ہندوستان

غیر ملکی چندہ معاملہ :بی جے پی اور کانگریس نے سپریم کورٹ سے اپیل واپس لی

نئی دہلی، 29؍نومبر

بی جے پی اور کانگریس نے غیر ملکی چندہ معاملے میں پہلی نظر میں قانون کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہرانے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپنی اپیل آج واپس لے لی ۔جسٹس جے اے کھیہڑ ، جسٹس ارون مشرا اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی تین رکنی بنچ کو ان دونوں سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کر رہے وکلاء نے بتایا کیا کہ غیر ملکی چندہ ریگولیشن ایکٹ میں 2010میں کی گئی ترمیم کے پیش نظر قانون کی خلاف ورزی کر کے مبینہ طور پر غیر ملکی چندہ قبول کرنے پر انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔بی جے پی کی جانب سے سینئر وکیل شیام دیوان اور کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے اپنی عرضی واپس لینے کی درخواست کی۔اس پر بنچ نے کہاکہ درخواستیں واپس لی گئی ہیں، اس لیے انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔دیوان نے کہا کہ قانون میں 2010میں ہوئی ترمیم کے مطابق ،ایک سیاسی جماعت کو ملا چندہ غیر ملکی تعاون نہیں ہے اگر اس کمپنی میں ایک ہندوستانی کے 50فیصد یا اس سے زیادہ شیئر ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک رجسٹرڈ کمپنی کی ہندوستانی معاون کمپنی چندہ دے سکتی ہے اور ترمیم شدہ قانون کے پیش نظر ایسے چندے کو غیر ملکی چندہ نہیں مانا جا سکتا ہے۔اس سے قبل ، 22؍نومبر کو کانگریس نے اس قانون میں اس سال کی گئی ترمیم کے ان کے معاملے پر اثرات کے بارے میں صورت حال صاف کرنے کے لیے عدالت عظمی سے وقت مانگا تھا۔کانگریس نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔کانگریس نے عدالت میں کہا تھا کہ اس سال فروری میں پیش کی گئیں ترمیم پچھلی تاریخ سے مؤثر ہیں اور ایسی صورت میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیل بے معنی ہو گئی ہے۔2010کے قانون میں لائی گئی ترمیم کا مقصد کارپور یٹ سماجی ذمہ داری کے نام پر غیر ملکی کمپنیوں سے چندے کے بہاؤ آسان بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker