ)
ہر زمانے میں فلسفہ کا ایک نمایاں مقام رہا ہے ،خواہ وہ دینی طبقہ میں ہو یا سیاسی و سماجی طبقہ اس سے متاثر ہو لیکن اسکی ابتدا ئی حیثیت سے اکثر وبیشتر حضرات ناواقف ہیں ،یہی بنیاد ہے جس نے موجودہ دورمیںامت کو فکری زوال کے جانب گامزن کرایا ، دراصل فلسفہ کی بنیاد مذہبی اصطلاحات کو عقلی ادراک سے موازنہ کرنا تھا اور جو باتیں عقلی دائرہ سے ماورا تھیں انکا انکار تھا ،اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے یونانی دانشوروں نے فلسفہ کی بنیاد رکھی اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ نکتہ عیاں ہوتا ہے کہ بیشتر ابتدائی فلاسفہ نے مذہب کا عقلی قیاس کے بر عکس ثابت ہونے پر انکار کیا اور یہاں تک کہ خدائی طاقتوں کا انکار کیااور ما وراء العین اشیاکو اور غیبیات کو لایعنی قرار دیا ،ان میں بالخصوص سقراط اورارسطو، نیشتیہ اور ہیگل وغیرہ سر فہرست ہیں ،اور یہاں طغیانی طاقتوں کو بڑی حد تک اس فن میں کامیابی ملی ،فن اس لئے کہ علم کی بنیاد مذہب پر ہوتی ہے اور اس سے علیحدہ تمام علوم ایک فن کی حیثیت رکھتے ہیں ،لہذا یہ فن رفتہ رفتہ علم کا روپ دھارنے لگا اور اسلام کی طلسماتی ہوا چلنے کے بعد اس مسلم دانشوران نے باضابطہ اس فن کو علم کی حیثیت سے پیش کیا ،ابن العربی سے لیکر ابن خلدون تک اور رومی سے لیکر غزالی تک اور فارابی سے لیکر ابن سینا تک عظیم دانشوران نے امت کو فلسفہ کا مثبت اور حقیقی معنی سے باورکرایا یہی نہیں بلکہ ما قبل سے فلسفہ میں جو بنیادی خامیاں تھیں ان میں تفکر اور تدبر کی جو محدود لکیریں تھیں ان کو حذف کر کے جدید فکری انقلاب کو فلسفہ کی بنیاد بنایا اور علوم شریعہ کے ذریعہ اس محدود فکر کو وسیع تر بنایا اور ادراک سے ماورا ایک اور جہاں کی حقیقت کا عقلی دلیلوں سے انکشاف کرایا جو آج تک قصہء پارینہ میں شمار ہوتی تھیں جن کو مذہب کے نظریات تسلیم کر نظر انداز کیاجاتا تھا اور جو حقیقت سے خالی اوہام کے نذر گردانی جاتی تھیں ، یہاں فلسفہ کی ہیبت و ہیت تبدیل ہوجاتی ہے اور اہل علم کے نزدیک ایک مقبول مقام حاصل کرتا ہے اور بے جان فلسفہ کے اندر روحانیت آتی ہے اور وہ معنوی طور پر اپنے آپ میں اسلام کیلئے ڈھال اور باطل کیلئے تلوار بن جاتا ہے ،لیکن خداوندان کفر نے ہردورمیں فکری طور پر امت کو معذورکرنا چاہااور اسی راہ و روش پر چل کرعصر حاضر میں اہالیان توحید کے ایمان و یقین پر حملہ کا نیا طریقہ ایجاد کیا اور قدیم فلسفہ کی راہ سے ہٹ کر ایک نیا جال بچھایا اور موجودہ دور میں یہ ایک آزمودہ خنجر ثابت ہوا جس نے ملت کے سینوں کو چھلنی کردیا اور متمدن زمانے میں جدید آلہ نیست ثابت ہوا ،اصطلاح میں اسکو استشراق Orientalismسے منسوب کرتے ہیں لیکن در حقیقت یہ الحاد Atheismہے ،اسکی مختلف شکلیں ہیں مختلف قسمیں ہیں جو امت کو راہ راست سے بھٹکانے کیلئے کافی کارگر ثابت ہورہی ہیں اور عصری علوم میں انکا لب لباب مخلوط ہے کہ تعلیم و ثقافت کی ابتداء دین میں شک و شبہ سے ہوتی ہے اور انتہا الحاد کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے ،یہیں پر کفایت نہیں بلکہ دینی علوم میں بھی درجہ بدرجہ اسکا امتزاج ہورہا ہے اور دینی اصولیات میں جدید اصطلاحات کے ذریعہ تنقید و ترمیم کی راہ ہموار کی جارہی ہے جس سے عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی متاثرہورہے ہیں اور فکری انحطاط کے جانب گاہ بگاہ یہ امت مائل ہورہی ہے ،لیکن افسوسناک المیہ یہ ہے کہ ان حقائق سے یگانہ و بیگانہ ہوکر عصر حاضر کے دانشوران و رہبران امت اندھی تقلیدنیز Blind faithاور شخصیت پرستی جیسے خطرناک جراثیم کی زد میں ہیں جو امت کو تباہی کے دہانے پر لانے کیلئے کھلا دروازہ ہے جس میں ہر منکر و ملحد کی آمد پر استقبال ہے ، گویا ایک آندھی ہے جس کی زد میں ہر کس و ناکس ہے اور جس سے راہ فرار نہیں ،لیکن یہاں قدیم فلسفیانہ اصطلاحات کی تقلید سے بہتر ہے عصریات سے ہمکنار ہونا اور جدید وسائل سے آشنا ہونا کیونکہ علامہ اقبالؒ کی زبان میں ایسی تقلید کی روش سے خودکشی بہتر ہے ،دستور اسلام ازل ہی سے جدت اور تمدن کے حق میں تھا اور تاریخ اسلام کے روشن صفحات آج بھی اس با ت کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہر دور میں اہالیان اسلام نے زمانے کو صحیح آئینہ دکھایا اور یہ جب ہی ممکن تھا جب وقت اور حالات کی نزاکت سے واقفیت ہو ،کیونکہ یاد رہے کہ زمانہ ہم سے ہے ہم زمانہ سے نہیں ۔
کربلبل و طائوس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے طائوس فقط رنگ
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker